
والد مرحوم کے انتقال کے بعد سرکاری گریجویٹی فنڈ میری والدہ کو ملا، اس سے والدہ نے 1970ء میں ملیر میں ایک گھر خریدا، بعد میں والدہ نے طویل عمری کے سبب اپنا مکان اپنی مکمل رضامندی سے سرکاری طریقے کے تحت تحریری طور پر مجھے گفٹ کردیا تھا، جب والدہ نے مجھے گفٹ کیا تھاتو اس وقت وہ میرے ساتھ اسی مکان میں رہتی تھیں،پھر کچھ سال بعد والدہ بڑے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں، اور وہی پر والدہ کا انتقال ہوگیا،اس گھر کے تمام اختیارات اور قبضہ بھی میرے پاس تھا،والدہ کے انتقال کے بعد میں اس گھر کو بیچنا چاہتاہوں،جب کہ میری تین بہنیں اور ایک بھائی بھی حیات ہیں۔
تو کیا مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم مکمل میری ملکیت ہوگی؟یا اس میں میرے بھائی اور بہنوں کا بھی حصہ ہے؟جب کہ والدہ نے اپنی رضامندی سے وہ مکان سرکاری طریقے سے میرے نام منتقل کردیا تھا۔
واضح رہے کہ زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے وہ شرعاً ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے، اور اولاد کے درمیان ہبہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اولاد کے درمیان ہبہ کرنے میں برابری کرنے کا حکم دیا ہے، بلاوجہ کسی کو محروم کرنا یا بعض اولاد کو زیادہ دینااور بعض کو کم دینا جائز نہیں ،البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو دےسکتا ہے، یعنی کسی کی شرافت ودِین داری یا غریب ہونے کی بنا پر یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔
لہٰذاصورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ ً آپ کی والدہ نے مذکورہ مکان آپ کو گفٹ کرتے ہوئے اس پر مکمل قبضہ وتصرف دیا تھا،اور والدہ مستقل طور پر اس گھرسے منتقل ہوکر آپ کے بھائی کے گھر شفٹ ہوگئی تھیں،اور یہ گھر آپ کے حوالے کردیا تھاتواس سے یہ ہبہ یعنی گفٹ شرعاً مکمل ہوگیاہے، لہٰذا یہ اب مکان آپ کی ملکیت شمار ہوگا۔
لیکن جب مرحومہ والدہ کی اولاد میں ایک بیٹااور تین بیٹیاں اور بھی ہیں تو ان کا یہ عمل کہ اپنی جائیداد فقط ایک بیٹے کو ہبہ کرنا اور دیگر اولاد کو محروم رکھناشرعاً دیگر اولاد کے ساتھ ناانصافی تھی، والدہ اپنے اس عمل سے گناہ گار ہوئی ،اب اس غلطی کی اصلاح اور والدہ کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے کی صورت یہ کہ دیگربھائی بہنوں کو بھی مناسب حصہ دے کر ان کو راضی کریں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»"۔
(باب العطایا، الفصل الأول، ج:2، ص: 909، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔(مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)
البحر الرائق میں ہے:
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."
(كتاب الهبة،هبة الأب لطفلة، ج:7، ص:288، ط:دارالکتب الاسلامی)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."
(كتاب الهبة، ج:5، ص:689، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة فالصريح أن يقول: اقبضه إذا كان الموهوب حاضرا في المجلس ويقول اذهب واقبضه إذا كان غائبا عن المجلس ثم إذا كان الموهوب حاضرا، وقال له الواهب: اقبضه فقبضه في المجلس أو بعد الافتراق عن المجلس صح قبضه وملكه قياسا واستحسانا، ولو نهاه عن القبض بعد الهبة لا يصح قبضه لا في المجلس ولا بعد الافتراق عن المجلس، وإن لم يأذن له بالقبض صريحا ولم ينهه عنه إن قبضه في المجلس صح قبضه استحسانا لا قياسا، وإن قبضه بعد الافتراق عن المجلس لا يصح قبضه قياسا واستحسانا، ولو كان الموهوب غائبا فذهب وقبض: إن كان القبض بإذن الواهب جاز استحسانا لا قياسا، وإن كان بغير إذنه لا يجوز قياسا واستحسانا، هكذا في الذخيرة."
(كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:377، ط:سعید)
درر الحكام فی شرح مجلۃ الأحكام میں ہے:
"تنعقد الهبة والهدية والصدقة بالإيجاب والقبول وتتم بقبض الهبة والهدية والصدقة قبضا كاملا أي بقبض الموهوب له أو نائبه ومعنى تتم أي يفيد الملكية."
(الكتاب السابع الهبة، الفصل الأول في بيان مسائل متعلقة بركن الهبة وقبضها، ج:2، ص:396، ط:دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101207
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن