
کچھ لوگ افغانستان سے غیر قانونی طور پر بارڈر کے راستے سے پاکستان گاڑی لاتے ہیں، یہ گاڑی جن علاقوں سے گزرتی ہے، وہاں ایک ایجنٹ متعین ہوتا ہے جو کہ پولیس اور ایف سی والوں سے معاملات طے کرتا ہے اور پھر گاڑی لانے والے سے یہ ایجنٹ بطور ِ کمیشن زیادہ رقم رضامندی سے وصول کرتا ہے، اور یہ آدمی اپنے علاقے کی چیک پوسٹ پار کرنے کی بھی ضمانت لیتا ہے، طے شدہ رقم چیک پوسٹ والوں کو اور زائد رقم خود وصول کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ لوگ جو چیک پوسٹ (ایف سی اور پولیس والوں )کو جو رقم دیتے ہیں ، یہ رشوت کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں اور یہ ایجنٹ بطور کمیشن جو زائد رقم اپنے پاس رکھتے ہیں، یہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں غیر قانونی طریقے سے گاڑیوں کی اسمگلنگ کے لیے براہ راست یا ایجنٹ کے ذریعے سے چیک پوسٹ والوں کو رقم دینا ”رشوت“ ہے، اس کا دینا بھی ناجائز ہے اور چیک پوسٹ والوں کا یہ لینا بھی ناجائز اور اپنی مفوضہ ذمہ داری میں خیانت بھی ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
سنن أبی داود میں ہے:
"عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»."
(کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة، 3/ 300، رقم الحدیث: 3580، ط: المکتبة العصریة)
ترجمہ: ” حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے رشوت دینے اور لینے والے پر۔“
مسند البزار میں ہے:
"عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الراشي و المرتشي في النار."
(مسند عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه: 3/ 247، ط: مكتبة العلوم والحكم)
ترجمہ:” حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنم کی آگ میں جائیں گے۔“
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"والرشوة حرام شرعا وحرمتها ثابتة بالكتاب والسنة وقد ورد في القرآن الكريم قوله تعالى -: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} [النساء: 29] وتصدير الخطاب بالنداء والتنبيه للاعتناء بمضمون ما ورد بالآية الكريمة، والمقصود من الباطل الأسباب المخالفة للشرع الشريف كالأشياء التي لم يبحها كالغصب والسرقة والخيانة، والقمار وعقود الربا {ومن يفعل ذلك عدوانا} [النساء: 30] أي إفراطا في التجاوز عن الحد، وإتيانا بما لا يستحقه {فسوف نصليه نارا} [النساء: 30] (تفسير أبي السعود في سورة النساء) . وقد ورد في آية جليلة أخرى {أكالون للسحت} [المائدة: 42] أي الحرام كالرشوة من (سحته) إذا استأصله؛ لأنه مسحوت البركة (القاضي).
السنة: قد ورد في السنة الشريفة حديث «لعن الله الراشي والمرتشي والرائش» والراشي: هو الدافع للرشوة. والمرتشي: هو الأخذ لها. والرائش: هو الواسطة بين الراشي والمرتشي (الولوالجية)."
(الكتاب السادس عشر القضاء، 4/ 590، ط: دارالجيل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101759
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن