
ایک آدمی نے اپنی زندگی میں اپنے گھر کو اپنی بیوی کے نام قانونا منتقل کیا، کچھ عرصہ کے بعد اس شخص کا انتقال ہوگیا اور اس کے پانچ بیٹے حیات ہیں ، بچے یہ سمجھتے ہیں کہ اس گھر کے ہم مالک ہیں اور یہ ہمارے والد صاحب کا ترکہ ہے اور اس گھر کو بچے اپنا وراثتی حق سمجھتے ہیں، جبکہ یہ گھر ان کی والدہ کے نام پر ہے جو کہ قانونا مالکہ ہیں اور حیات بھی ہیں، تو کیا اس گھر میں تصرف کے اہل بچے ہوں گے یا ان کی والدہ ؟ اور کیا یہ گھر وراثت کے زمرے میں شمار ہوگا؟
صورت مسئولہ میں اگر والد مرحوم نے گھر اپنی بیوی کے صرف نام کیا تھا اور اس کو مکمل مالکانہ تصرف کے اختیارات کے ساتھ نہیں دیا تھا ،یعنی شوہر خود بھی آخر وقت تک اسی مکان میں رہائش پذیر رہاتو صرف اس نام کرنے سے گھر میں بیوی کی ملکیت نہیں آئی تھی اور مذکورہ گھر والد مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں اس کے تمام ورثاء شریک ہیں، لہذا مذکورہ گھر تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"
)کتاب الھبة، ج:5، ص:689، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".
(کتاب الھبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100483
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن