بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اوورٹیک کرنے کی وجہ سے دوسری گاڑی اور ڈرائیور کا نقصان اور ازالے کی صورت


سوال

میں اسلام آباد کام سے جا رہا تھا اور ایسی سڑک پر تھا جس پر ٹریفک دونوں طرف چلتی ہے، میں جلدی میں تھا،میں نے اوورٹیک کیا جس کی وجہ سے سامنے سے آنے والی سوزوکی مجھے بچاتے ہوئے پلٹ گئی، ٹریفک  قوانین کے لحاظ سے مجھے سوزوکی کے گزرنے کا انتظار کرنا چاہیے تھا، لیکن میں جلدی میں تھا اس لیے نہیں رکا، اگلے دن میں نے اپنے دو رشتہ داروں کو سوزوکی والے کی تلاش میں بھیجا، لیکن وہ نہ ملا، البتہ موقعہ واردات کے قریب سے معلوم ہوا کہ اس کو قریبی ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے اور اس کی ہڈی وغیرہ ٹوٹی ہے اور گاڑی کا بھی نقصان ہوا ہے، لیکن سوزوکی والا تلاش کے باوجود نہ ملا ، کیا مجھ پر سوزوکی والے کا نقصان پورا کرنا لازم ہے؟ اگر ہے تو اگر تلاش کے باوجود سوزوکی والا نہ مل سکے تو اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہے؟

جواب

ٹریفک کے قوانین جو مفاد عامہ کے لیے بنائے جاتے ہیں، ان کی پاسداری کرنا شرعاً اور اخلاقاً لازم ہے، بالخصوص بڑی شاہراہ پر اوور ٹیک یا تو ممنوع ہوتا ہے یا اس صورت میں اجازت ہوتی ہے جب دوسری جانب کوئی گاڑی موجود نہ ہو۔

لہذا صورت مسئولہ  میں جب دوسری  جانب سے آنے والی گاڑی كےگزرنے کی گنجائش نہیں تھی تو سائل کو اوور ٹیک نہیں کرنا چاہیے تھا، جیسا کہ سائل نے لکھا ہے کہ  مجھے سوزوکی کے گزرنے کا انتظار کرنا چاہیے تھا، لیکن میں جلدی میں تھا اس لیے نہیں رکا ، لہذا مذکورہ سوزوکی کے الٹنے اور ڈائیور کے زخمی ہونے کا سبب سائل بنا ہے، لہذا سائل پر مذکورہ شخص کا علاج معالجہ اور گاڑی کا نقصان ادا کرنا لازم ہے، سائل کو چاہیے کہ ممکنہ تمام ذرائع سے (بذریعہ ہسپتال، یا مذکورہ شاہراہ کے حکام سے رابطہ اور معلومات)اس کی تلاش کرکے اس کے نقصان کا ازالہ کرے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله الأصل) أي في مسائل هذا الباب، وكذا الأصل أيضا أن المتسبب ضامن إذا كان متعديا، وإلا لا يضمن والمباشر يضمن مطلقا، كما يظهر من الفروع رحمتي."

(كتاب الديات، باب جنايت البهيمة و الجناية عليها، ج: 6، ص: 603، ط: سعيد)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والأصل في هذا أن السير على الدابة في طريق المسلمين ‌مباح ‌مقيد بشرط السلامة بمنزلة المشي فإن الحق في الطريق لجماعة المسلمين وما يكون حقا للجماعة يباح لكل واحد استيفاؤه بشرط السلامة؛ لأن حقه في ذلك يمكنه من الاستيفاء ودفع الضرر عن الغير واجب عليه فيقيد بشرط السلامة؛ ليعتدل النظر من الجانبين."

(كتاب الديات، ج: 26، ص: 188، ط: دار المعرفة)

وفیہ ایضاً:

"وإذا وضع الرجل ‌في ‌الطريق ‌حجرا أو بنى فيه بناء أو أخرج من حائطه جذعا أو صخرة شاخصة في الطريق أو أشرع كنيفا أو حياضا أو ميزابا أو وضع في الطريق جذعا فهو ضامن لما أصاب من ذلك لأنه مسبب لهلاك ما تلف بما أحدثه وهو متعد في هذا التسبب فإنه أحدث في الطريق ما يتضرر به المارة أو يحول بينهم وبين المرور في الطريق الذي هو حقهم ووجوب الضمان لصيانة دم المتلف عن الهدر فإذا أمكن إيجابه على المسبب لكونه متعديا في تسبيبه نوجبه عليه ."

(كتاب الديات، ج: 27، ص: 6، ط: دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں