بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

غصہ کی حالت میں کیا کرنا چاہیے؟


سوال

غصہ کی حالت میں ہمیں  کیا کرنا چاہیے؟

جواب

غصے کی حالت میں درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں، جس وقت غصہ آئے تو،  اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں، یا وضو کرلیں، یا پانی پی لیں، کم از کم اس مجلس سے اٹھ کر کسی کام میں مشغول ہوجائیں، اور اس وقت یہ خیال کرے کہ اگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ پر ایسا غصہ کرے گا تو میرا کیا حال ہو گا، اس خیال سے غصہ قابو میں آ جائے گا۔

غصہ کے وقت ’’اعوذ باللّٰه من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھنا چاہیے،حدیث شریف میں ہے کہ  اس سے غصہ ٹھنڈاپڑجاتاہے۔(معارف الحدیث، جلد: 5، صفحہ: 157، طبع:درالاشاعت)

نیزقرآن کریم کی آیت’’وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ‘‘(آل عمران 134)پڑھتے رہناچاہیے۔اوریہ آیت کریمہ غصہ کے علاج کے لیے پانی پر دَم کرکے بھی پی سکتے ہیں۔(قرآنی مستجاب دعائیں)

اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے جامعہ کے ترجمان رسالہ ماہنامہ بینات کا  مضمون ملاحظہ فرمائیں۔

غصہ- ایک سماجی ناسور نقصان اور علاج

"سنن أبو داؤد" میں ہے:

4782 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: ((إذا غضب أحدكم وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الغضب وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ)).

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا:"جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے، پھر اگر اس کا غصہ ختم ہوجائے تو بہتر، ورنہ لیٹ جائے۔"

(سنن أبی داؤد، کتاب الأدب، باب ما یقال عند الغضب، ص: 248، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

وفیہ ایضاً:

"حدّثنا بكر بنُ خَلَفٍ والحسن بنُ علِيٍّ المعنَى، قَالا: حدّثنا إبراهيم بنُ خالدٍ، حدّثنا أبو وائلٍ القاصُّ، قال: دخلْنَا علَى عُروة بنِ محمّدٍ السّعديِّ، فكلّمه رجلٌ فأغضبَه، فقام فتوضّأ، ثُمّ رجعَ وقد توضّأ، فقال: حدّثني أبِيْ، عنْ جدِّيْ عطيّة-رضي الله عنه- قال: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-: إنّ الغضبَ مِنَ الشّيطانِ، وإنّ الشّيطانَ خُلِق مِنَ النّارِ، وإنّما تُطْفأ النّارُ بِالماءِ، فإذا غضبَ أحدُكم فليتوضّأْ".

ترجمہ:’’(حضرت) عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(ناحق) غصہ شیطانی اثر ہے(یعنی ناحق غصہ کرنا شیاطین کے مشتعل کرنے اور اُس کے فریب میں آجانے کا نتیجہ ہوتا ہے ) اور شیطان  آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہیے کہ وضو کرلے‘‘۔

(سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب ما يقال عند الغضب، ج:4، ص:249، رقم:4784، ط: المكتبة العصرية-بيروت)

"عمدۃ القاری" میں ہے:

"والاستعاذة من الشيطان تذهب الغضب وهو أقوى السلاح على دفع كيده وفي حديث عطية " الغضب من الشيطان فإن الشيطان خلق من النار وإنما تطفأ النار بالماء فإذا غضب أحدكم فليتوضأ " وعن أبي الدرداء " أقرب ما يكون العبد من غضب الله إذا غضب " وقال بكر بن عبد الله " اطفئوا نار الغضب بذكر نار جهنم " وفي بعض الكتب قال الله تعالى " ابن آدم اذكرني إذا غضبت أذكرك إذا غضبت " وروى الجوزي في ترغيبه عن معاوية بن قرة قال قال إبليس أنا جمرة في جوف ابن آدم إذا غضب حميته وإذا رضي منيته."

(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده،- ج: 15، ص 175، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100523

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں