
میں ایک ذاتی مسئلے کے بارے میں آپ سے شرعی رہنمائی اور واضح فتویٰ حاصل کرنا چاہتا ہوں، جس نے میرے گھر میں الجھن اور اختلاف پیدا کر دیا ہے۔مسئلہ کچھ یوں ہے:میرے سسرال میں ’’گود بھرائی‘‘ کی ایک تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ رسم بنیادی طور پر ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمیں بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ مزید الجھن کی بات یہ ہے کہ یہ تقریب 11 ربیع الاول کو رکھی گئی ہے، اور اسی دن لنگر کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے، یہ صورتِ حال ایسا تاثر دیتی ہے گویا 12 ربیع الاول کی خوشی کا کوئی متبادل یا مشابہ عمل ہو، کیوں کہ وقت اور ترتیب میلاد کی مناسبت سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ میرے سسرال والے عمومی طور پر دعوتِ اسلامی کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں اور اسی کے مطابق تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔جب میں نے اپنی بیوی کے ساتھ اس پر اعتراض ظاہر کیا کہ اس تقریب میں شرکت یا وہاں کھانے سے گریز بہتر ہےتو بات بحث و تکرار اور رنجش تک پہنچ گئی۔میری گزارش ہے کہ ا س بارے میں شرعی طور پر واضح فتویٰ عطا فرمائیں کہ کیا ایسی تقریب میں شرکت کرنا جائز ہے؟ جب کہ اس کی اصل غیر اسلامی رسم (ہندو روایت) سے ہو، اور وقت بھی 12 ربیع الاول کے قریب رکھا گیا ہو؟
واضح رہے کہ گود بھرائی کی رسم کا شریعتِ مطہرہ میں کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوانہ رسم اور ناجائز ہے، لہذا خود بھی ایسی تقریب کے انعقاد سے اجتناب کرنا لازم ہے، نیز ایسی تقریب میں شرکت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
"سنن أبي داود"میں ہے:
"عن ابن عمر-رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم-: من تشبّه بقوم فهو منهم".
(سنن أبي داود، أول كتاب اللباس، باب في لبس الشهرة، 6/144، رقم: 403، ط: دار الرسالة العالمية)
"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:
"(وعنه): أي: عن ابن عمر -رضي الله عنهما- (قال: قال رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-: (من تشبّه بقوم): أي: من شبّه نفسه بالكفّار مثلاً في اللّباس وغيره، أو بالفُسّاق أو الفُجّار أو بأهل التّصوّف والصُّلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي: في الإثم والخير. قال الطِّيبيّ: هذا عام في الخَلْق والخُلُق والشِّعار، ولمِا كان الشِّعار أظهر في التشبّه ذُكر في هذا الباب. قلتُ: بل الشِّعار هو المراد بالتشبّه، لا غير".
(مرقاة المفاتيح، كتاب اللباس، 7/2782، رقم: 4347، ط: دار الفكر)
’’کفایت المفتی ‘‘میں ہے:
’’(سوال) الف :ست ماسہ کی گود بھرنا۔ ب: نوما سہ کی گود بھرنا ۔ ج: چھاج یا چھلنی میں اناج اور سوا پیسہ مشکل کشا کے نام کا رکھنا۔ د: تقسیمِ پنجیری۔ ہ: گلگلے پکانا اور رتجگا کرنا۔ و: ڈومنیوں کا ناچ گانا کرنا۔ ف: حاملہ کے لیے چوزے مٹھائی ترکاری کپڑا اور روپیہ بھیجنا۔
( جواب) الف:ہندوانی رسم ہے، مسلمانوں نے اُنہیں سے سیکھی ہے ورنہ سلف میں اس کا وجود نہ تھا- ب : ہندوانی رسم ہے- ج: یہ بھی ہندوانی رسم ہے، مگر اسلامی خیال کے ساتھ مرکب کرلی گئی ہے - چھاج یا چھلنی میں اناج اور پیسہ ڈالنا تو ہندوانی فعل ہے اور اس کو مشکل کشا کے ساتھ نامزد کرلینا بعض مسلمانوں کی ایجاد ہے- د: خالص ہندوانی رسم ہے- ہ: یہ بھی ہندوؤں سے لی گئی ہے اور اس میں تصرف کرلیا گیا ہے، ر تجگا مسلمانوں کی ایجاد ہے - و: ناچ گانا قطعاً ناجائز ہے- ز: یہ رسم بھی التزام مالا یلزم میں داخل ہے، حاملہ کے نام سے بھیجنے کا عنوان بھی غیر معقول ہے‘‘۔
(کفایت المفتی ،عنوان: استقرار حمل کے موقع پر بعض غلط رسومات، ۹/۸۲، ط: دار الاشاعت )
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100624
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن