بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل جنابت سے پہلے اچھی طرح غررہ اور ناک میں پانی چڑھا لیا جائے اور بعد میں غسل کیا جائے تو پہلے والا غررہ اور ناک میں پانی چڑھانا کافی ہوگا ؟


سوال

اگرغسل جنابت سے پہلے اچھی طرح غرارہ اور ناک میں پانی چڑھا لیا جائے اور بعد میں غسل کیا جائے تو پہلے والا غررہ اور ناک میں پانی چڑھانا کافی ہوگا یا غسل کے دوران اس کا پھر سے اہتمام کرنا ضروری ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر غسلِ جنابت سے پہلے اچھی طرح کلی کر لیا جائے اور ناک میں پانی نرم ہڈی تک پہنچا دیا جائے تو غسل کے دو فرض، یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ادا ہو چکے۔ دوبارہ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا لازم نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ غسل کے وقت دوبارہ کلی اور ناک میں پانی ڈال لیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و‌‌فرض الغسل) أراد به ما يعم العملي كما مر، وبالغسل المفروض كما في الجوهرة، وظاهره عدم شرطية غسل فمه وأنفه في المسنون كذا البحر، يعني عدم فرضيتها فيه وإلا فهما شرطان في تحصيل السنة (غسل) كل (فمه) ويكفي الشرب عبا؛لأن المج ليس بشرط في الأصح (وأنفه) حتى ما تحت الدرن 

(قوله: لأن المج) أي طرح الماء من الفم ليس بشرط للمضمضة، خلافا لما ذكره في الخلاصة، نعم هو الأحوط من حيث الخروج عن الخلاف، وبلعه إياه مكروه كما في الحلية. (قوله: ويكفي الشرب عبا) أي لا مصا فتح وهو بالعين المهملة، والمراد به هنا الشرب بجميع الفم، وهذا هو المراد بما في الخلاصة، إن شرب على غير وجه السنة يخرج عن الجنابة وإلا فلا، وبما قيل إن كان جاهلا جاز وإن كان عالما فلا: أي لأن (قوله: ويكفي الشرب عبا) أي لا مصا فتح وهو بالعين المهملة، والمراد به هنا الشرب بجميع الفم، وهذا هو المراد بما في الخلاصة، إن شرب على غير وجه السنة يخرج عن الجنابة وإلا فلا، وبما قيل إن كان جاهلا جاز وإن كان عالما فلا: أي لأنالجاهل يعب والعالم يشرب مصا كما هو السنة.(قوله: حتى ما تحت الدرن) قال في الفتح: والدرن اليابس في الأنف كالخبز الممضوغ والعجين يمنع. اهـ. وهذا غير الدرن الآتي متنا، وقيد باليابس لما في شرح الشيخ إسماعيل أن في الرطب اختلاف المشايخ كما في القنية عن المحيط." 

(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص:152/151،ط:سعید)

"معارف السنن"  میں  ہے:

"و يقول القاضي في العارضة: لم يختلف أحد من العلماء في أن الوضوء داخل في الغسل ..."الخ

(أبواب الطهارة، باب الوضوء بعد الغسل،1،ص:368،ط: مجلس الدعوة و التحقيق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں