بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ممالک میں قائم شریعہ کونسل کے فسخ نکاح کا حکم/ فقہ حنفی میں نکاح میں ضرر سے کیا مراد ہے؟


سوال

ایک غیر مسلم ملک میں قائم ایک "شریعہ کونسل" مسلمانوں کے نکاح کو فسخ کرنے کے اختیار رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے، یہ کو نسل بعض معاملات میں بیوی کی درخواست پر نکاح فسخ کر دیتی ہے۔ اس کونسل کی طرف سے میرا نکاح فسخ کرنے کے لیے درج ذیل اسباب بطورِ "ضرر" پیش کیے گئے ہیں:

● میاں بیوی دونوں ایک دوسرے پر حقوقِ زوجیت ادا نہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

● دونوں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

● دونوں ایک دوسرے کو مسلسل جھوٹا قرار دیتے ہیں۔

● دونوں اس نکاح سے غیر مطمئن اور نادم ہیں۔

● شوہر کا سادہ طرزِ زندگی بیوی کی طبیعت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

● شوہر بعض اوقات بیوی کو کئی ہفتوں تک اکیلا چھوڑ دیتا ہے، جس سے اسے گھریلو معاملات میں دشواری پیش آتی ہے۔

● اس صورت حال کو بیوی، بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کے لیے "ضرر" (نقصان) قرار دیا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر نکاح فسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

● کونسل یہ موقف بھی اختیار کرتی ہے کہ اگر شوہر ایک بار بھی بیوی سے منہ پھیر لے تو اسے "ضرر" میں شمار کرکے فسخِ نکاح کیا جا سکتا ہے۔

میں نے ان تمام باتوں کے جوابات بھی دیے ہیں۔

سوالات:

(1) کیا اس طرح کی کونسل کو شرعا میرا  نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہے؟

(2) اس صورتِ حال میں کیا میرا نکاح شرعاً بدستور قائم ہے؟

(3) فقہ حنفی کے معتبر اقوال کے مطابق "ضرر" کی حقیقی تعریف کیا ہے؟ اور کن صورتوں میں اسے فسخِ نکاح کے لیے معتبر بنیاد سمجھا جاتا ہے؟ کیا اس میں اس طرح کے معمولی امور بھی شامل ہوتے ہیں؟ مثلاً شوہر کا وقتی طور پر بیوی سے منہ پھیر لینا یا دینی امور کے لیے گھر سے باہر جانا۔

جواب

( 1 )شریعت نے طلاق کا اختیار شوہر کو دیا ہے، بیوی خود اپنے پر طلاق واقع نہیں کرسکتی ہے، البتہ اگر میاں بیوی میں بہت سخت ناچاقی ہو، اور ایک ساتھ رہ کر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا مشکل ہو، تو ایسی صورت اگر شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو بیوی کچھ مال دے کر شوہر سے خلع لے سکتی ہے، اگر شوہر بیوی کے بنیادی حقوق مثلاً نان نفقہ ادا نہ کرے، نامردہو، یا شدید مار پیٹ کرتا ہو اور بیوی کو خلع دینے پر بھی راضی نہ ہو، تو اس صورت میں بیوی مسلمان قاضی کے پاس جاکر تنسیخِ نکاح کراسکتی ہے، اگر مسلمان قاضی موجود نہ ہویا موجود ہو لیکن وہ قواعد شرعیہ کے مطابق فیصلہ نہ کرتا ہو تو مسلمانوں کی جماعت اور شرعی پنچایت بھی قاضی کے قائم مقام ہو کر نکاح کو جائز اور معتبر وجوہ سے فسخ کرسکتی ہے، البتہ جماعت المسلمین کے فیصلے کے شرعا معتبر ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں، جیسا کہ الحیلۃ الناجزۃ میں مذکور ہیں:

 (1) ارکانِ جماعت کا عادل ہونا۔

(2) ارکانِ جماعت کا عالم ہونا یا علماء سے رجوع کرنا۔

(3) ارکانِ جماعت کا فیصلہ میں متفق ہونا۔

(4) ارکانِ جماعت کم ازکم تین افراد پر مشتمل ہو۔

(5) واقعہ کی تحقیق کرکے شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا۔

( الحیلۃ الناجزۃ، ص: 38 تا 40، ط:دار الاشاعت )

( 2 )صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً شرعی کونسل نے مذکورہ وجوہات کو بنیاد بناکر نکاح کو فسخ کیا ہے، وہ معتبر اور شرعی وجوہات نہیں، لہذا ان کی بنیاد پر نکاح فسخ کرنا درست نہیں تھا، لہذا سائل کا نکاح مذکورہ خاتون سے برقرار ہے۔

( 3 )  فقہ حنفی میں فسخ نکاح کے اسباب بہت محدود ہیں اورشرائط بہت کڑی ہیں، زیادہ تر فسخِ نکاح کے لیے فقہ مالکی سے مسائل لیے گئے ہیں۔جہاں تک ضرر کا تعلق ہے، تو اسے فقہ حنفی میں بہت محدود تصور کے ساتھ لیا گیا ہے، فسخ نکاح کے معتبر ہونے کے لیے وہی ضرر معتبر ہے جو بہت شدید  اور ناقابلِ برداشت ہو ( جسے ضررِ بین اور فاحش سے تعبیر کیا جاتا ہے )، مثلاً: شوہر کا بیوی کو نان ونفقہ نہ دینا یا دینے سے عاجز ہونا،شوہر کا غائب اور لاپتہ ہوجانا، شوہر میں ایسا جسمانی یا جنسی عیب ہونا جو قربت یا حقوق ِزوجیت ادا کرنے سے مانع ہو، یا ایسا شدید ظلم کرنا جس سے بیوی کی جان کو خطرہ ہو، یا ایسا جسمانی تشدد کرنا جو بیوی کے لیے ناقابلِ برداشت ہو( جسے فقہ میں ضربِ مبرح سے تعبیر کیا جاتا ہے ) وغیرہ۔

بدایۃ المجتھد و نھایۃ المقتصد میں ہے:

" وموجبات الخيار أربعة: العيوب، والإعسار بالصداق أو بالنفقة والكسوة، والثالث: الفقد: - أعني: فقد الزوج -. والرابع: العتق للأمة المزوجة..................................فاتفق مالك، والشافعي على أن الرد يكون من أربعة عيوب: الجنون والجذام والبرص وداء الفرج الذي يمنع الوطء: إما قرن أو رتق في المرأة أو عنة في الرجل أو خصاء، واختلف أصحاب مالك في أربع: في السواد، والقرع، وبخر الفرج، وبخر الفم، فقيل ترد بها، وقيل لا ترد. وقال أبو حنيفة وأصحابه والثوري: لا ترد المرأة في النكاح إلا بعيبين فقط: القرن والرتق. "

( كتاب النكاح، الباب الثالث في موجبات الخيار في النكاح، الفصل الأول في خيار العيوب، ج:3، ص:73/74، ط:دار الحديث )

الشرح الکبیر للشیخ دردیر میں ہے:

" وحاصل ما أشار له المصنف أن العيوب في الرجل والمرأة ثلاثة عشر أربعة يشتركان فيها وهي الجنون والجذام والبرص والعذيطة، وأربعة خاصة بالرجل الجب والخصاء والاعتراض والعنة، وخمسة خاصة بالمرأة وهي الرتق والقرن والعفل والإفضاء والبخر. "

( باب في النكاح وما يتعلق به، فصل خيار أحد الزوجين إذا وجد عيبا والعيوب التي توجب الخيار في الرد، ج:2، ص:277، ط:دار الفكر )

البھجۃ فی شرح التحفۃ میں ہے:

" الثاني: علم مما مر أنها لا تطلق نفسها على القول به ولا يطلقها الحاكم أيضا على مقابله إلا بعد الإعذار للزوج فيما ثبت عليه وعجزه عن الطعن فيه، فإن طلقت نفسها أو طلق الحاكم قبل الإعذار له فقد قال ابن عبد الصادق في شرحه المذكور ما نصه: وأما الزوجة إذا أثبتت الضرر وطلقت نفسها فإن بحث زوجها بعد طلاقها في الشهود وجرحهم مثلا فطلاقها مردود اه. وكذا يقال في تطليق الحاكم عليه قبل الإعذار والله أعلم..................الثالث: لا بد من تكرار الضرر حيث كان أمرا خفيفا فإن كان ضربا فاحشا كان لها التطليق به ولو لم يتكرر كما مر أول الفصل عن المتيطية وقول (خ) ولها التطليق بالضرر ولو لم تشهد البينة بتكرره لا يعول عليه، بل لا بد من التكرار حيث كان خفيفا كما مر. ولذا قال بعضهم: هو على حذف الصفة أي: ‌ولها ‌التطليق ‌بالضرر ‌البين أي الفاحش، والقول الثاني في النظم صريح في اشتراط التكرير إلا أن ظاهره أنه لا بد من الزجر والتكرار ولو كان بينا فاحشا وليس كذلك كما في النقل. قال ابن عبد الصادق المذكور معترضا على ظاهر لفظ (خ) ما نصه: والعجب كيف تطلق المرأة نفسها بالمرة الواحدة من تحويل وجهه عنها وقطع كلامه ومشاتمته إلى غير ذلك مما عدوه من الضرر بالمرة الواحدة إذ لا يخلو عنه الأزواج مع أن مسائل مبنية على ثبوت التكرار كالسكنى بين قوم صالحين وبعث الحكمين واختبارهما أمور الزوجين المرة بعد المرة قال: وقد نزلت فاحتج بعض المفتين بظاهر (خ) وخالفه غيره فعظم الأمر حتى وصل إلى أمير الوقت فحكم بأنه لا بد من التكرار."

( باب النكاح وما يتعلق به، فصل في اثبات الضرر والقيام به وبعث الحكمين، ج:1، ص:487، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711100882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں