بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تنخواہ میں سے جی پی فنڈ کی مد میں جبری کٹوتی پر ملنے والے نفع کا حکم


سوال

ہم سرکاری ملازم (ٹیچر) ہیں۔ ہماری ملازمت کے دوران حکومت ہر ماہ ہماری تنخواہ میں سے جی پی فنڈ (General Provident Fund) کے نام سے ایک مخصوص رقم ازخود کاٹ لیتی ہے۔ یہ کٹوتی ہماری مرضی یا اختیار کے بغیر سرکاری ضابطے کے تحت کی جاتی ہے، لہٰذا اس میں ہماری رضا یا انتخاب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

حکومت اس جمع شدہ رقم پر وقتاً فوقتاً ایک مقررہ شرح کے مطابق نفع بھی شامل کرتی رہتی ہے۔ ملازمت کی مدت مکمل ہونے یا ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کو اس کی اصل جمع شدہ رقم اور اس پر حکومت کی طرف سے دیا گیا نفع ایک ساتھ ادا کر دیا جاتا ہے۔

مثلاً ہمارے ایک دوست اب ریٹائر ڈ ہو رہے ہیں۔ ان کی ملازمت کے دوران جی پی فنڈ کی مد میں تنخواہ سے کاٹی گئی، اصل رقم تقریباً چار لاکھ روپے سے کچھ زائد بنتی ہے، جب کہ حکومت کی طرف سے نفع شامل کرنے کے بعد انہیں مجموعی طور پر تقریباً چوبیس لاکھ روپے سے زائد رقم مل رہی ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ جی پی فنڈ کی اصل رقم کے ساتھ حکومت کی طرف سے دیا جانے والا یہ اضافی نفع وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ لوگوں کی ماہانہ تنخواہ سے جو رقم  آپ کے اختیار کے بغیر  جبری طور پر جی پی فنڈ کی مد میں  کاٹی جاتی ہے، ملازمت ختم ہونے کے بعد تنخواہ سے  کاٹی ہوئی اصل رقم  پر ملنا والا اضافی نفع وصول کرنا   حلال ہے،سود نہیں ہے،اسے  لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"قوله:(بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها."

(کتاب الاجارۃ،ج:7،ص:300،ط:دار الکتاب الاسلامی)

جواہر الفقہ میں حضر ت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ اس مسئلہ سے متعلق لکھتے ہیں:

" جبری پراویڈنٹ فنڈ پہ سود کے نام پر جو رقم ملتی ہے ،وہ شرعًا سود نہیں، بلکہ اجرت(تنخواہ)ہی کا ایک حصہ ہے اس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ، البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس میں تشبہ بالربوا بھی ہے اور ذریعہ سود بنا لینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لیے اس سے اجتناب کیا جائے۔"

(ج:3،ص:257،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں