بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

گھوڑے کے گوشت کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں پولوکے لیے گھوڑے پالتے ہیں تو کبھی کھیل کے دوران گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے یا ایسا زخمی ہوتا ہے کہ وہ بیکار ہوجاتاہے تو اس کو انجکشن لگاکر یا گولی مارکر ماردیتے ہیں ۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسے گھوڑے کو ذبح کرکے گوشت کے کھانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   فی نفسہ گھوڑا حلال جانور ہے، مگر آلہ جہاد ہونے کی وجہ سے  اسے ذبح کرنا  اور گوشت کھانا مکروہِ تحریمی  ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں بھی گھوڑے کا گوشت  استعمال کرنے سے  اجتناب کیا جائے۔

بدائع الصنائع میں ہے: 

"(وأما) لحم الخيل فقد قال أبو حنيفة رضي الله عنه: يكره وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله: لا يكره، وبه أخذ الشافعي رحمه الله."

(کتاب الذبائح و الصیود، الماکول و  غیر الماکول من الحیوانات، ج: 5 ص: 38 ط: ایچ ایم سیعد) 

التجرید للقدوری میں ہے: 

"قال أبو حنيفة. رحمه الله: يكره أكل ‌لحم ‌الخيل."

(کتاب الاطعمة، مسألة ١٥٥٣ أكل لحم الخيل، ج: 12 ص: 2375 ط: دار السلام)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے: 

"(وعن جابر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية، وأذن في لحوم الخيل» ) : في شرح السنة: اختلفوا في إباحة لحوم الخيل، فذهب جماعة إلى إباحته. روي ذلك عن شريح، والحسن، وعطاء بن أبي رباح، وسعيد بن جبير، وحماد بن أبي سليمان، وبه قال الشافعي وأحمد وإسحاق. وذهب جماعة إلى تحريمه، روي ذلك عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما، وهو قول أصحاب أبي حنيفة. قال النووي: واحتج أبو حنيفة بقوله تعالى: {والخيل والبغال والحمير لتركبوها وزينة} [النحل: 8] ولم يذكر الأكل، وذكر الأكل في الأنعام في الآية التي قبلها، وبحديث خالد بن الوليد: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لحوم الخيل والبغال والحمير» . رواه أبو داود، والنسائي، وابن ماجه."

(کتاب الصید والذبائع، باب مایحل اکلھ  و ما یحرم، ج: 7 ص: 2623 ط: دار الفکر) 

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے: 

"وذهب الحنفية - وعليه الفتوى عندهم - وهو قول ثان للمالكية إلى حل أكلها مع الكراهة التنزيهية لاختلاف الأحاديث المروية في الباب لاختلاف السلف."

(حرف'لام' لحم، لحم الخیل، ج: 35 ص: 211 ط: دار السلاسل) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101450

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں