بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گولڈ بی ایس ٹریڈنگ اور تھامس لمیٹڈ کمپنی کا حکم


سوال

گولڈ بی ایس (.Gold B.S) ایک ٹریڈنگ پلیٹ فارم ہے جو کہ رجسٹرڈ ہے اور اس میں تقریباً 2 لاکھ افراد اپنی سرمایہ کاری (Investment) کے ذریعے اپنے وکیل (تھامس لمیٹڈ کمپنی) سے سونے کی ٹریڈنگ کرواتے ہیں۔ تھامس لمیٹڈ اس ٹریڈنگ پلیٹ فارم کا سی ای او (.C.E.O) ہے، جو ہمارا سونا خریدنے اور بیچنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ سونا ہمارے قبضے میں نہیں آتا بلکہ ہم رقم کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور وکیل (تھامس) کے ذریعے آن لائن سونا خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ڈیجیٹل سگنل کے ذریعے ہم تھامس (وکیل) کو پیغام بھیجتے ہیں کہ وہ ہماری سرمایہ کاری سے رقم لے کر سونا خریدے اور آگے فروخت کر دے۔ یہ تمام خرید و فروخت ہماری زیرِ نگرانی ہوتی ہے اور ٹھیک دو تین گھنٹے بعد جتنا منافع ہوتا ہے، وہ ہمارے اکاؤنٹ میں منتقل (Return) ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پہلے ہمیں سی ای او (تھامس) کی جانب سے ٹریڈنگ سگنل موصول ہوتا ہے؛ اگر ہم وہ ٹریڈنگ سگنل بروقت استعمال نہ کریں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی سرمایہ کاری (انویسٹ) سے اسے ادائیگی (پیمنٹ) نہیں بھیجی، جس کی وجہ سے نہ سونا خریدا گیا اور نہ بیچا گیا۔اگر ہم ایک دو ماہ تک سگنل پر عمل نہ کریں اور اسے رقم فراہم نہ کریں، (انویسٹ تو ہے لیکن اس کو نہیں دیا) تو ہماری سرمایہ کاری موجود رہنے کے باوجود ہمیں ایک روپے کی بھی آمدنی و ارننگ حاصل نہیں ہوگی اور اکاؤنٹ میں موجود انویسٹ رقم ویسی کی ویسی ہی رہے گی، اس میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس ٹریڈنگ سے جو نفع حاصل ہوتا ہے، اس کا 10 فیصد بطور کمیشن "گولڈ بی ایس" کو ملتا ہے، جبکہ بقیہ منافع سرمایہ کار (ہمارے) اور تھامس لمیٹڈ کمپنی کے درمیان تناسب سے تقسیم ہوتا ہے اور نقصان بھی اسی تناسب سے ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹریڈنگ کا مذکورہ طریقہ شرعا جائز ہے؟ اس میں انویسٹ کرنے اور منافع حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سونا (Gold)، چاندی (Silver)، اور دیگر کرنسی کے باہمی کاروبار، تبادلہ اور خرید و فروخت کرنا بیع صرف کہلاتا ہے جس کے صحیح ہونے کے لیے اسی مجلس میں عوضین پر قبضہ کرنا شرط ہے (معاملہ دونوں جانب سے نقد ہو)، نیز قبضہ سے پہلے خرید و فروخت کرنا بیع قبل القبض کہلاتا ہے، اور بیع قبل القبض شرعا ناجائز اور مفسدِ عقد ہے، اگر بیع صرف میں عوضین پر قبضہ نہ ہو تو یہ ادھار ہے، اور بیع صرف میں ادھار کا معاملہ کرنا سود اور حرام ہے ۔ کرنسی، سونا اور چاندی کی آن لائن خرید و فروخت شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ ان اشیاء کی بیع درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ در ہاتھ ہو اور مجلسِ عقد میں جانبین سے عوضین پر قبضہ پایا جائے۔

صورت مسئولہ میں سائل نے گولڈ بی ایس ٹریڈنگ پلیٹ فارم اور تھامس لمیٹڈ کمپنی کے کاروبار اور معاملات کے طریقہ کار کا مختصر تذکرہ کیا ہے، مذکورہ گولڈ بی ایس اور تھامس لمیٹڈ کمپنی کے معاملات اور طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس میں سرمایہ کاری (انویسٹ) کرکے منافع حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے، جن میں سے چندوجوہات درج ذیل ہیں:

اس قسم کی ٹریڈنگ میں گولڈ اور کرنسی کا تبادلہ بیع صرف کے حکم میں  ہے، جس کے لیے اسی مجلس میں عوضین پر قبضہ شرط ہوتا ہے، جبکہ مذکورہ کاروبار میں عوضین پر جانبین کی طرف سے قبضہ کے بغیر آگے فروخت کیا جاتا ہے،لہذا یہ خرید و فروخت بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس سے قطع نظر مذکورہ معاملہ ادھار ہونے کی وجہ سے سود اور حرام ہے۔ نیز یہاں تو حقیقی سونا موجود ہی نہیں ہوتا جس کی خرید و فروخت ہو، بلکہ ایک فرضی چیز ہوتی ہے، اور فرضی چیز مال نہیں ہوتا، لہذا اس کو بیع (خرید و فروخت) کہنا ہی صحیح نہیں، کیونکہ بیع "مبادلۃ المال بالمال بالتراضی" (مال کو مال کے بدلے جانبین کی رضامندی سے خرید و فروخت کرنے کا) کا نام ہے(1)۔ اس کاروبار میں خرید و فروخت صرف ایک کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ تو قبضہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی قبضہ کرنا مقصود ہوتا ہے، بلکہ محض نفع و نقصان برابر کیا جاتا ہے، سائل کا کہنا ہے کہ ٹھیک دو ، تین گھنٹے بعد منافع اکاؤنٹ میں منتقل ہوتا ہے، اور تھامس کمپنی نفع و نقصان میں شریک ہوتی  ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ نقصان کیسے ہوتا ہے؟

نیز اگر "گولڈ بی ایس" بائع ہے تو ان کا کمیشن لینا بلا عوض ہونے کی وجہ سے سود اور حرام ہے(2)۔ اور اگر "گولڈ بی ایس" کی حیثیت بروکر کی ہے تو یہاں پر بائع ہی مجہول ہے،  جس کی وجہ سے یہ کاروبار ناجائز ہے،  عموما ٹریڈنگ کے کاروبار کو کمیشن در کمیشن چلایا جا رہا ہوتا ہے، جو شرعا نا جائز ہے(3)۔

نیز سائل کا یہ کہنا کہ "تھامس لمیٹڈ کمپنی" وکیل ہے، اور نفع نقصان میں دونوں شریک ہوتے ہیں، تو نفع و نقصان میں شریک ہونا وکالت کو فاسد کرتا ہے، کیونکہ وکیل امین ہوتا ہے، اور امانت میں بغیر تعدی کے ضمان نہیں ہوتا، لہذا یہ وکالت درست نہیں ہے(4)، نیز مذکورہ کمپنی مضارب اور بروکر (ایجنٹ) بھی نہیں ہے، کیونکہ مضاربت میں اگر نقصان ہو جائے تو وہ رب المال (مالک) کے ذمے ہوتا ہے، مضارب صرف نفع میں شامل ہوتا ہے(5)۔ اور ایجنٹ (دلال) اس وجہ سے نہیں ہے کیونکہ آڑھت اور بروکری میں ایجنٹ و دلال صرف واسطہ ہوتا ہے، اصل خرید و فروخت بائع اور مشتری براہ راست کرتے ہیں(6)، جبکہ مذکورہ طریقہ کار میں مشتری (سائل) کا اس خرید و فروخت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ  کرنسی، سونا اور چاندی کی آن لائن خرید و فروخت شرعاً درست نہیں ہے، لہذا مذکورہ طریقہ پر ".Gold B.S" (گولڈ بی ایس) اور "Thomas Company Limited" (تھامس کمپنی لمیٹڈ) اور اس قسم کے دیگر ٹریڈنگ کے معاملات ، کاروبار ، بیع و شراء اور منافع حاصل کرناشرعاً جائز نہیں ہے۔ شریعت محمدیہ نے ہمیں مشتبہ امور سے دور  رہنے کی تاکید کیساتھ تلقین کی ہے، چہ جائیکہ کہ وہ حرام اور ناجائز ہو۔اسلام نے انسان کو حلال کمانے کے معاشی اصول سکھائے ہیں، اور  حلال کمانے کیلئے محنت کی ترغیب دی ہے۔ جب ایک معاملے میں اتنے شرعی مفاسد ہوں، تو ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے، اللہ تعالیٰ اس سے بہتر اور پاکیزہ  رزق عطا فرمائے گا۔

(1) قرآن کریم میں ہے:

﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾

ترجمہ:"حالانکہ اللہ تعالی نے بیع کو حلال فرمایا اور سود کو حرام کر دیا ہے"۔ (سورت:البقرہ، آیت:275، بیان القرآن، حکیم الامت اشرف علی تھانوی)

 جواہر الفتاوی میں ہے:

"کتب فقہ میں امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے صریح روایت موجود ہے کہ عامة الناس کے اصطلاحی ثمن، حقیقی ثمن کے حکم میں ہیں، حقیقی ثمن کے جو احکام ہوتے ہیں اصطلاحی ثمن  کے لیے  بھی وہی احکام ہوں گے،... تو باتفاق ائمہ ثلاثہ حکومت کے جاری کردہ کاغذی سکّے (نوٹ) حقیقی سکّے کے قائم مقام ہوں گے ،اس واسطے جو تصرفات حقیقی ثمن میں جائز  ہوں  گے وہی تصرفات حکمی ثمن کاغذی سکوں میں بھی جاری ہوں گے(جائز ہوں گے)، اور جو تصرفات حقیقی ثمن میں ناجائز ہوں گے ،وہی تصرفات ان کاغذی سکوں میں بھی نا جائز ہوں گے… حکومت کی جانب سے جاری کردہ کاغذی سکہ (مصنوعی ثمن ) حقیقی ثمن کی طرح ہے، اسے تسلیم کرنار عایا پر لازم و واجب ہے"۔

(کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت، ج:2، ص:60-62،  ط: اسلامی کتب خانہ)

 تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"والذي يظهر لهذا العبد الضعيف ۔عفا الله عنه۔ أن قول محمد رحمه الله أولىٰ بالأخذ في زماننا، فإنه قد نفدت اليوم دراهم أو دنانير مضروبة بالفضة أو الذهب، وصارت الفلوس بمنزلتها في كل شئي، فلو أبيع التفاضل فيها ولو بتعينها لانفتح باب الربا بمصراعيه لكل من هب ودب، فينبغي أن يختار قول محمد رحمه الله، كما منع المشائخ التفاضل في العدالي والغطارفة".

(کتاب المساقاۃ والمزارعة، باب الربا،حكم العملة الرائجة، ج:1، ص:588، ط: مكتبة دارالعلوم كراچی)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"... فالبيع فاسد... وقد نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط و عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان".

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:1، ص:203، المطبعة الخيرية، الطبعة الأولى)

فتاویٰ مفتی محمود میں ہے:

"جواب:یہ تو بیع صرف ہے، اس میں اُدھار جائز نہیں۔بیع سابق صحیح نہیں ہے، فاسد ہے، اس میں جو نفع ہوا ہے خیرات کردیا جائے"۔

(سود کا بیان ، سونا ادھار پر خریدنا جائز نہیں ہے، ج:8، ص:401،ط:جمعیۃ پبلیکیشنز، لاہور) 

البحر الرائق شرح کنز الدقائق  میں ہے:

"هو مبادلة المال بالمال بالتراضي... وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه وأن يكون مقدور التسليم".

(كتاب البيع، ص:279،277، ط:دار الكتاب الإسلامي، الطبعة الثانية)

(1) (2) فتاوی ہندیہ میں ہے:

" وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال، وعلته القدر والجنس... وإن وجد القدر والجنس حرم الفضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء".

(كتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل السادس في تفسير ‌الربا، ج:3، ص:117، ط:دار الفكر، الطبعة الثانية)

(3)فتاوی شامی میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة ‌السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه".

(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج:6، ص:63، دار الفكر، الطبعة الثانية)

(4) فتاوی ہندیہ میں ہے:

"شرعا: فهو إقامة الإنسان غيره مقام نفسه في تصرف معلوم... (وأما صفتها) : فإنها من العقود الجائزة الغير اللازمة حتى ملك كل واحد من الوكيل والموكل العزل بدون صاحبه كذا في النهاية ومنه أنه أمين فيما في يده كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع ويبرأ به".

(كتاب الوكالة، الباب الأول، ج:3، ص:567،560، ط:دار الفكر، الطبعة الثانية)

(5) الموسوعہ الفقہیہ میں ہے:

" لو شرط رب المال على العامل ضمان رأس المال إذا تلف أو ضاع بلا تفريط منه كان العقد فاسدا ... العامل أمين فيما في يده، فإن تلف المال في يده من غير تفريط لم يضمن، فاشتراط ضمان المضارب يتنافى مع مقتضى العقد".

(حرف الميم، مضاربة، ج:38، ص:64، ط:دار الصفوة، الطبعة الأولى)

(6) فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: هو الدال على مكان السلعة وصاحبها) ‌لا ‌فرق ‌لغة بين السمسار والدلال، وقد فسرهما في القاموس بالمتوسط بين البائع والمشتري، وفرق بينهما الفقهاء، فالسمسار هو ما ذكره المؤلف، والدلال هو المصاحب للسلعة غالبا".

(كتاب البيوع، باب المرابحة، ج:5، ص:136، ط:دار الفكر، الطبعة الثانية)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100152

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں