بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 صفر 1448ھ 29 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر میں رہتے ہوئے نا محرم سے پردہ کیسے کیا جائے؟


سوال

گھر کے نامحرم مرد سے پردہ کرنے کے لیے سر پہ دوپٹہ ہونا کافی نہیں ہے؟ یا چادر لینا ضروری ہے کیا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے مردو خواتین کو بے حیائی  اور  فتنے میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کے لیےجانبین کو  احتیاطی تدابیر  اختیارکرنی چاہییں، مثلًا: دیور، جیٹھ،  چچازاد، ماموں زاد وغیرہ  گھر میں آنے سے پہلے اطلاع دیں،گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھنٹی وغیرہ بجا دیں یا بلند آواز سے سلام کرلیں،مرد و خواتین نگاہوں کی حفاظت کریں، خواتین  دوپٹے  یا بڑی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں، نیز بے تکلفانہ گفتگو،  تنہائی میں ملاقات اور غیر ضروری اختلاط سے گریز کریں، البتہ گھر میں رہتے ہوئے برقع زیب تن کرنا یا نقاب پہنے رکھنا ضروری نہیں، دوپٹہ سے سر اور چہرہ کو ڈھانپ لینا کافی ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے :

"يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا " [الأحزاب: 59]          

ترجمہ:اے نبی کہہ دے اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور مسلمانوں کی عورتوں کو نیچے لٹکالیں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں  اس میں بہت قریب ہے کہ پہچانی پڑیں تو کوئی ان کو نہ ستائے اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان۔"

اسی طرح سورۃ النور میں ہے:

"وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ."[النور: 31]     

"ترجمہ:اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیئے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کے مواقع کو ظاہر نہ کریں مگر جس اس (موقع زینت) میں سے (غالباً) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھا کریں اور اپنی زینت (کے مواقع مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے (محارم پر یعنی) باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر (ف ٦) یا اپنے حقیقی (علاتی یا اخیانی) بھائيوں پر) یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پریا اپنی (حقیقی علاتی اور اخیانی) بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر (ف ٧) یا اپنی لونڈیوں پر یا ان مردوں پر جو طفیلی (کے طور پر رہتے ) ہوں اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے ابھی ناواقف ہیں (مراد غیر مراہق ہیں) اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے۔"(بیان القران)

امداد الفتاوی میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

" سوال (۲۲۰): پردہ کی نسبت کیا حکم ہے، آیا پردہ فرض ہے یا واجب ہے یا کیا؟

الجواب: پردہ کے دو معنی ہیں، ایک ستر دوسرے حجاب، ستر تو فرض ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرد کو مرد کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے مگر ناف سے زانو (گھٹنے) تک جائز نہیں، اور عورت کو عورت کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے۔ اور اپنی مملوکہ حلال شرعی اور اپنی زوجہ کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے، اور اپنے محارم سے منھ اور سر اور سینہ اور پنڈلیاں اور دونوں بازو دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے۔اور ان کی پشت (پیٹھ) اور شکم (پیٹ) دیکھنا جائز نہیں، اور غیر مملوکہ کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے، اور اجنبی آزاد عورت کا کچھ دیکھنا جائز نہیں، مگر ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، اور اگر شہوت کا خوف ہو تو بغیر حاجتِ ضروری شرعی کے دیکھنا جائز نہیں، ہاں اگر حاجت ہو جیسے حاکم حکم کرتے وقت اور گواہ کو شہادت کے وقت تو چہرہ دیکھنا جائز ہے، اور طبیب کو مرض کا موضع (مقام) دیکھنا جائز ہے اگرچہ لوگوں کو خوفِ شہوت کا ہو، باقی حتی الوسع شہوت کو دل سے دور کرے۔۔۔

دوسرا حجاب ہے جو آج کل شرفاء میں معمول ہے، کہ عورت مردِ اجنبی کو بالکل بدن نہیں دکھاتی، اور غالباً غرض سائل کی اسی کا پوچھنا ہے، پس یہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر تو فرض تھا، لقوله تعالیٰ: "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ"ولِقوله تعالیٰ:"وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ"اور مؤمنینِ اُمت کی عورتوں پر فرض نہیں، چنانچہ روایتِ بالا سے معلوم ہو چکا کہ اجنبی عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، البتہ یہ حجاب سنت اور واجبِ استحسانی ہے، اور بہ نظرِ مصلحت و رفعِ شر و فتنہ ضروری ہے۔۔۔

تفسیرِ حسینی میں ہے:

"گویند ہند در شانِ زانیان ست کہ شب ہا بر سرِ راہ ہا نشستندے و دستِ تعدی بدامنِ کنیزان رسانیدے۔ و سعدی رح می فرماید کہ دراں وقت حرائر را علامت آن بود کہ سر پوشید ہ در راہ افتندے و جواری سر برہنہ بودندے،  چوں آں بدکاران از سرپوشیدگان تحاشی می نمودند لاجرم آیت آمد:  اے پیغمبر بگو مر زنان خود را و دختران خود را و زنانِ مومنان را کہ بوقتِ بیرون رفتن از خانہ نزدیک گردانند و فروگذارند برو ہائے و بدنہائے خویش چادرہائے خود را یعنی وجوہ و ابدان پوشند، این پوشیدن سر و روئے و بدن نزدیک تر است بآنکہ ایشان را بشناسند بصلاح و عفت یا متمیز شوند بآزادی پس ایذا کردہ نشوند یعنی آن زانیان تعرض نہ کنند ایشان را، انتہیٰ۔ 

(ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ یہ (حکم) بدکار لوگوں کے بارے میں ہے، جو رات کے وقت راستوں پر بیٹھا کرتے تھے اور لونڈیوں (کنیزوں) کے دامن پر دست درازی کرتے تھے۔ اور سعدی شیرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں آزاد عورتوں کی علامت یہ تھی کہ وہ سر ڈھانپ کر راستوں میں نکلا کرتی تھیں،  اور لونڈیاں سر کھلا رکھتی تھیں۔ چونکہ وہ بدکار لوگ پردہ کرنے والی عورتوں سے تعرض کرنے سے کتراتے تھے،  اس لیے یہ آیت نازل ہوئی:اے پیغمبر! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ جب وہ گھروں سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں (یعنی اپنے چہروں اور جسموں کو ڈھانپ لیا کریں)۔ یہ سر، چہرہ اور بدن کو ڈھانپنا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ نیک اور پاکدامن پہچانی جائیں یا آزاد عورتوں کے طور پر ممتاز ہوں، تاکہ انہیں اذیت نہ دی جائے، یعنی وہ بدکار لوگ ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔)

اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم فتنہ کے سبب سے ہوا۔

و في الدرالمختار ص: ۷، ج ۲ من المجلد الاول:

و تمنع المرأۃ الشابة من كشف الوجه بین الرجال لا لأنه عورۃ بل لخوف الفتنة كمسه و إن أمن الشھوۃ لأنه أغلظ، و لذا ثبت به حرمة المصاهرة کما یأتي في الحظر، انتهى.

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب آیۃ کریمہ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"مترجم گوید کہ حاصل این آیت آنست کہ مواضعِ زینت دو قسم است؛ آنچہ در سترِ آں حرج است و آں وجہ و کفین بود و آنچہ در سترِ آں حرج نیست مانند سر و گردن و عضد و ذراع و ساق، پس سترِ وجہ و کفین از اجنبیان فرض نیست بلکہ سنت است، سترِ غیرِ آں از اجنبیان فرض است نہ از محارم، واللہ اعلم، فتح الرحمن۔"

(ترجمہ: مترجم کہتا ہے کہ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ زینت کے مقامات دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں چھپانے میں حرج ہوتا ہے، اور وہ چہرہ اور ہاتھ ہیں؛ اور دوسرے وہ جنہیں چھپانے میں کوئی حرج نہیں، جیسے سر، گردن، بازو، کلائی اور پنڈلی۔ لہٰذا اجنبی لوگوں کے سامنے چہرہ اور ہاتھوں کا چھپانا فرض نہیں، بلکہ سنت ہے، جب کہ ان کے علاوہ باقی اعضا کو اجنبیوں سے چھپانا فرض ہے، البتہ محرم رشتہ داروں سے چھپانا فرض نہیں۔)

اور حضرت شاہ عبدالقادر صاحب آیۃ کریمہفَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍالآیۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اور اس آیت میں حکم ہوا پردہ کا کہ مرد حضرت کی ازواج کے سامنے نہ جائیں، سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں، اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے سب بدن کپڑوں میں ڈھکا ہو تو گناہ نہیں، اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے۔  موضح القرآن۔"

پس خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ستر فرض ہے اور حجاب بنظر مصلحت واجب ہے، واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔

(عورتوں کے پردے اور نظر ولمس وغیرہ کے احکام ،ج:4،ص:177،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں