
میں پاکستان نیوی میں ملازم ہوں، میں نے ایک اسپیشل کورس (غوطہ خوری)کیاہے، اس کے کرنے کے بعد محکمہ نیوی ہمیں ماہانہ اسپیشل راشن دیتا ہے اور اس کے علاوہ ہم ہر مہینہ ایک کلیم (درخواست)بناتے ہیں، جس میں قانون کے مطابق پورے مہینےہر دن کے 24 گھنٹوں میں سے 23 گھنٹے غوطہ خوری کرنا لازم ہوتاہے، پورا محکمہ اس بات سے باخبر ہے کہ عملا ایسے کوئی بھی نہیں کرتا، یہ انگریز کے زمانے کا بنا ہوا قانون ہے۔پھر یہ کلیم بنانے پر محکمہ کی طرف سے پیسے ملتے ہیں۔
دوسال سے میں یہ کورس کیے ہوئے ہوں، لیکن میں نے قانون کے مطابق غوطہ خوری نہیں کی، اور قانون کے مطابق کوئی بھی نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے، میں نے اس مہینے 35 منٹ غوطہ خوری کی، اگر میں یہ چاہوں کہ میں 35 منٹ غوطہ خوری کے پیسے وصول کروں تو اس کا صرف یہ طریقہ ہے کہ میں وہ کلیم (درخواست) بناؤں اور کلیم میں تو پورے مہینے کے ہر دن کے 24گھنٹوں میں سے 23 گھنٹے غوطہ خوری کے شمار کیے جاتے ہیں اور اس کے مطابق پیسے ملتے ہیں، یعنی میں صرف 35 منٹ کے پیسے وصول نہیں کر سکتا، تو اس طریقے سے کلیم بنا کر مذکورہ پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ ناجائز ہے تو لے کر کسی غریب کو دے سکتے ہیں؟
نوٹ: یہ کورس جو بہت اسپیشل قسم کا ہوتا ہےاس لیے کیا جاتا ہے تا کہ مزید پیسے ملیں۔
وضاحت: ہر مہینے میں چند مرتبہ محکمہ ہمیں غوطہ خوری کرنے کا حکم دیتا ہےجسے پورا کرنا لازمی ہوتا ہے، پھر آفیسرز کہتے ہیں کہ آپ مذکورہ کلیم بنا لیں اور کلیم کے مطابق پیسے وصول کر لیں، پورے محکمے کو بشمول تنخواہ دینے والے محکمے کو معلوم ہوتا ہے کہ کلیم کے مطابق غوطہ خوری کوئی بھی نہیں کرتا۔
صورت مسئولہ میں سرکار کی جانب سے اگر روزانہ 23 گھنٹے غوطہ خوری کرنا ضروری ہو، اور اس کے عوض ماہانہ تنخواہ کے علاوہ اجرت دی جاتی ہو، تو متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بغیر مکمل 23 گھنٹےکی جگہ 35 منٹ غوطہ خوری کرنے والے افراد کے لیےمکمل 23 گھنٹےیومیہ کے اعتبار سے کلیم وصول کرنا جائز نہیں ہوگا،مکمل کلیم وصول کر لینے کی صورت میں محکمہ کو زائد اوقات کی رقم کسی بھی نام سے واپس کرنا ضروری ہوگی، مذکورہ رقم سے غریبوں کی مدد کرنا کافی نہیں ہوگا۔
پورے دن و رات میں کل 24 گھنٹے ہوتے ہیں اور اس دوران جسمانی، طبعی و شرعی حاجات بھی ہیں جن کے لیے کئی گھنٹے درکار ہوتے ہیں، نیز زندہ رہنے کے لیے نیند بھی چاہیے، اور پھر اس طرح پورے ماہ میں ہر روز 23 گھنٹے غوطہ خوری کرنانہ صرف مشکل ترین بلکہ ناممکن ہے، لہذا متعلقہ محکمہ کے ذمہ داران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کورس ایسا رکھےکہ جس پر عمل بھی ہوسکتا ہو، بصورت دیگر غلط بیانی اور دو نمبری کا راستہ اس طرح کے نظام سے خود بھی کھلنے لگے گا جس کا روکنا ممکن نہیں ہو گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج: 6، ص: 70، ط: دار الفکر بیروت)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
"الأصل إباحة الجائزة على عمل مشروع سواء أكان دينيا أو دنيويا لأنه من باب الحث على فعل الخير والإعانة عليه بالمال وهو من قبيل الهبة."
(حرف الجیم، جائزة، ج: 15، ص: 77، ط: دار السلاسل)
بذل المجہود میں ہے:
"صرح الفقهاء بأن من اكتسب مالا بغير حق، فإما أن يكون كسبه بعقد فاسد، كالبيوع الفاسدة والاستئجار على المعاصي والطاعات، أو بغير عقد، كالسرقة والغصب والخيانة والغلول، ففي جميع الأحوال المال الحاصل له حرام عليه، ولكن إن أخذه من غير عقد ولم يملكه يجب عليه أن يرده على مالكه إن وجد المالك."
(كتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، ج: 1، ص: 359، ط: دار البشائر الإسلامیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703102098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن