
(gbx)Goldboxمیں انویسمنٹ کیسا ہے؟
اس پلیٹ فارم میں طریقہ کار یہ بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلے صارف اپنا اکاؤنٹ بناتا ہے اور پھر جازکیش یا ایزی پیسہ کے ذریعے اس میں رقم جمع کرتا ہے۔ اس میں کم از کم 2000 روپے سے لے کر 40,0000 روپے یا اس سے زیادہ تک سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر اگرصارف 2000 روپے جمع کر کے ایک “باکس” خریدتا ہے،توکل اسی وقت صارف کو ایک یا ایک سے زیادہ “باکسز” دیے جاتے ہیں، جن میں مختلف قسم کے انعامات یا اشیاء ظاہر کی جاتی ہیں، جیسے کہ گولڈ، بونس یا دیگر ریوارڈزہوتے ہیں ۔اگر صارف مقررہ وقت پر باکس نہ کھولے تو اسے کوئی فائدہ نہیں ملتا،اور اسی طرح کسی دوست کوشامل کرنےسے بونس مسٹری باکس(اسرار باکس) ملتاہے،نیزسائن اپ کرنےپر بھی فوراً مفت مسٹری باکس حاصل ہوتا ہے۔(یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو “بلائنڈ باکس” یا “مِسٹری باکس” سسٹم پر مبنی ہوتا ہے، جس میں پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ سرمایہ کاری کے بدلے کیا چیز ملے گی۔ اس میں سرپرائز، ری سیل اور کمائی کے دعوے کیے جاتے ہیں، اور بعض اوقات اسے آن لائن ارننگ پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے
سائل کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق 2000 روپے یا اس سے زائد رقم کا سرمایہ لگانے کے عوض " بلائنڈ باکس یا مسٹری باکس " حاصل ہوتا ، یعنی وہ فرضی باکس حاصل ہوتا ہے جو ایک مجہول انعام حاصل کرنے کی علامت ہوتا ہے۔ پھر جب انعام حاصل ہوتا ہے۔ تو وہ زیادہ قیمت یا کم قیمت کا انعام ہوسکتا ہے۔مذکورہ صورت شرعاً ناجائز ہے کیونکہ:
1۔اس میں مجہول چیز کی بیع ہے یعنی سرمایہ کے عوض مذکورہ باکس خریدا جاتا ہے۔اور اس وقت باکس میں موجود سامان خریدار کے لیے مجہول ہوتا ہے اوراس کو اس سامان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا ۔
2۔یہ ایک جوا کی شکل ہےکیونکہ 2000 روپے یااس سے زائد سرمائے کے عوض کس قیمت کی چیز ملے گی وہ متردد ہوتی ہے ،قیمتی بھی ہوسکتی اورکم قیمت بھی ۔
پس مذکورہ تفصیل کی روشنی میں Goldbox میں انویسمنٹ کرنا جائز نہیں ہے ۔
قرآن کریم میں ہے:
" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ " [سورة المائدة :90]
" إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ"(سورة المائدة:91)
” ترجمہ :اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو، شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کردے،اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے،سو اب بھی باز آؤ گے۔“(از بیان القرآن)
ابودودشریف میں ہے
"عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك."
)سنن ابی داؤد،باب فی الرجل یبیع مالیس عندہ،5/ 362، ط:دارالرسالة العالمیة(
مرقاة المفاتیح میں ہے :
"الثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد."
)باب المنهی عنها من البیوع،5 /1937، ط:دارالفکر(
الجوہرة النیرة میں ہے :
"وأما نهيه عن بيع ما لم يقبض يعني في المنقولات، وأما نهيه عن بيع ما ليس عنده فهو أن يبيع ما ليس في ملكه، ثم ملكه بوجه من الوجوه فإنه لا يجوز إلا في السلم فإنه رخص فيه."
)کتاب البیوع، باب البیع الفاسد،1/ 203، ط:المطبعة الخیریة(
البحر الرائق میں ہے:
" الميسر اسم لكل قمار."
(کتاب الشهادات، باب من تقبل شهادته ومن لا تقبل، ج:7، ص:91، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."
(کتاب الحظر و الإباحة، فصل فی البیع ج : 6، ص : 403 ،ط : سعید)
فقط وألله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101292
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن