
1. مغصوبہ پلاٹ پر مسجد بنانے کا کیا حکم ہے؟
2. مغصوبہ پلاٹ پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے تو کیا حکم ہے؟
3.مغصوبہ پلاٹ پر قبر بنائی جائے تو کیا حکم ہے؟
1.واضح رہے کہ شرعی مسجد کی جگہ خالص اللہ کے لیے وقف ہوتی ہے اور جگہ وقف کرنے کی ایک شرط اس جگہ کا مالک ہونا ہے،صورتِ مسئولہ میں چوں کہ غاصب زمین کا مالک نہیں ہوتا، لہذا غصب شدہ زمین میں مسجد بنانے سے وہ شرعی مسجد نہیں کہلائے گی،نیز زمین غصب کرنا اور اس پر مسجد بنانا گناہ ہے۔ البتہ اگر مذکورہ جگہ مالک کو رقم دے کر خرید لی جائے تو پھر مسجد بنانا جائز ہوگی۔
2. مغصوبہ پلاٹ میں نمازجنازہ پڑھنا دیگر نماز وں کی طرح مکروہ تحریمی ہے، البتہ نماز جنازہ ادا ہوجائے گی۔
3.مغصوبہ پلاٹ میں قبر بنانا ناجائز ہے، اگر مالک اجازت دے دے تو قبرکو اس جگہ برقرار رکھا جاسکتا ہے،البتہ اگر مالک اجازت نہ دے تو میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وشرطه شرط سائر التبرعات) كحرية وتكليف۔
وفي الرد:(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح، ولو أجاز المالك وقف فضولي جاز."
(كتاب الوقف، مطلب قد يثبت الوقف بالضرورة ، ج: 4، ص: 340 ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا."
(كتاب الوقف، الباب الأول في تعريف الوقف وركنه، ج: 2، ص: 353، ط: رشيدية)
فتاوى هنديہ میں ہے:
"الصلاة فى أرض مغصوبة جائزة ولكن يعاقب بظلمه فما كان بينه وبين اللّٰه تعالي يثاب وما كان بينه وبين العباد يعاقب كذا فى مختار الفتاوى،الصلاة جائزة فى جميع ذالك لاستجماع شرائطهاواركانها وتعاد على وجه غير مكروه وهو الحكم فى كل صلاة أديت مع الكراهة كذا في الهداية،فان كانت تلك الكراهة كراهة تحريم تجب الإعادة أو تنزيه تستحب فإن الكراهة التحريمية في رتبة الواجب كذا في فتح القدير."
(كتاب الصلاة،الباب السابع، الفصل الثاني،ج:1، ص: 121، ط: دار الفكر بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"وكذا تكره في أماكن كفوق كعبة….. وأرض مغصوبة أو للغير وفى حاشية ابن عابدين: بنى مسجداً على سور المدينة لا ينبغي أن يصلي فيه؛لأنه حق العامة فلم يخلص للّٰه تعالى كالمبني في أرض مغصوبة".
(كتاب الصلاة، قبیل باب الآذان، ج:2، ص: 55، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101102
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن