
میرا گھریلو معاملات کے حوالے سے اپنی اہلیہ سے جھگڑا ہوا تو میں نے سخت غصے کی حالت میں اپنی اہلیہ کو پانچ مرتبہ طلاق دی، طلاق کے الفاظ یہ تھے: "تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے"۔
اور یہ الفاظ کہنے سے پہلے نہ ہمارے درمیان مذاکرہ طلاق ہوا تھا اور نہ ہی بیوی کی طرف سے طلاق کا مطالبہ ہوا تھا۔
سوال یہ ہے کہ یہ طلاقیں نافذ ہوچکی ہیں یا نہیں؟ اور ہم دونوں میاں بیوی ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
ایک ساتھ یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت ہے، ایسا کرنے والا سخت گناہ گارہے، جس کی وجہ سے صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے، تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں، نیز غصے کی حالت میں بھی طلاق کے صریح الفاظ کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے خواہ طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو اور خواہ طلاق کے الفاظ کہنے سے پہلے طلاق کا مذاکرہ یا مطالبہ ہو یا نہ ہو ۔ اس لیے آپ نے اپنی بیوی کو جو طلاق کے صریح الفاظ کہے کہ " تجھے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے" ان الفاظ کی وجہ سے آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، آپ دونوں کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ قائم ہوچکی ہے، اب رجوع یا تجدید نکاح کی گنجائش نہیں ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا."
(کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، ج:1، ص:349، ط: رشيدية)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاعَ الثلاث معًا وإِن كانت معصية."
(ج:1، ص:529 ، ط: قدیمی)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) ... (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ... (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا).
(قوله: ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية، وما استعمل فيها استعمال الطلاق وغيره فحكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام بحر ... (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر ... (قوله: أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية."
(كتاب الطلاق،باب الصريح، ج:3، ص:247، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه، الثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اهـ ملخصاً من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافاً لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:244، ط: سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 1، ص:472، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100955
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن