بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غصہ کی حالت میں طلاق طلاق کہنا/ رجوع کا طریقہ


سوال

میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ بول دیا کہ” طلاق ، طلاق“ تو کیا اس صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟ اور  اگر ہوجاتی ہے تو دوبارہ رجوع کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب  سائل نے بیوی کو  ”طلاق، طلاق“ کے الفاظ کہے ہیں (اگرچہ شدید غصے کی حالت میں کہے)، تو اس سے  بیوی پردو طلاقیں واقع ہوگئیں،  اور اب اگر سائل اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو دوران عدت زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا،اس سے قولی طور پر رجوع ہوجائے گا،اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے، بلکہ بیوی سے تعلق قائم کرلے یاخواہش و رغبت سے اسے چھوئے یابوسہ لے لے،  اس سے بھی رجوع ہوجائے گا،  الغرض قولاً یاعملاً رجوع کرلیناکافی ہے، اور قولی رجوع کرنا اوراس پر گواہان قائم کرنا مستحب ہے۔رجوع کرنے کے بعددونوں کا نکاح برقرار رہےگا، البتہ  آئندہ کے لیے شوہر کو صرف ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويقع الطلاق من ‌غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا".

(كتاب الطلاق،‌‌ مطلب في تعريف السكران وحكمه، ج:3، ص:244، ط: سعيد)

وفیہ أيضا:

"لو أراد طلاقها تكون الإضافة موجودة ويكون المعنى فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته".

(كتاب الطلاق،‌‌ باب صریح الطلاق، ج:3، ص:248، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية".

(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:470، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعلى هذا يبنى حق الرجعة أنه ثابت للزوج بالإجماع سواء كان الطلاق واحدا أو اثنين، أما عندنا فلقيام الملك من كل وجه."

وفيه أيضا:

"وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى، ولو قال لما نكحتك أو تزوجتك كان رجعة في ظاهر الرواية."

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:180،183، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704102178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں