بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

جیٹ جی پی ٹی سے دینی و دنیاوی مسائل میں راہنمائی حاصل کرنے کا حکم


سوال

  آج کل ایک نئی ایپ ایجاد کی گئی ہے، جس کا نام چیٹ جی پی ٹی ہے اس سے سوال کرتے ہیں، اکثر لوگ دین کے بارے میں اور دنیا کے بارے میں بھی کیا یہ درست ہے؟

جواب

انسان کی شرعی راہ نمائی کے لیے بنیادی مآخذ قرآنِ کریم اور  سنتِ مطہرہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے ان میں موجود تعلیمات کو سیکھنے، سکھانے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا انسان کو مکلف اور پابند  بنایا ہے، اسی کی بدولت انسان کو دیگر مخلوقات پر فضیلت بھی حاصل ہے اور اس  پر اجر و ثواب بھی مرتب ہوتا ہے۔ اسی تعلیم و تعلم کی وجہ سے علماء کو نبی کریم ﷺ نے انبیاءِ کرام علیہم الصلاۃ و السلام کا وارث قرار دیا ہے، لہذا اگر کسی انسان کو شرعی راہ نمائی درکار ہو تو اس سلسلے میں اہلِ علم کی طرف رجوع کا حکم ہے، اور تقویٰ و للّٰہیت سے متصف اہلِ علم حضرات مقاصدِ شریعت، زمانے کے عرف، سائل کے احوال اور معروضی حالات جیسے اضطرار، ملکی قوانین وغیرہ کو مدنظر رکھ کر روزِ محشر جوابدہی کے احساس اور ثواب کی امید کے ساتھ راہنمائی کرتے ہیں، چناں چہ قرآن کریم میں ہے:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿النحل: 43﴾

ترجمه: سو  اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔ (ترجمہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری)

 اے آئی (Artificial  Intelligence)  انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا کو جمع کرکے مرتب انداز میں پیش کرنے کاذریعہ ہے،  جو مخصوص الگورتھم (Algorithm)   کی بنیاد پر عمل کرتا ہے، یہ حقائق کو سمجھنے کے بجائے محض دستیاب اعداد  و شمار کا تجزیہ اور ان کی ترتیبِ نو، کرکے جواب  تیار کرتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں  اے آئی  (AI)  کی بنیاد پر کام کرنے والے چیٹ بوٹس مثلًا: چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی اور ڈیپ سیک وغیرہ سے دینی ودنیوی  راہ نمائی  حاصل کرنے میں تفصیل درج ذیل  ہے:

1۔ اے آئی (AI) مستند دینی راہ نمائی دینے والے کا متبادل نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ دین کی حقیقی روح اور  گہرائی کو سمجھے بغیر محض دستیاب مواد میں سے معلومات فراہم کرتا ہے، جب کہ دینی راہنمائی کے لیے عقل و شعور، بصیرت اور جن  قلبی کیفیات اور انسانی صفات کی ضرورت ہوتی ہے، وہ مشین میں ممکن ہی نہیں۔  

2۔ شرعی راہ نمائی کے لیے اے آئی (AI)  کی  فراہم کردہ معلومات پر  مطلقًا اعتماد کرنا درست نہیں، کیوں کہ اس کا جواب منتشر معلومات اور مختلف اقوال کا ایک خود کار اور غیر مصدقہ  مجموعہ ہے،    جس کے صحیح ہونے کی شرعًا کوئی ضمانت نہیں؛  لہٰذا اس کی حیثیت مستند دینی مرجع کی نہیں  بن سکتی۔

3۔ صحیح او ر غلط میں تمییز کی پختہ صلاحیت رکھنے والے اہلِ علم کے لیے تفسیر و حدیث اور شرعی مسائل وغیرہ کی تحقیق میں اے آئی (AI) کو  معاون کے طور پر استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

4۔ اے آئی (AI) کو  عام معلومات حاصل کرنے، حوالہ جات  تلاش کرنے، عبارات و مضامین کے ترجمے، ترتیب، تفہیم و تلخیص وغیرہ  اور دیگر جائز امور کے لیے   استعمال کرسکتے  ہیں،  تاہم اس کی فراہم کردہ معلومات کی درستگی سے متعلق اُس موضوع کے ماہرین سے رجوع کرلینا  چاہیے۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"فقيل فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ أي أهل الكتاب من اليهود و النصارى قاله ابن عباس والحسن والسدي و غيرهم، وتسمية الكتاب تعلم مما سيأتي إن شاء الله تعالى، و عن مجاهد تخصيصه بالتوراة ... و استدل ‌بها ‌أيضا ‌على ‌وجوب ‌المراجعة للعلماء فيما لا يعلم."

(سورة النحل، ج:7، ص:386، ط:دار الكتب العلمیة)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(وعن ابن سيرين) : وهو محمد بن سيرين ... (قال: إن هذا العلم دين) : اللام للعهد، وهو ما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم لتعليم الخلق من الكتاب والسنة وهما أصول الدين (فانظروا عمن تأخذون دينكم) : المراد الأخذ من العدول والثقات."

(كتاب العلم، ج:1، ص:336، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضا:

"وعن جندب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال في القرآن برأيه فأصاب فقد أخطأ". رواه الترمذي، وأبو داؤد.
و في شرحه: (من قال في القرآن) أي: في لفظه أو معناه (برأيه) أي: بعقله المجرد (فأصاب) أي: ولو صار مصيبا بحسب الاتفاق (فقد أخطأ) أي: فهو مخطئ بحسب الحكم الشرعي. قال ابن حجر أي أخطأ طريق الاستقامة بخوضه في كتاب الله بالتخمين والحدس لتعديه بهذا الخوض مع عدم استجماعه لشروطه، فكان آثما به مطلقا، ولم يعتد بموافقته للصواب لأنها ليست عن قصد ولا تحر."

(كتاب العلم، ج:1، ص:310، ط: دار الفكر)

شرح عقود رسم المفتی میں ہے :

"وقد رأيت في فتاوى العلامة ابن حجر، سئل في شخص يقرأ ويطالع في الكتب الفقهية بنفسه، ولم يكن له شيخ، ويفتي ويعتمد على مطالعته في الكتب، فهل يجوز له ذلك أم لا؟

فأجاب بقوله: لا يجوز له الإفتاء بوجه من الوجوه؛ لأنه عامي جاهل لا يدري ما يقول، بل الذي يأخذ العلم عن المشايخ المعتبرين لا يجوز له أن يفتي من كتاب، ولا من كتابين، بل قال النووي الله ولا من عشرة؛ فإن العشرة والعشرين قد يعتمدون كلهم على مقالة ضعيفة في المذهب، فلا يجوز تقليدهم فيها، بخلاف الماهر الذي أخذ العلم عن أهله، وصارت له فيه ملكة نفسانية، فإنه يميز الصحيح من غيره، ويعلم المسائل وما يتعلق بها على الوجه المعتد به فهذا هو الذي يفتي الناس ويصلح أن يكون واسطة بينهم وبين الله تعالى، وأما غيره، فيلزمه إذا تسوّر هذا المنصب الشريف التعزير البليغ والزجر الشديد الزاجر ذلك لأمثاله عن هذا الأمر القبيح الذي يؤدي إلى مفاسد لا تحصى."

(لا بد من التفقه لدی استاذ ماهر ، ص : 18/19، ط : البشری)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144701102104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں