بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ممالک میں ایک مسجد میں دو بار جمعہ کی نماز کی جماعت کرنا


سوال

ايك مسجد میں مجمع كی كثرت كی  وجہ سے دو، تين بار جمعہ كی  نماز كروانا كيسا ہے؟  یہ پاکستان سے باہر کسی ملک میں ہے، اور وہاں حکومت کی طرف سے ایک جگہ سے زائد جگہوں میں جماعت کی اجازت نہیں ہے۔

جواب

واضح رہے کہ محلے كی  مسجد یعنی جس میں امام، مؤذن مقرر ہوں اور نمازی معلوم ہوں، نیز  جماعت کے اوقات بھی متعین ہوں  اور وہاں باقاعدگی سے پنج وقتہ نماز باجماعت ہوتی ہو تو ایسی مسجد میں ایک مرتبہ اذان اور اقامت کے ساتھ  محلے والوں/ اہلِ مسجد  کے  جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلینے کے بعد دوبارہ نماز کے لیے جماعت کرانا مکروہِ  تحریمی ہے۔

لہذا  عام حالات میں  ایک ہی جامع مسجد میں جمعہ کی دو جماعتیں کرانا جائز نہیں ہے؛  کیوں کہ جس طرح کسی ایک مسجد میں پنج وقتہ فرض نمازوں میں سے کسی نماز کی جماعت دو مرتبہ کروانا مکروہِ تحریمی ہے اسی طرح  ایک مسجد میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز کے قیام کے بعد دوسری مرتبہ اُسی مسجد میں جمعہ قائم کرنا مکروہ تحریمی ہے، بلکہ جمعہ کی نماز کا قیام چوں کہ شعائرِ دین میں سے ہے اور جمعہ کی نماز کی جماعت سے مقصود اسلام کی شان و  شوکت  اور مسلمانوں کے باہمی اتفاق و اتحاد کا اظہار ہے اور مسلمانوں کا جتنا بڑا مجمع جمع ہوکر جمعہ کی جماعت میں شریک ہوگا اتنا ہی زیادہ یہ مقصود حاصل ہوگا اور اس کے برخلاف جمعہ کی نماز کی جماعت کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے یہ مقصد فوت ہونے کا اندیشہ ہے۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں  اگر   مذکورہ  ملک مسلمانوں کا نہیں ہے اور مسجد میں  اتنی جگہ نہیں ہے جس میں نمازی سماسکیں تو پہلے  یہ کوشش کرنی چاہیے کہ  حکومت سے اجازت لے کر یا کرایہ وغیرہ دے کر  کسی میدان یا ہال وغیرہ میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے ؛ کیوں کہ جمعہ کی نماز ادا ہونے کےلیے مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے،  تاہم اگر   حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہ ہو، اور  اس مسجد کے علاوہ کوئی دوسری مسجد بھی قریب  میں نہ ہو  جہاں جاکر  لوگ اپنا جمعہ کا فریضہ ادا کر سکیں او ردوسری جماعت نہ کرنے کی صورت میں لوگوں کی ایک بھاری تعداد  کے جمعہ سے محروم ہوجانے کا اندیشہ ہو  تو اس مجبوری اور عذر کی وجہ سے  مذکورہ مسجد میں  جمعہ کی دوسری جماعت کرانے کی گنجائش ہوگی۔ 

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"قال: (وإذا دخل القوم مسجدا قد صلى فيه أهله كرهت لهم أن يصلوا جماعة بأذان وإقامة ولكنهم يصلون وحدانا بغير أذان ولا إقامة) لحديث الحسن: قال: كانت الصحابة إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من اتبع الجماعات ومنهم من صلى في مسجده بغير أذان ولا إقامة وفي الحديث «أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج ليصلح بين الأنصار فاستخلف عبد الرحمن بن عوف فرجع بعد ما صلى فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بيته وجمع أهله فصلى بهم بأذان وإقامة» فلو كان يجوز إعادة الجماعة في المسجد لما ترك الصلاة في المسجد والصلاة فيه أفضل، وهذا عندنا... (ولنا) أنا أمرنا بتكثير الجماعة وفي تكرار الجماعة في مسجد واحد تقليلها لأن الناس إذا عرفوا أنهم تفوتهم الجماعة يعجلون للحضور فتكثر الجماعة وإذا علموا أنه لا تفوتهم يؤخرون فيؤدي إلى تقليل الجماعات وبهذا فارق المسجد الذي على قارعة الطريق لأنه ليس له قوم معلومون فكل من حضر يصلي فيه فإعادة الجماعة فيه مرة بعد مرة لا تؤدي إلى تقليل الجماعات."

(كتاب الصلاة، باب الأذان،1/ 135، ط: دار المعرفة بيروت)

حجة الله البالغةميں ہے:

"وأيضا فلاجتماع المسلمين راغبين في الله، راجين راهبين منه، مسلمين وجوههم إليه - خاصية عجيبة في نزول البركات وتدلي الرحمة كما بينا في الاستسقاء. والحج.

وأيضا فمراد الله من نصب هذه الأمة أن تكون كلمة الله هي العليا، وألا يكون في الأرض دين أعلى من الإسلام، ولا يتصور ذلك إلا بأن يكون سنتهم أن يجتمع خاصتهم وعامتهم، وحاضرهم وباديهم، وصغيرهم وكبيرهم، لما هو أعظم شعائره وأشهر طاعاته. فلهذه المعاني انصرفت العناية التشريعية إلى شرع الجمعة والجماعات، والترغيب فيها وتغليظ النهي عن تركها."

(من أبواب الصلاة، الجماعة ، 2/ 39، ط: دارالجيل بيروت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں