بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

غریب شخص نے قربانی کا ایک حصہ لینے کے بعد دوسرا حصہ بھی لے لیا


سوال

ایک فقیر آدمی نے ایک گائے میں ایک حصہ لیا  وکیل کے ذریعے، پھر دوسری جگہ دوسری گائے  میں حصہ لیا کہ پہلی والی سے اب نہیں کروں گا  دوسری والی سے کروں گا، جب کہ دوسری میں حصہ لیتے وقت پہلے والے شرکاء کو نہیں بتایا، بلکہ دوسری جگہ حصہ لینے کے بعد ان کو بتایا ۔تو اب اس آدمی کا  کیا حکم ہے یہ ان دونوں حصوں سے قربانی کرے گا یا دوسری سے کرسکتا ہے؟  اگر کرسکتا ہے تو پہلے والے شرکاء اب چھ رہ گئے ہیں وہ کیا کریں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ فقیر شخص دونوں حصوں میں سے کسی ایک حصہ کی قربانی کر سکتا ہے، تاہم اگر دوسرا حصہ پہلے حصہ کی بنسبت کم قیمت کا ہو تو اس صورت میں دونوں قیمتوں میں جو فرق ہو وہ صدقہ کرنا لازم ہوگا، جیساکہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رَجُلٌ اشْتَرَى شَاةً لِلْأُضْحِيَّةِ وَأَوْجَبَهَا بِلِسَانِهِ، ثُمَّ اشْتَرَى أُخْرَى جَازَ لَهُ بَيْعُ الْأُولَى فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ - رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى -، وَإِنْ كَانَتْ الثَّانِيَةُ شَرًّا مِنْ الْأُولَى وَذَبَحَ الثَّانِيَةَ فَإِنَّهُ يَتَصَدَّقُ بِفَضْلِ مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا أَوْجَبَ الْأُولَى بِلِسَانِهِ فَقَدْ جَعَلَ مِقْدَارَ مَالِيَّةِ الْأُولَى لِلَّهِ تَعَالَى فَلَا يَكُونُ لَهُ أَنْ يَسْتَفْضِلَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا، وَلِهَذَا يَلْزَمُهُ التَّصَدُّقُ بِالْفَضْلِ. قَالَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا: هَذَا إذَا كَانَ الرَّجُلُ فَقِيرًا فَإِنْ كَانَ غَنِيًّا فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِفَضْلِ الْقِيمَةِ، قَالَ الْإِمَامُ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ السَّرَخْسِيُّ: الصَّحِيحُ أَنَّ الْجَوَابَ فِيهِمَا عَلَى السَّوَاءِ يَلْزَمُهُ التَّصَدُّقُ بِالْفَضْلِ غَنِيًّا كَانَ أَوْ فَقِيرًا؛ لِأَنَّ الْأُضْحِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ وَاجِبَةً عَلَى الْغَنِيِّ فِي الذِّمَّةِ فَإِنَّمَا يَتَعَيَّنُ الْمَحَلُّ بِتَعْيِينِهِ فَتَعَيَّنَ هَذَا الْمَحَلُّ بِقَدْرِ الْمَالِيَّةِ لِأَنَّ التَّعْيِينَ يُفِيدُ فِي ذَلِكَ". (الْبَابُ الثَّانِي فِي وُجُوبِ الْأُضْحِيَّةِ بِالنَّذْرِ وَمَا هُوَ فِي مَعْنَاهُ، ٥ /٢٩٤)فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144012200305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں