بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گود لی گئی بچی کی ولدیت کے خانے میں بطور سرپرست گود لینے والے شخص کا نام لکھنے کا شرعی حکم


سوال

عرض یہ ہے کہ میں نے اپنی بہن کی بیٹی لی ،پیدائش کے آدھے گھنٹے بعد میری بہن  کا انتقال ہوگیا ،اس بچی نے اپنی ماں کاایک قطرہ بھی دودھ نہیں پیا ،میری اولاد نہیں تھی ،میری بہن نے بچی ہونے سے پہلے کہاتھاکہ  یہ  میں تجھے دوں گی ،میرے بہنوئی نے قانونی لکھت پڑھت کے بعد مجھے دے دی ،میں نے اس بچی کاپیدائش سرٹیفکیٹ بنوایا اپنے نام سے پھر   بچی کو اسکول میں داخلہ کروایا اپنے نام سے 12کلاس پڑھایا،ہرسرٹیفکیٹ پر میرااپنانام ہے ،پھر نادرہ سے ب فارم بنوایا،جب اٹھارہ سال کی ہوئی تومیں نے شناختی کارڈ بنوایا اپنی ولدیت کے ساتھ اب میں اس کی شادی کررہاہوں تو مجھے کوئی کچھ بولتاہے اور کوئی کچھ بولتاہے ،اگر میں لوگوں کی باتوں پے جاتاہوں تومیری بیٹی کے سارے سرٹیفکیٹ  بے کار ہوجائے گا اور شناختی کارڈ بھی بے کار ہوجائے گا،اور میرے بہنوئی کے پاس میری بیٹی کاڈیٹا بھی نہیں ہے ۔

اب شرعا کیاحکم ہے کہ نکاح کراتے وقت بچی کی نسبت اصل والد کی طرف کیاجائے یامیری طر ف کیاجائے ؟اگر زبانی طورپر اصل والد کی طرف نسبت کی جائے اور نکاح نامہ میں میرا نام لکھاجائے تو کیساہے ؟اگر نکاح نامہ میں بھی اصل والد کے نام لکھاگیا تو بچی کی شناختی کارڈ اور تمام تعلیمی دستاویزات خراب ہوجائیں گے۔

جواب

واضح رہے کہ گود لینے کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے،گود لی ہوئی بچی کو حقیقی اولاد کی طرح سمجھنا اور ولدیت کے خانے میں بطورِ والد گود لینے والے کا نام لکھنا شرعاً جائز نہیں،البتہ ولدیت کے خانے میں بطورِ سرپرست گود لینے والے کا نام لکھنا جائز ہے۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کہ  میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس شخص نے اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جانتے ہوئے اپنا والد قرار دیا تو اس پر جنت حرام ہے۔میں نے یہ بات حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا:میں نے بھی اسے اپنے دونوں کانوں سے سنا، اور میرے دل نے اسے رسول اللہ ﷺ سے محفوظ کرلیا۔

پس سابقہ کاغذات جن میں ولدیت کے خانہ میں گودلینے والے کانام لکھا گیاہے اگر ان کی اصلاح ممکن ہو تو اصلاح کردی جائے ،اوراگر اصلاح ممکن  نہ ہو تو  کم از کم نکاح کے وقت حقیقی والد کے نام سے نکاح پڑھایاجائے ،اور کاغذات میں غلط ولدیت درج کرنے پر صدق دل سے توبہ واستغفار کرتے رہیں ،اور ساتھ ساتھ الگ سے گواہوں کی تصدیق کے ساتھ دستاویز بناکر رکھی جائے ،جس سے یہ واضح ہو کہ مذکورہ لڑکی سائل کی نہیں ،تاکہ وراثت کی تقسیم کے مسئلے میں کوئی خلل واقع نہ ہو ،اور ترکہ حقیقی ورثاء کو مل سکے ،اور لڑکی کو بھی اپنے والدسے اس کاحق میراث مل سکے ۔

ارشاد خداوندی ہے:

"ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (5)[الأحزاب: 5]"

ترجمہ:پکارو لے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں  پھر اگر نہ جانتے ہو ان کے باپ کو تو تمہارے بھائی ہیں دین میں اور رفیق ہیں  اور گناہ نہیں تم پر جس چیز میں چوک جاؤ پر وہ جو دل سے ارادہ کرو اور ہے اللہ بحشنے والا مہربان۔(ترجمہ  از حضرت شیخ الہند)

صحيح البخاري میں ہے:

"حدثنا مسدد، حدثنا خالد، هو: ابن عبد الله، حدثنا خالد، عن أبي عثمان، عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "من ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام". فذكرته لأبي بكرة فقال: وأنا سمعته أذناي، ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم."

ترجمہ:حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:کہ  میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جس شخص نے اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو جانتے ہوئے اپنا والد قرار دیا تو اس پر جنت حرام ہے۔میں نے یہ بات حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا:میں نے بھی اسے اپنے دونوں کانوں سے سنا، اور میرے دل نے اسے رسول اللہ ﷺ سے محفوظ کرلیا۔

(کتاب الفرائض،باب من ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه،ج: 8،ص: 431،ط: دار التأصيل)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704100877

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں