بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1448ھ 02 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

غصب کر کے خاندان تقسیم کی جانے والی مغصوبہ زمین و جائیداد کا شرعی حکم


سوال

میرے پاس چند زمینیں میرے نام پر موجود ہیں۔ ان زمینوں کے متعلق مجھے یہ معلوم ہے کہ یہ اصل مالکان سے خریدی نہیں گئیں اور نہ ہی ان کی قیمت ادا کی گئی ہے، بلکہ میرے خاندان کے بعض افراد، جو سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، انہوں نے مختلف اوقات میں سرکاری زمینوں، گوٹھوں اور بعض ایسی زمینوں پر قبضہ کیا جو پہلے لوگوں کے زیرِ استعمال تھیں۔ بعض مقامات پر لوگوں کے مکانات بھی موجود تھے جنہیں خالی کرا کر یا گرا کر زمین اپنے قبضے میں لی گئی۔ بعد میں انہی زمینوں میں سے کچھ زمینیں خاندان کے افراد میں تقسیم کر دی گئیں اور اس طرح کچھ زمینیں میرے نام پر بھی منتقل ہو گئیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ: -

۱۔ ایسی زمینوں کی شرعی حیثیت کیا ہے جبکہ مجھے ان کی اصل حقیقت اور حصول کا طریقہ معلوم ہے؟ 

۲۔اگر یہ زمینیں شرعاً میرے لیے جائز ملکیت شمار نہیں ہوتیں تو میری ذمہ داری کیا ہے؟ اور توبہ و براءتِ ذمہ کے لیے شرعی طریقہ کیا ہوگا؟

۳۔ کیا میرے لیے ان زمینوں کو بیچنا، ہبہ کرنا یا کسی اور کو منتقل کرنا جائز ہے؟

۴۔ کیا ایسی زمینوں پر مسجد، مدرسہ، دینی ادارہ یا کوئی اور دینی و فلاحی کام قائم کرنا جائز ہے؟  

براہِ کرم قرآن و سنت اور اکابر مفتیانِ کرام کی تصریحات کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب

۱-۲۔بصورت مسئولہ آپ کے خاندان کے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کا کسی کی مملوکہ زمین، جائیداد یا سرکاری و عوامی اراضی پر ناجائز قبضہ کرنا سخت ترین کبیرہ گناہ اور ظلمِ عظیم ہے،رسول اللہ ﷺ نے اِس پر سخت وعیدیں سنائی ہیں، اُن پر لازم ہے کہ اِس پر توبہ استغفار کریں اور زمین اصل مالکان کو واپس کریں، کیوں کہ  اِس طرح زبردستی زمین و جائیداد چھین لینے سے اُس کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی، بلکہ مغصوبہ زمین پر اصل مالکان کی ملکیت ہی باقی رہتی ہے،اور اُنہیں لوٹانا شرعاً ضروری ہے۔لہذا آپ کو مغصوبہ زمینوں میں جس قدر حصہ تقسیم وغیرہ کے بعد خاندان کی طرف سے ملا ہے اور آپ کے نام منتقل ہوا ہے، شرعاًآپ اُس کے مالک نہیں ہیں، بلکہ جن لوگوں سے غصب کی گئی ہے اُنہیں یا اُن کے انتقال کی صورت میں اُن کے ورثاء کو واپس لوٹانا آپ کے ذمہ لازم ہے،زمین  اصل مالکان و حقداروں کو واپس کیے بغیر آپ عہدہ براں نہیں ہوسکتے، اوراگر آج اس دنیا میں نا لوٹائی گئیں  تو کل قیامت میں یہ حق ادا کرنا ہوگا۔

۲-۳۔جب آپ ان زمینوں کے شرعی مالک ہی نہیں ہیں، تو آپ کے لیے انہیں آگے فروخت کرنا، کسی کو تحفہ یا ہبہ کرنا، کسی کے نام منتقل کرنا،یااصل مالکان کی اجازت و رضامندی کے بغیر اِن پر  مسجد، مدرسہ، ہسپتال یا کوئی بھی دینی و فلاحی ادارہ قائم کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

 ارشاد باری تعالی ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ"  (سورۃ المائدة :29)

ترجمہ: اے ایمان والو!آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو تو مضائقہ نہیں ۔(بیان القرآن)

صحیح بخاری میں ہے:

" عن سالم، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من أخذ من الأرض شيئًا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين»."

(كتاب المظالم والغصب، باب إثم من ظلم شيئا من الأرض، ج:3، ص:130، ط: دار طوق النجاة)

ترجمہ:”حضرت سالم اپنے والد ( عبداللہ بن عمرؓ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا تو اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔“

مشكاة المصابيح ميں هے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»."

(باب الغصب والعاریة،  ج:2، ص:887، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:” حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔“

وفیہ ایضاً:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج:2، ص:889، ط:المكتب السلامي)

ترجمہ : ”حضرت  ابو حرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد  فرمایا: خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی  مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں۔“

تفسیر بغوی ميں  ہے:

"قوله تعالى:{يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل}أي بالحرام، يعني: بالربا والقمار والغصب والسرقة."

(سورة النساء، 176/1، ط: دارالسلام)

بذل المجہود میں ہے:

"{لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ}، فهذا يدل على أن الملك لا يحصل إلا بتمليك عن المالك بسبب من ‌أسباب ‌الملك."

 

(أول كتاب البيوع، باب: فيمن أحيا حسيرا، ج: 11، ص: 252، ط: مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامیة)

بدائع الصنائع ميں  ہے:

"(أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب، والكلام في هذا الحكم في ثلاثة مواضع: في بيان سبب وجوب الرد، وفي بيان شرط وجوبه، وفي بيان ما يصير المالك به مستردا أما السبب فهو ‌أخذ ‌مال ‌الغير بغير إذنه لقوله عليه الصلاة والسلام:" على اليد ما أخذت حتى ترد"، وقوله عليه الصلاة والسلام:" لا يأخذ أحدكم ‌مال صاحبه لاعبا ولا جادا، فإذا ‌أخذ أحدكم عصا صاحبه فليرد عليه."

(کتاب الغصب، فصل فی حکم الغصب،148/7، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد".

 (کتاب الوقف، ج:4، ص:340، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."

(كتاب الغصب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح، ج: 6، ص: 200، ط: سعيد)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:

"لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه أو وكالة منه أو ولاية عليه وإن فعل كان ضامنا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 96، ج:1، ص:51، ط:رشيدية)

وفیہ ایضاً:

"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي وإن أخذ ولو على ظن أنه ملكه وجب عليه رده عينا إن كان قائما وإلا فيضمن قيمته إن كان قيميا."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 97، ج:1، ص:51، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم بالصواب


فتویٰ نمبر : 144712101082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں