بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1447ھ 06 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غصے میں دی گئی طلاق رجعی اور رجوع کا شرعی حکم


سوال

میاں بیوی کے درمیان آپس میں لڑائی ہو رہی تھی، لیکن طلاق کا کوئی ذکر درمیان میں نہیں تھا۔ اچانک میرے شوہر نے کہا:"تم اپنی ماں کے گھر چلی جاؤ، میں تمہیں وہاں کاغذات (Papers) بھیج دوں گا"۔

پھر بستر پر لیٹے ہوئے، غصے کی حالت میں کہا "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق" جب دوسری مرتبہ لفظِ طلاق کہا تو میں نے ان کا منہ پکڑ لیا اور انہیں ہوش دلایا۔

اس کے بعد میرے شوہر کو بہت پشیمانی ہوئی اور وہ پریشان ہو گئے۔بعد ازاں انہوں نے مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا، اور وہ اسی وقت سے ساتھ رہنے کا کہہ رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو کتنی؟ اور اب رجوع کی کیا صورت ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اولاً جو یہ الفاظ کہے کہ "تم اپنی ماں کے گھر چلی جاؤ،میں تمہیں وہاں کاغذات بھیج دوگا"، اگر اس سے طلاق کی نیت نہیں تھی تو  ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

پھر غصے کی حالت میں جب یہ کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق"تو ان الفاظ سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے،چونکہ دوسری بار کےالفاظ  " میں تمہیں طلاق"مکمل ہونے سے قبل سائلہ نے اپنے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھ دیاتھا،لہذا اس نامکمل جملہ سے دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی،سائلہ کے شوہر کو عدت (تین ماہ واریاں اگر حمل نہ ہو، حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش )کے اندر اندر رجوع کا حق حاصل ہے ،اگر اس طلاق رجعی کے بعد  میاں بیوی ساتھ رہے ہوں ،میاں بیوی کے تعلقات قائم کیے ہوں تو رجوع ہوچکاہے،ورنہ  شوہر کو زبانی یا فعلی رجوع کا حق حاصل ہے، رجوع کرلینے کی صورت میں آئندہ کے لیے  شوہر کو فقط دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز."

(کتاب الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج: 1، ص: 354، ط: دارالفکر بیروت)

وفيه أيضا:

"الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ۔۔۔۔وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص: 468، ط: دارالفکر بیروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں