بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر آباد زمین ملکیت میں ہونے کی صورت میں زکوٰۃ وصول کرنا / مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دینا


سوال

اگر کوئی آدمی فقیر ہے یعنی اس کے پاس نصاب کے بقدر رقم نہیں ہے،  لیکن اس کی ملکیت میں تقریبا 30 ایکڑ زمین ہے،  جو اس کو وراثت میں ملی ہے،  وہ زمین قابل کاشت بھی ہے اور فروخت کرنے کے قابل بھی ہے، لیکن فی الحال وہ خالی ہے،  اس پر کاشت نہیں کی جارہی ،   مذکورہ شخص کو کسی نے چار یا پانچ سالوں کی زکوۃ دی ہے توکیا مذکورہ شخص زکوۃ کا مستحق ہے یا نہیں؟ یعنی اس کا زکوۃ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر مذکورہ شخص مستحق زکوٰۃ نہیں ہے   تو جس شخص نے اس کو اتنے سالوں سے زکوۃ دی تھی تو کیا اس کا اعادہ لازمی ہے یا نہیں ؟

نوٹ : جس نے زکوۃ دی تھی وہ اس کا قریبی عزیز ہے اور اس کو ان زمینوں کا معلوم تھا۔

جواب

صورت  مسئولہ  میں  اگر  مذکورہ  شخص   كے پاس نصاب( ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت )كے بقدررقم نهيں   ہے، لیکن اس کی   اپنی  ملکیت  میں 30 ایکڑ زمین موجود ہے، جو کاشت کاری اور فروخت کرنے کے قابل ہے، مذکورہ شخص نے خود اس کو غیرآباد  چھوڑا  ہوا  ہے، جب کہ اس کی  زمین  قیمتی  ہے  (یعنی بالکل  بنجر  نہیں  ہے)   تو اس زمین  کو نصاب میں شمار کیا جائے گا، اس لیے کہ یہ اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے،  لہذا  اگر  اس کی قیمت نصاب سے زیادہ ہے تو یہ شخص زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے، اس کے لیے زکوٰۃ وصول کرنا جائز نہیں ہے، جو وصول کرلی اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔

نیز اگر زکوٰۃ دینے والے کو یہ معلوم تھا کہ اس کی ملکیت میں اتنی زمینیں موجود ہیں اور وہ مستحق نہیں ہے پھر بھی اس کو زکوٰۃ دے دی تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، اتنی زکوٰۃ دوبارہ نکالنا ضروری ہوگا، البتہ اگر اس کو معلوم نہیں تھا اور اس نے غور وفکر  کرکے  غلبہ ظن کی بنیاد پر اس کو مستحق سمجھ کر زکوٰۃ دے دی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مستحق نہیں تھا تو اس کی زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے، البتہ لینے والے کو جب معلوم ہوجائے کہ جو رقم اس نے وصول کی ہے وہ زکوٰۃ  کی رقم ہے اور وہ مستحق نہیں ہے تو اس پر لازم ہے  کہ وہ رقم  زکوٰۃ  دینے والے کو واپس کرے۔

فتاوی  شامی  میں  ہے:

"(وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)...الخ

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."

(كتاب الأضحية، 6/ 312، ط: سعید)

امداد  الفتاوی  میں  ہے:

"سوال: وجوب فطر واضحیہ  وحرمتِ اخذ، زکوۃ وغیرہ و صدقات کے لیے عقار کی غناء کس طرح پر ہے ؟بہت جزئیات دیکھے مگر تسکین نہ ........اس مسئلہ میں منقح حکم فرمایا جاوے۔

الجواب :روایات مذکورہ تو زیادہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ،لیکن استاذی علیہ الرحمہ  امام  کومحمد ؒکے قول پر  فتوی دیتے ہوئے دیکھا،اور خود احقر کا عمل بھی اسی پر ہے ،مگر اس میں قدرے تفصیل ہے :وہ یہ کہ اگر اس عقار سے یہ شخص استغلال نہیں کرتا تب تو خود اس کی قیمت کا اعتبا ر  ہے ،پس اگر  وہ فاضل از حاجتِ اصلیہ قیمت  بقدرِ نصاب ہے تو مانع اخذِ زکوۃ وموجبِ فطر واضحیہ ہے،اور اگر  اس سے استغلال کرتا ہے تو اس کے غلہ کا اعتبار ہے، اگر  اس کا غلہ  سال بھر کے خرچ سے بمقداِر نصاب نہیں بچتا تو مانع اخذِ زکوۃ وموجبِ فطر واضحیہ نہیں ،اور امام صاحب کے قول کا  تقدم علی الاطلاق  نہیں .کما فصل فی رسم المفتی ۔"

(کتاب الزکوۃ والصدقۃ ،:ج :2،ص :60،ط :دارالعلوم کراچی )

فتاوی شامی میں ہے:

 "(‌دفع ‌بتحر) ‌لمن ‌يظنه ‌مصرفا (‌فبان ‌أنه ‌عبده أو مكاتبه أو حربي، و لو مستأمنًا أعادها) لما مر (و إن بان غناه أو كونه ذميًّا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد، لانه أتى بما في وسعه،حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ. 

(قوله: دفع بتحر) أي اجتهاد وهو لغة الطلب والابتغاء، ويرادفه التوخي إلا أن الأول يستعمل في المعاملات، والثاني في العبادات. وعرفا طلب الشيء بغالب الظن عند عدم الوقوف على حقيقته نهر (قوله: لمن يظنه مصرفا) أما لو تحرى فدفع لمن ظنه غير مصرف أو شك ولم يتحر لم يجز حتى يظهر أنه مصرف فيجزيه في الصحيح خلافا لمن ظن عدمه، وتمامه في النهر.  وفيه: واعلم أن المدفوع إليه لو كان جالسا في صف الفقراء يصنع صنعهم أو كان عليه زيهم أو سأله فأعطاه كانت هذه الأسباب بمنزلة التحري كذا في المبسوط حتى لو ظهر غناه لم يعد... قوله: ولو دفع بلا تحر) أي ولا شك كما في الفتح. وفي القهستاني بأن لم يخطر بباله أنه مصرف أو لا، وقوله لم يجز إن أخطأ أي إن تبين له أنه غير مصرف فلو لم يظهر له شيء فهو على الجواز وقدمنا ما لو شك فلم يتحر أو تحرى وغلب على ظنه أنه غير مصرف.

[تنبيه] في القهستاني عن الزاهدي: ولا يسترد منه لو ظهر أنه عبد أو حربي وفي الهاشمي روايتان ولا يسترد في الولد والغني وهل يطيب له؟ فيه خلاف، وإذا لم يطب قيل يتصدق وقيل يرد على المعطي اهـ"

(كتاب الزكاة،باب المصرف، 2/ 352، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع، و كذا إن لم يظهر حاله عنده، و أما إذا ظهر أنه غني أو هاشمي أو كافر أو مولى الهاشمي أو الوالدان أو المولودون أو الزوج أو الزوجة فإنه يجوز وتسقط عنه الزكاة في قول أبي حنيفة و محمد - رحمهما الله تعالى -، و لو ظهر أنه عبده أو مدبره أو أم ولده أو مكاتبه فإنه لا يجوز عليه أن يعيدها بالإجماع، و كذا المستسعى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - هكذا في شرح الطحاوي."

(کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، فصل ما يوضع في بيت المال من الزكاة، 1 / 189،190، ط:مکتبہ رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں