
1. اگر کسی شخص کا انتقال ہو گیا اور اس نے مرنے سے پہلے اس بات کی وصیت کی کہ اس کی بیوی اس کو غسل دے یا اس کے برعکس اگر کسی خاتون کا انتقال ہو گیا اور اس نے مرنے سے قبل اس بات کی وصیت کی ہو کہ اس کا شوہر اس کو غسل دے ،کیا ان دونوں صورتوں میں اس وصیت کو پورا کرنا جانبین میں سے کسی ایک پر ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری ہے تو کس صورت میں؟ اگر ضروری نہیں ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟
2. اور انتقال کے بعد جانبین میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس کے لیے جائز ہے اور اگر جائز نہیں ہے تو عدم جواز کی دلیل کیا ہے؟
1. میاں بیوی میں اگر کسی ایک کا انتقال ہو اور اس نے یہ وصیت کی ہو کہ اس کو اس کا شوہر یا بیوی اس كو غسل دے تو اس وصیت کو نافذ کرنا لازم نہیں ہے، کیوں کہ میت کو غسل دینا مرحوم کا فریضہ ہی نہیں، بلکہ لواحقین کا فریضہ اور ان کی ذمہ داری ہے، اس لیے اس سلسلے میں لواحقین ہی کی رائے معتبر ہو گی، میت کی وصیت کا نفاذ ضروری نہیں۔
2. بیوی کے مرنے کے بعد شوہر کے لیے بیوی کا چہرہ دیکھنا اور شوہر کے مرنے کے بعد بیوی کے لیے شوہر کا چہرہ دیکھنابلاتردد جائز ہے؛ اس لیے کہ چھونے کے مقابلے میں دیکھنے کا حکم ہلکا ہے کہ اس میں فتنے کا اندیشہ نہیں ہے، اس لیے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة وإجماع الأمة."
(کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون ، ج : 1 ، ص : 158 ، ط : سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وشرطها كون الموصي أهلا للتمليك والموصى له أهلا للتملك والموصى به بعد الموصي مالا قابلا للتمليك."
(کتاب الوصایا ، ج : 6 ، ص : 90 ، ط : دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"والفتوى على بطلان الوصية بغسله والصلاة عليه."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ج : 2 ، ص : 221 ، ط : سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) منية...
ولعل وجهه أن النظر أخف من المس فجاز لشبهة الاختلاف والله أعلم"
(کتاب الصلاۃ، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:198، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100766
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن