بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں سے تعویذ لینے کا حکم


سوال

ہندؤوں سے تدبیر لینا کیسا ہے اور ان سے تعویذ لینا بھی کیسا ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ اپنے معاملات اور مسائل کے حل کے لیےہر  ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، مصیبت اور پریشانی کے وقت صلاۃ الحاجت پڑھ کر اور  اپنے امور میں خیر اور بہتری کے لیے  اللہ تعالیٰ سے خیروعافیت اوربہتری کی دعامانگنی چاہیے۔

سوال میں مذکور لفظ ” تدبیر“ کا ایک معنی علاج بھی ہے، لہذااگر  تدبیر  سے  عملیات یعنی تعویذ  اور منتر وغیرہ کے ذریعہ ہندؤوں یا    غیر مسلموں  سے علاج کروانا مراد ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ غیرمسلموں سے تعویذ لینایا ان سے عملیات سے متعلق معاملات میں استفادہ کرنا شرعا ناجائز اور حرام ہے؛ کیوں کہ غیر مسلم تعویذات اور منتر میں عموماً شرکیہ کلمات استعمال کرتے ہیں اور غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں، جب کہ شرک کی حرمت قرآن و حدیث سے ثابت ہے، لہذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ غیرمسلموں کے عملیات سے متعلق معاملات میں استفادے سے اجتناب کریں۔

قرآن کریم میں ہے:

"إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا." (سورۃالنساء:48)

ترجمہ:”بے شک الله تعالیٰ اس بات کو نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوائے اور جتنے گناہ ہیں جس کے لیے منظور ہوگا وہ گناہ بخش دیں گے اور جو شخص الله تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہو ا۔ ( قرآن و حدیث واجماع سے یہ مسئلہ ضروریات شرع سے ہے کہ شرک اور کفردونوں غیر مغفور ہیں ۔) “(بیان القرآن)

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

"وعن زينب امرأة عبد الله بن مسعود أن عبد الله رأى في عنقي خيطا فقال: ما هذا؟ فقلت: خيط رقي لي فيه قالت: فأخذه فقطعه ثم قال: أنتم آل عبد الله لأغنياء عن الشرك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الرقى والتمائم والتولة شرك» فقلت: لم تقول هكذا؟ لقد كانت عيني تقذف وكنت أختلف إلى فلان اليهودي فإذا رقاها سكنت فقال عبد الله: ‌إنما ‌ذلك ‌عمل ‌الشيطان ‌كان ‌ينخسها ‌بيده ‌فإذا ‌رقي ‌كف ‌عنها ‌إنما ‌كان ‌يكفيك أن تقولي كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما». "

(‌‌كتاب الطب والرقى،‌‌الفصل الثاني،1284/2، ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرے گلے میں ایک دھاگا دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ دھاگا ہے جس میں میرے لیے دم کیا گیا ہے، کہتی ہیں: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ دھاگا لیا اور اسے کاٹ دیا، پھر فرمایا: اے عبداللہ (ابن مسعود) کے گھر والو تم لوگ شرک سے مستغنی ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک یہ (ناجائز) دم، منتر اور تعویذ گنڈے شرک ہیں، میں نے کہا: آپ یہ کیسے کہتے ہیں، جب کہ میری آنکھ (قبل از اسلام) دکھتی تھی تو میں فلاں یہودی کے پاس دم کے لیے جاتی تھی، جب وہ دم کرتا تھا تو آنکھ ٹھیک ہوجاتی تھی! اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ شیطان کا کام تھا، وہ تمہاری آنکھ میں انگلی سے چوکا لگاتا تھا، اور جب اس میں منتر پڑھا جاتا تو شیطان رک جاتا تھا، تمہارے لیے یہ دعا کافی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:"أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما" یعنی  ”لوگوں کے رب! بیماری لے جا، اور شفا عطا فرما، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، شفا صرف تیری ہی ہے، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے۔ “

فتاوی شامی میں ہے:

"إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة،‌‌‌‌فصل في اللبس،363/6، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں