بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ممالک میں مروجہ اسلامی ہوم فنانس کے ذریعہ گھر کی خریداری کا حکم


سوال

میں اور میرے شوہر آسٹریلیا میں رہتے ہیں اور گھر خریدنا چاہتے ہیں۔ ہم سود سے بچنا چاہتے ہیں اور حلال طریقے سے مکان خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں کچھ ادارے (جیسے MCCA، Amanah، Hejaz) ”اسلامی ہوم فنانس“ کے نام سے سہولت دیتے ہیں۔

ان کا طریقہ کار مختصراً یہ ہے:

1. مکان ہماری پسند سے خریدا جاتا ہے۔

2. بعض صورتوں میں مکان کی ملکیت شروع سے ہمارے نام پر رجسٹر ہو جاتی ہے۔

3. ادارہ ہمیں پوری رقم بطور قرض نہیں دیتا بلکہ معاہدہ “اجارہ” (Ijara) یا “لیز ٹو اون” کے نام سے ہوتا ہے۔

4. ہم ہر ماہ ایک رقم ادا کرتے ہیں جسے وہ “کرایہ” (Kiraya) کہتے ہیں۔

5. یہ کرایہ متغیر (variable) ہوتا ہے اور معاشی حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔

6. اگر مکان کی مارکیٹ ویلیو بڑھ جائے تو ادارہ اس میں حصہ دار نہیں بنتا۔

7. اگر قیمت کم ہو جائے تو ادارہ نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔

8. معاہدہ مکمل ہونے پر مکان مکمل طور پر ہمارا ہو جاتا ہے۔

سوالات یہ ہیں:

1. اگر ماہانہ ادائیگی کا تعین شرح سود (interest rate) جیسے معاشی اشاریوں کو سامنے رکھ کر کیا جائے، تو کیا اسے سود شمار کیا جائے گا یا جائز کرایہ؟

2. اگر ادارہ ملکیت کے خطرات (risk) میں حقیقی طور پر شریک نہ ہو، تو کیا یہ اجارہ صحیح کہلائے گا؟

3. کیا ایسی فنانسنگ شرعاً جائز ہے یا یہ سود کی مشابہت رکھتی ہے؟

4. کیا موجودہ حالات میں مکان خریدنے کے لیے اس طرح کی اسکیم اختیار کرنا درست ہے؟ ہم دل سے چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنے۔

برائے مہربانی قرآن و سنت اور فقہ اسلامی  کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

واضح رہے کہ مروجہ اسلامی ہوم فناننس کے عنوان  سہولیات فراہم کرنے کے لیے  قائم اداروں کے   تمام طریقہ کار سود یا سودی حیلے (ایسے سودی حیلے) جو لوگوں کے استحصال اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کی وجہ سے مقاصد شریعت سے متصادم ہیں   اور  بیوع فاسدہ پر مشتمل ہیں۔ لہذا ان اداروں سے  سے فائنانسنگ لینا یا ان میں سرمایہ کاری کر نا نا جائز اور حرام ہے۔

سوال میں جو طریقہ کار ذکر  کیا گیا ہے،  وہ  شرکت متناقصہ پر مشتمل ہے،اور  شرکت متناقصہ کا طریقہ کار کی تفصیل یہ ہے کہ مروجہ اسلامی ہوم فناننس کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے   اورکلائنٹ  کے درمیان یہ معاملہ طے ہوتا ہے کہ ادارہ   ابتداء میں  کلائنٹ کی پسند کا گھر  لے کر کو  لیز ٹو اون (یعنی کرایہ  سے  ملکیت تک )  کے عنوان سے ماہانہ اقساط پر کلائنٹ کو دے گا، پھر کلائنٹ  ہر مہینہ طے شدہ  جتنی جتنی رقم گاہک جمع کرائے گا تو کل قیمت کے تناسب سے اتنی ملکیت کلائنٹ  کی طرف منتقل ہو جائے گی یعنی گھر کا  اتنا فیصد  حصہ  مروجہ اسلامی ہوم فنانس  کلائنٹ  کو فروخت کرتی رہے گی اور  بقیہ جتنا فیصد مروجہ اسلامی ہوم فنانس کی ملکیت ہو گا اس کا کلائنٹ  کرایہ ادا کرے گا۔

اس طریقہ کار میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ یہ مکمل معاملہ ایک حیلہ کے طور پر کیا جاتا ہے، کیوں کہ صارف کو گھر کرائے پر لینا مقصد نہیں ہے نہ  ہی مروجہ اسلامی ہوم فنانس کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے   کا گھر  کرائے پر دینا مقصد ہے، بلکہ صارف کا مقصد گھر کا حصول (گھر کی فائنینسنگ ) ہے اورادارے  کا مقصد اس نقدی پر نفع کمانا ہے جو  اس کے پاس  موجود ہے ، ان دو مقاصد کے حصول کے لیے اس معاملہ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ چونکہ اس حیلہ کا نتیجہ روایتی سود والا ہی ہے اور اس میں لوگوں کا استحصال اور دولت کا چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا ہے ، لہذا یہ حیلہ ناجائز ہے۔

دوم یہ حیلہ کا طریقہ کار بھی شرعی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا بلکہ یہ ایسا اجارہ (لیز ٹو اون)ہوتا ہے جو بیع ( خرید و فروخت) سے مشروط ہوتا ہے یا ایسی  بیع (بیچنا)ہوتی ہے جو اجارہ کے ساتھ مشروط ہوتی ہے یعنی مروجہ اسلامی ہوم فنانس اورصارف  آپس میں یہ طے کرتے ہیں کہ یہ گھر آپ مجھے تھوڑا تھوڑا کر کے بیچیں گے اور میں ہیں اس کا بقایا حصہ آپ سے کرائے پر لوں گا، لہذا اس طرح معاملہ کرنے سے اجارہ اور بیع دونوں شرعا فاسد ہو جاتے ہیں، کیوں کہ احادیث میں ایک معاملہ کو دوسرے معاملہ کے ساتھ مشروط کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

مذکورہ تمہید کے بعد  آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔صورت مسئولہ میں کلائنٹ  کا مقصد گھر کا خریدنا ہے، لیکن  اسلامی ہوم فنانس  کی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم ادارےکلائنٹ کو گھر  فروخت کرنے کے بجائے کرایہ پر دینے کے ساتھ ساتھ فروخت کرتا ہے، اس لیے یہ صورت ناجائز ہے، نیز گھر   قسطوں میں خریدنے کی صورت میں بھی گھر کی قیمت اور اقساط کا متعین ہونا ضروری ہے  جب کہ آپ کی ذکر کردہ صورت میں گھر کی قیمت اور اقساط معاشی اشاریوں کو سامنے رکھ کر   ایک مرتبہ عقد ہونے کے بعد بھی تبدیل کیے جاتے ہیں، تو عقد کے وقت گھر کی اصل قیمت مجہول ہونے کے سبب  یہ بھی ناجائز ہے، ساتھ ساتھ ماہانہ اقساط کو انٹرسٹ ریٹ جیسے معاشی اشاریوں کے ساتھ مشروط کرنے کے سبب یہ معاملہ شبہ  سود سے خالی نہیں ہے۔ 

2۔ صورت  مسئولہ میں  مروجہ اسلامی ہوم فنانس اور   کلائنٹ صرف اجارہ کا معاملہ نہیں کررہے، بلکہ اجارہ مشروط ہے بیع(گھر کی خرید و فروخت) کے ساتھ، اس لیے شرعاً یہ اجارہ صحیح نہیں ہے۔نیز گر ادارہ ملکیت کے خطرات  میں شریک نہیں ہوتا، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملہ حقیقتا باجارہ  نہیں بلکہ محض کاغذی کارروائی ہے۔،شرعی اصول یہ ہے کہ:” نفع اسی کا ہے جو نقصان کی ذمہ داری اٹھائے۔“ اس لیے جب ادارہ نقصان میں شریک نہیں، تو وہ نفع (کرایہ) لینے کا بھی حقدار نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال اسے خالص سودی قرض کے مشابہ بنا دیتی ہے۔

3۔واضح رہے کہ مروجہ اسلامی ہوم فناننس کے عنوان  سہولت فراہم کرنے کے لیے  قائم اداروں کے   تمام طریقہ کار سود یا سودی حیلے (ایسے سودی حیلے) جو لوگوں کے استحصال اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کرنے کی وجہ سے مقاصد شریعت سے متصادم ہیں   اور  بیوع فاسدہ، ایک عقد میں دو عقود، جہالتِ ثمن، اور  نقصان میں عدمِ شرکت پر مشتمل ہیں۔ لہذا ان اداروں سے  سے فائنانسنگ لینا یا ان میں سرمایہ کاری کر نا نا جائز اور حرام ہے۔

4۔ موجودہ حالات میں بھی مکان کی خریداری کا مذکورہ طریقہ شرعی اصولوں کے منافی ہے۔ اس کے برعکس جواز کی صورت یہ ہے کہ یا تو 'قرضِ حسنہ' کے ذریعے مکان خریدا جائے، یا کوئی تیسرا فریق مکان خرید کر سائلہ اور ان کے شوہر کو قسطوں پر فروخت کر دے۔ ایسی صورت میں مکان کی مجموعی قیمت اور ماہانہ قسط کا تعین بیع کے وقت ہی ہونا ضروری ہے، تاکہ بعد میں قیمت میں کسی اضافے کا احتمال نہ رہے۔ ادائیگی مکمل ہونے پر مکان شرعی طور پر سائلہ اور ان کے شوہر کی ملکیت میں آ جائے گا۔

حوالہ جات:

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}قال أبو بكر: قد انتظم هذا العموم النهي عن أكل مال الغير بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل ... ونظير ما اقتضته الآية من النهي عن أكل مال الغير قوله تعالى:{ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام}[البقرة: 188] ، وقول النبي صلى الله عليه وسلم: "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيبة من نفسه". وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة، وهو أن يأكله بالباطل؛ وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة."

(باب التجارات وخیار البیع، 216،215/2، ط: دارالکتب العلمیة)

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة». وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح»، والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولايفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ... وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولايدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته... الخ."

(سنن الترمذي، أبواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن بیعتین في بیعة، ج:3، ص:525،رقم: 1231،ط: مصطفى البابي الحلبي – مصر)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے :

"وأما الإجارة الفاسدة، وهي التي فاتها شرط من شروط الصحة فحكمها الأصلي هو ثبوت الملك للمؤاجر في أجر المثل لا في المسمى بمقابلة استيفاء المنافع المملوكة ملكا فاسدا؛ لأن المؤاجر لم يرض باستيفاء المنافع إلا ببدل."

(كتاب الاجارة، باب حكم الاجارة،218/4، ط: دار الکتب العلمیة)

عمدة القاری ميں ہے:

"وقال الخطابي: كل شيء يشبه الحلال من وجه والحرام من وجه هو شبهة والحلال اليقين ما علم ملكه يقينا لنفسه والحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينا والشبهة ما لايدري أهو له أو لغيره فالورع اجتنابه ثم الورع على أقسام واجب كالذي قلناه ومستحب كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام ومكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله والهدايا."

(كتاب البیوع، باب تفسير المشبهات،ج:11، ص:236، ط:دارالكتب العلمية)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ."

(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، 13/8، ط:دارالمعرفة) 

بدائع الصنائع میں ہے:

"وبيان ذلك في مسائل المشتري شراء فاسدا إذا باع المشتري أو وهبه أو تصدق به بطل حق الفسخ، وعلى المشتري القيمة أو المثل؛ لأنه تصرف في محل مملوك له فنفذ تصرفه ولا سبيل للبائع على بعضه؛ لأنه حصل عن تسليط منه، ويطيب للمشتري الثاني؛ لأنه ملكه بعقد صحيح بخلاف المشتري الأول؛ لأنه لا يطيب؛ لأنه ملكه بعقد فاسد."

(كتاب البيوع، فصل فی حکم البیع،خيار الرؤية،301/5، ط: سعید)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"فالحاصل: أن ما يتخلص به الرجل من الحرام أو يتوصل به إلى الحلال من الحيل فهو حسن، وإنما يكره ذلك أن يحتال في حق لرجل حتى يبطله أو في باطل حتى يموهه أو في حق حتى يدخل فيه شبهة فما كان على هذا السبيل فهو مكروه."

(كتاب الحيل،210/30، ط: دار المعرفة)

اعلام الموقعین میں ہے:

"ثم أرباب هذه الحيل نوعان : نوع يقصد به حصول مقصوده ، ولا يُظهر أنه حلال، كحيل اللصوص وعشاق الصور المحرمة ونحوهما، ونوع يُظهر صاحبه أن مقصوده خير وصلاح ويبطن خلافه.

وأرباب النوع الأول أسلم عاقبة من هؤلاء؛ فإنهم أتوا البيوت من أبوابها والأمر من طريقه ووجهه، وأما هؤلاء فقلبوا موضوع الشرع والدين، ولما كان أرباب هذا النوع إنما يباشرون الأسباب الجائزة ولا يظهرون مقاصدهم أعضل أمرهم، وعظم الخطب بهم، وصعب الاحتراز منهم، وعز على العالم استنقاد قتلاهم، فاستبيحت بحيلهم الفروج، وأخذت بها الأموال من أربابها فأعطيت لغير أهلها، وعطلت بها الواجبات، وضيعت بها الحقوق، وتجت الفروج والأموال والحقوق إلى ربها عجيجًا، وضحت مما حل بها إليه ضجيجا.

ولا يختلف المسلمون أن تعليم هذه الحيل حرام، والإفتاء بها حرام، والشهادة على مضمونها حرام، والحكم بها مع العلم بحالها حرام..... فهذه الحيل وأمثالها لا يستريب مسلم في أنها من كبائر الإثم وأقبح المحرمات وهي من التلاعب بدين الله، واتخاذ آياته هزُوًا، وهي حرام من جهتها في نفسها لكونها كذبا وزوراء وحرام من جهة المقصود بها، وهو إبطال حق واثبات باطل؛ فهذه ثلاثة أقسام:...... الثالث: أن تكون الطريق لم توضع للإفضاء إلى المحرم، وإنما وضعت مفضية إلى المشروع، كالإقرار والبيع والنكاح والهبة ونحو ذلك، فيتخذها المتحيل سلما وطريقا إلى الحرام، وهذا معترك الكلام في هذا الباب، وهو الذي قصدنا الكلام فيه بالقصد الأول."

(قاعدة اقسام الخیل و مراتبها،300/4، ط: دار عطاءات العلم )

فقط وللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں