
ایک شخص کا انتقال ہوچکا ہے،جس کے وارثوں میں سے ایک بیوہ اور چار بیٹیاں ہیں،اور ایک بھتیجا بھی ہے،ان کے علاوہ اس کا کوئی سگابھائی بہن حیات نہیں ہے،مرحوم نے اپنا گھر اپنی بیٹی کو بطور تحفہ دیا تھا اور خوداسی گھر میں رہائش پذیر تھے،اور قبضہ و تصرف بھی مرحوم کا ہی تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ گھر بیٹی کا شمار ہوگا یا تمام ورثاء کو اس گھر میں سے حصہ ملے گا؟
وضاحت:مرحوم نے اپنی جس بیٹی کو یہ گھر دیا تھا اس وقت وہ بالغ تھی ۔
واضح رہے کہ گھر میں رہتے ہوئے اپنی بالغ اولاد یا کسی اور کو گفٹ کرنا انتقالِ ملکیت کے لیے شرعاً ناکافی ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اپنا رہائشی مکان جو ایک بیٹی کو دیا مگرموت تک اسی گھر میں رہائش پذیر رہے،مالکانہ قبضہ اور تصرف کا اختیار مذکورہ بیٹی کو نہیں دیا تھا،اس صورت میں بیٹی شرعاً مذکورہ گھر کی مالک نہیں بنی مکان بدستور والد کی ملکیت میں رہا،اور ان کی موت کے بعد مرحوم کے ترکہ کا حصہ ہے،جس میں مرحوم کے تمام شرعی وارث حصص شرعی کے تناسب سے شریک ہیں،پس مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:
سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخرجات نکالنے کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرض ہوتو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اسے ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد مابقیہ کل ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کرکے 3 حصے بیوہ کو ، 4،4 حصےہر ایک بیٹی کو اور 5 حصے بھتیجے کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت (مرحوم والد):24
| بیوہ | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بھتیجا |
| 3 | 4 | 4 | 4 | 4 | 5 |
یعنی فیصد کے حساب سے12.5 فیصد بیوہ کو ،16.67فیصد ہر ایک بیٹی کو اور 20.83فیصد بھتیجے کو ملے گا ۔
الفتاوی التاتارخانیہ میں ہے:
"و في المنتقى عن أبي يوسف: لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا وهما فيها ساكنان، و كذلك الهبة للولد الكبير؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار."
(فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، نوع منه، ج:14، ص:431، ط: زکریا، دیوبند، دہلی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101359
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن