بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ میں بھائیوں کا حق ہے یا نہیں؟َ


سوال

ہم  پانچ  بھائی  باپ  کے مرنے کے بعد اکٹھا رہ رہے  ہیں، پانچ بھائیوں میں سے تین ملازمت پیشہ ہیں اور دو زمین داری سے  منسلک ہیں، پیشے  کے لحاظ  سے  میں  پاکستان آرمی میں بطور  سپاہی  بھرتی ہوا اور  2008  میں ریٹائرڈ  ہوا، فوجی ادارہ  کی طرف  سے  ریٹائرمنٹ پر    مجھے  یک مشت کچھ رقم ملی ہے جس کو جی پی فنڈ یا سی  پی فنڈ کہتے ہیں ۔ اب میرے بھائی جو کہ زمینداری سے  وابستہ ہیں،  مجھ سے اس رقم میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ کیا ان بھائیوں  کی میرے ساتھ اس فنڈ میں شراکت ہے  یا  کہ یہ میرا اپنا اختیار ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں سائل کو  جو ریٹائرمنٹ پر رقم آرمی کی طرف سے ملی ہے  وہ  سائل کی ذاتی ملیکیت ہے اس میں بھائیوں کا حصہ نہیں ہے؛  لہذا مذکورہ بھائی کا مطالبہ درست نہیں ہے،  البتہ  جی پی فنڈ  کی مکمل رقم  سائل کے لیے حلال ہے یا نہیں، اس میں کچھ تفصیل ہے جو مندرجہ ذیل ہے:

سرکاری اور  نجی اداروں کی طرف سے ملازمین  کے لیے پراویڈنٹ فنڈ  کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اور اس فنڈ میں شمولیت کے لیے  ملازمین کی تنخواہ میں سے کچھ فیصد کٹوتی کرکے ہر ماہ اس فنڈ میں جمع کرلی جاتی ہے اور ریٹائرمنٹ کے وقت کمپنی جمع شدہ رقم اضافہ کے ساتھ ملازم کو دے دیتی ہے، اس کی چند صورتیں ہیں:

پراویڈنٹ فنڈ کی رائج صورتیں:

1-  بعض ادارے اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتے ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں دیتے، ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔

2-  بعض اداروں کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا ، بلکہ ملازمین کو اختیار ہوتاہے کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کی جاتی رہتی ہے۔

3-  بعض ادارے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔

مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:

1-  پہلی صورت ( جبری کٹوتی)  کا حکم یہ  ہے کہ یہ فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے،  اس لیے ملازم نے اپنی رضامندی سے رقم جمع نہیں کروائی، ادارہ اس سے جس طرح بھی نفع کمائے ملازم اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا، اور قانوناً وشرعاً ابھی تک مذکورہ رقم اس کی ملکیت میں بھی نہیں ہوتی ؛ لہٰذا اس کے لیے اضافی رقم لینا جائز ہوگا۔ البتہ اگر کوئی احتیاطاً یہ رقم استعمال نہ کرے تو یہ تقوے کی بات ہے۔

2-  دوسری  قسم (اختیاری کٹوتی)  کا حکم یہ ہے کہ ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے اور جتنی رقم ادارے نے اپنی طرف سے شروع میں اس کے ساتھ جمع کی ہے وہ  جمع  شدہ رقم وہ  لے  سکتے ہیں، اس سے زائد رقم (جو انٹرسٹ کے نام سے بعد میں حاصل ہوتی ہے، وہ) لینا شرعاً جائز نہیں ہوتا ؛ کیوں کہ اس صورت میں ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کرواتاہے، گویا وہ اپنی جمع شدہ رقم کو سودی انویسٹمنٹ میں صرف کرنے پر راضی ہوتاہے، لہٰذا یہ اضافہ  لینا جائز نہیں  ہوگا؛ کیوں کہ سودی معاملے پر رضامندی بھی ناجائز  ہے۔

3-  تیسری صورت ( جبری واختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ جتنی کٹوتی جبراً ہوئی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہوتا ہے اور جتنی رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم لینا جائز نہیں ہوتا ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں