
میری شادی کو 4سال ہونے والے ہیں، ہم دو بہنیں ہیں، ایک دیورانی اور ایک جیٹھانی۔ ہماری ساس شروع کے 3ماہ تو ٹھیک تھیں، اس کے بعد ہمارے گھر میں بے سکونی آگئی، معاشی تنگی بھی ہے۔ ہم جتنا مخلص بن کر رہنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر کوئی نہ کوئی بات ہو جاتی ہے۔ میری چار نندیں ہیں، ان میں سے تین شادی شدہ ہیں اور سب سے چھوٹی ابھی کنواری ہے، لیکن وہ ہر بات میں ہماری بےعزتی کرتی ہے، ہر بات میں بولتی ہے، نیز ساس بھی بہت سخت مزاج ہوگئی ہیں، اب کچن بھی استعمال نہیں کرنے دیتی اور نہ ہی کو ئی سامان رکھنے دیتی ہیں، بات بات پر میری بڑی نند میری فوت شدہ والدہ کے طعنہ دیتی ہیں، میری ساس بھی میری خالہ وغیرہ کو برا بھلا کہتی ہیں، جب کہ میری تیسری دیورانی کو بھی گھر سے نکال دیا ہے، وہ دو ماہ سے اپنی والدہ کے گھر ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ ہمارے گھر سے جھگڑے ختم ہوجائیں اور سکون کا ماحول پیدا ہو، اور رزق میں برکت کے لیئے بھی کوئی وظیفہ بتائیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کو چاہیے کہ اپنی نندوں اور ساس سے حسن اخلاق کا مظاہر ہ کرے، ان سے محبت کرے اور ان کے کاموں میں ہاٹھ بٹائے، نیز کوشش کرے کہ ان کی تکلیف دہ باتوں کا جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرے، انشاء اللہ رفتہ رفتہ ان کے دلوں میں محبت پیدا ہوجائے گی۔ اور ان کی جانب سے جو اذیت ہو، اس پر صبر کرے اور اللہ سے اجر کی امید رکھے۔ نیز سائلہ اور باقی گھر والے فرائض وسنن کی پابندی کے ساتھ گناہوں سے اجتناب کریں، استغفار کی کثرت کریں اور درود شریف کا اہتمام کریں،یاعزیز ،یاودود کثرت سے پڑھیں ، اس سے انشاء اللہ پریشانیاں ختم ہوں گی، معاشي تنگي دور هوگي، الله كي طرف سے سامانِ رزق مهيا هوگا اور گھر میں سکون کا ماحول پیدا ہوجائے گا۔
نیز حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے ،آیت یہ ہے:
اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ( الشوری: ۱۹) (معارف القرآن:جلد ۷ صفحه ۶۸۷)
باری تعالی کا ارشاد ہے:
{وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ}[فصلت:34]
ترجمہ: ”اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی (ہر ایک کا اثر جدا ہےتو اب آپ ( مع اَتباع) نیک برتاؤ سے (بدی کو) ٹال دیا کیجیے، پھر یکایک آپ میں اور جس شخص میں عداوت تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیساکوئی دلی دوست ہوتاہے۔“ (بیان القرآن)
دوسری جگہ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاًويَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (سورہ طلاق:2، 3)
ترجمہ: اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے (مضرتوں سے ) نجات کی شکل نکال دیتا ہے ۔ ور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے اسکا گمان بھی نہیں ہوتا ۔“ (بیان القرآن)
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً (10) يُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَاراً (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَاراً(12) (سورہ نوح)
ترجمہ: ”اور (اس سمجھانے میں ) میں نے (ان سے یہ ) کہا کہ تم اپنے پروردگار سے گناہ بخشواؤ بیشک وہ بڑابخشنے والا ہے۔ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا ۔اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغ لگادے گا اور تمہارے لئے نہریں بہادے گا ۔ “ (بیان القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي بن كعب قال: قلت: يا رسول الله إني أكثر الصلاة عليك فكم أجعل لك من صلاتي؟ فقال: «ما شئت» قلت: الربع؟ قال: «ما شئت فإن زدت فهو خير لك» . قلت: النصف؟ قال: «ما شئت فإن زدت فهو خير لك» قلت: فالثلثين؟ قال: «ما شئت فإن زدت فهو خير لك» قلت: أجعل لك صلاتي كلها؟ قال: «إذا تكفى همك ويكفر لك ذنبك» . رواه الترمذي."
(کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ علی النبی، الفصل الثانی، ج:1، ص:293، ط: المکتب الاسلامی)
ترجمہ:” حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، (یعنی کثرت سے درود بھیجنا چاہتا ہوں) اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتلا دیجیے کہ اپنے لیے دعا کے واسطے جو وقت میں نے مقرر کیا ہے، اس میں سے کتنا وقت آپ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جس قدر تمہارا جی چاہے“ میں نے عرض کیا ”کیا چوتھائی (وقت مقرر کر دوں)“؟ فرمایا ”جتنا تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے“ میں نے عرض کیا ”تو پھر دو تہائی مقرر کر دوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس قدر تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے“ میں نے عرض کیا اچھا تو پھر اپنی دعا کا سارا وقت ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درود کے واسطے مقرر کیے دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ تمہیں کفایت کرے گا تمہارے دین اور دنیا کے مقاصد کو پورا کرے گا اور تمہارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔“ (مظاہر حق)
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ’’بہشتی زیور‘‘ میں خواتین کو خطاب کرکے تحریر فرماتے ہیں:
"جب تک ساس خسر زندہ رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابع داری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے، خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں ۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی۔"
(بہشتی زیور، حصہ چہارم، نکاح کا بیان، [باب:31] (ص:47، 48) ط: تاج کمپنی کراچی)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100222
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن