بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہوئے ناپاکی سے بچنا مشکل ہو تو کیا کیا جائے؟


سوال

 ہم بیرون ملک ایک ہاسٹل میں مقیم ہیں، جہاں مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے لوگ رہتے ہیں، اور پاکی ناپاکی کے مسائل سے بے خبر ہیں، سمجھانے کے باوجود بہت سے مسلمان بھی ان مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتے یا بعض لوگ دوسرے مسالک کے ہوتے ہیں، جن کے ہاں شاید یہ چیزیں ناپاک نہ ہوں۔

عرض یہ ہے کہ:

1. انڈوں پر لگی ڈسٹ اور بیٹھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور کیا گھریلو اور فارمی انڈوں میں اس حوالے سے کوئی فرق ہے؟

2. مرغی کے گوشت میں 'پوٹا' کے اندر موجود گندگی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

3. ہاسٹل کے کچن میں مشترکہ برتن استعمال ہوتے ہیں، جن میں ناپاک انڈے اور گوشت بغیر دھوئے پکائے جاتے ہیں، اور گوشت کی صفائی کے دوران چھینٹیں بھی پڑتی ہیں، ان حالات میں ہم ان ناپاکیوں سے کیسے بچیں؟ جبکہ ہر ممکن کوشش کے باوجود سو فیصد احتیاط ممکن نہیں رہتی۔ 

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی جگہ پر رہتے ہوئے آدمی کے لیے اپنی پاکی و ناپاکی کا خیال رکھنا ضروری ہے، نیز شرعا ناپاک و حرام چیزوں کو کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ 

1۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں انڈوں پر لگی ہوئی ڈسٹ( فارم غیرہ میں جو انڈوں  پر مٹی جم جاتی ہے) اور بیٹ ناپاک ہیں، اور گھریلو یا فارمی انڈوں میں اس حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے۔

2۔ مرغی کے پوٹا کے اندر موجود گندگی ناپاک ہے۔

3۔  بیرون ملک رہنے والوں کو چاہیے کہ اولاً تو ایسے ہاسٹل میں رہائش اختیار کریں، جہاں پر صرف مسلمان رہتے ہوں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر  ایسی جگہ قیام کریں کہ جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہو  اور وہ پاکی و ناپاکی کا خیال رکھتے ہوں، اور اس حوالے سے شریعت کے احکامات کا لحاظ رکھتے ہوں ۔  تاہم  اس طرح ہاسٹل ملنا ممکن نہ ہو ، تو پھر    سوال میں مذکورہ صورتِ حال والے  ہاسٹل میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو چاہیے اپنے برتن دیگر مذاہب اور ناپاکی کا خیال نہ رکھنے والوں سے الگ رکھیں، اور اگر بوقت ضرورت و مجبور ی مشترکہ برتن استعمال کرنے  پڑ جائیں  تو ان برتنوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) العذرات وخرء الدجاج والبط، فنجاستها غليظة بالإجماع."

(فصل في بيان المقدار الذي يصير به المحل نجسا، ج:1، ص:81، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قال محمد - رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فإنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شاربا وآكلا حراما."

(کتاب الکراهية،ج:5،ص:347، ط: دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں