بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر کے کام عورت پر فرض ہیں یا اخلاقی ذمہ داری ہے


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ گھر کی ذمہ داری مثلاً کھانا بنانا، بچوں کی دیکھ بھال عورت کی ذمہ داری ہے یا اخلاقیات میں داخل ہے؟ مجھے تو پتہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ذمہ داری ہے مگر آج ایک خاتون سے بحث ہورہی تھی وہ فرما رہی تھیں کہ نہیں ہے، یہ مرد کی ذمہ داری ہے تبھی اسے حاکم بنایا گیا ہے۔ اب اس طرح کے لبرل لوگوں کو علمی جواب کیسے دیا جائے؟

میں نے تواپنی کوشش کی اور جہاں تک ہو سکااللہ کی بات پہنچائی، لیکن آپ علماء سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں علمی و عقلی دلائل سے وضاحت کریں۔

ورنہ نئی نئی سکالرز ہماری مسلمان عورتوں کو اللہ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑیں گے اور وہ محترمہ یہ ساری باتیں اللہ کا نام لے کر کر رہی تھیں کہ اللہ نے عورت کو آزاد بنایا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ خوش گوار ازدواجی زندگی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنے قضائی فرائض سے آگے بڑھ کر اخلاقی ذمہ داریوں کو بھی حسن اخلاق کے ساتھ ادا کریں، جب میاں بیوی اپنے حقوق حاصل کرنے کے بجائے دوسرے کے حقوق ادا کرنے کو ترجیح دیں گے تو یقینا دونوں میں محبت اور الفت بڑھے گی اور ان کی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے گی،زندگی کے ہر شعبہ کی طرح اس شعبہ میں بھی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ معاشرت پوری امت کے لیے بہترین نمونہ ہے، سنن ترمذی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی بچوں) کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے اہل کے حق میں تم سب سے بہتر ہوں،اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر میں کسی کو (اللہ کے علاوہ) کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔

جہاں تک گھرداری کے کاموں کا تعلق ہے اس کے متعلق خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ گھرانے سے ہمیں اس کے بارے میں ہدایت ملتی ہے، صحیح بخاری میں حضرت علی   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں جو چکی چلاچلا کر ہاتھوں میں چھالے پڑگئے تھے، اس کی شکایت کرنے آئیں، ان کو معلوم ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آئے ہیں، لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوئی تو انہوں نے حضرت عائشہ    رضی اللہ عنہا  سے بیان کیا، حضرت علی   رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اس حال میں کہ ہم سونے کے لیے بستر پر جاچکے تھے، ہم نے اٹھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے اور حضرت فاطمہ    رضی اللہ عنہا  کے درمیان بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے اپنے پیٹ پر آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے دونوں پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں، جو تم نے مجھ سے مانگی ہے، جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو 33 بار سبحان اللہ کہو اور 33 بار الحمدللہ کہو اور 34 بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لئے خادم سے بہتر ہے۔

حافظ طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خانہ داری کے وہ امور جنہیں عورت گھر میں رہ کر سرانجام دے سکتی ہے  شوہر کے ذمہ نہیں ہیں بشرطیکہ  عورت ایسے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو جہاں کی عورتیں گھریلو کام خود کرتی ہیں، کیوں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب اپنے والد مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر کے کاموں کی مشقت کی شکایت کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خادم کا تقاضہ کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت علی رضی اللہ کو اس کا پابند نہیں بنایا کہ وہ کسی خادم کا انتظام کریں یا خود گھریلو کام سرانجام دیں، اگر یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری ہوتی تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا پابند فرماتے جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مہر کی ادائیگی کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پابند فرمایا تھا۔اسی طرح ازواج مطہرات اپنے اپنے گھروں کا کام خود کیا کرتی تھیں۔

البتہ اگر عورت ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہو جہاں کی گھریلو کام خود  نہ کرتی ہوں تو شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ وہ کسی خادمہ وغیرہ کا انتظام کرے نیز اگر شوہر مالدار ہے تو بہر صورت اسے معروف طریقہ سے بیوی کے لیےخادمہ کا انتظام کرنا چاہیے ، قرآن مجید میں ہمیں اسی کی تعلیم ملتی ہے۔نیز اس معاملہ کے شرعی حکم میں شہر اور علاقہ کے رواج کا بھی گہرا اثر ہے، قرآن مجید میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 19 سے بھی اسی طرف اشارہ ملتا ہے۔

چنانچہ گھر کے کام مثلاً کھانا پکانا، گھر کی صفائی وغیرہ عورت کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور دیانتاً عورت پر فرض ہے، چنانچہ کسی واقعی عذر مثلاً بیماری وغیرہ کے بغیر عورت کو ان کاموں سے ہرگز انکار نہیں کرنا چاہیے ، اور اگر کوئی عذر یا بیماری وغیرہ ہو تو  شوہر کو چاہیے کہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق گھر کے کاموں کے لیے خادمہ یا نوکرانی کا انتظام کرے۔

سنن ترمذی میں ہے:

"3895 ...عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خيركم ‌خيركم ‌لأهله وأنا ‌خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه."

(‌‌أبواب المناقب، باب في فضل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، 5/ 709 ، ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

وفيه أيضاً:

"1159...عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد ‌لأمرت ‌المرأة أن تسجد لزوجها."

(‌‌أبواب الرضاع، باب ما جاء في حق الزوج على المرأة، 3/ 457 ،ط: مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

صحیح بخاری میں ہے:

"5361 ...عن ‌ابن أبي ليلى: حدثنا ‌علي أن فاطمة عليهما السلام أتت النبي صلى الله عليه وسلم تشكو إليه ما تلقى في يدها من الرحى وبلغها أنه جاءه رقيق، فلم تصادفه فذكرت ذلك لعائشة، فلما جاء أخبرته عائشة قال: فجاءنا وقد أخذنا مضاجعنا فذهبنا نقوم، فقال: على مكانكما، فجاء فقعد بيني وبينها حتى وجدت برد قدميه على بطني، فقال: ألا أدلكما على خير مما سألتما؟ إذا أخذتما مضاجعكما أو أويتما إلى فراشكما فسبحا ثلاثا وثلاثين، واحمدا ثلاثا وثلاثين، وكبرا أربعا وثلاثين، فهو خير لكما من خادم."

(‌‌كتاب النفقات، ‌‌باب عمل المرأة في بيت زوجها، 7/ 65، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

فتح الباری میں ہے:

"قال الطبري يؤخذ منه أن كل من كانت لها طاقة من النساء على خدمة بيتها في خبز أو طحن أو غير ذلك أن ذلك لا يلزم الزوج إذا كان معروفا أن مثلها يلي ذلك بنفسه ووجه الأخذ أن فاطمة لما سألت أباها صلى الله عليه وسلم الخادم لم يأمر زوجها بأن يكفيها ذلك إما بإخدامها خادما أو باستئجار من يقوم بذلك أو بتعاطي ذلك بنفسه ولو كانت كفاية ذلك إلى علي لأمره به كما أمره أن يسوق إليها صداقها قبل الدخول مع أن سوق الصداق ليس بواجب إذا رضيت المرأة أن تؤخره فكيف يأمره بما ليس بواجب عليه ويترك أن يأمره بالواجب وحكى بن حبيب عن أصبغ وبن الماجشون عن مالك أن خدمة البيت تلزم المرأة ولو كانت الزوجة ذات قدر وشرف إذا كان الزوج معسرا قال ولذلك ألزم النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة بالخدمة الباطنة وعليا بالخدمة الظاهرة وحكى بن بطال أن بعض الشيوخ قال لا نعلم في شيء من الآثار أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى على فاطمة بالخدمة الباطنة وإنما جرى الأمر بينهم على ما تعارفوه من حسن العشرة وجميل الأخلاق وأما أن تجبر المرأة على شيء من الخدمة فلا أصل له بل الإجماع منعقد على أن على الزوج مؤنة الزوجة كلها ونقل الطحاوي الإجماع على أن الزوج ليس له إخراج خادم المرأة من بيته فدل على أنه يلزمه نفقة الخادم على حسب الحاجة إليه وقال الشافعي والكوفيون يفرض لها ولخادمها النفقة إذا كانت ممن تخدم وقال مالك والليث ومحمد بن الحسن يفرض لها ولخادمها إذا كانت خطيرة وشذ أهل الظاهر فقالوا ليس على الزوج أن يخدمها ولو كانت بنت الخليفة وحجة الجماعة قوله تعالى وعاشروهن بالمعروف وإذا احتاجت إلى من يخدمها فامتنع لم يعاشرها بالمعروف."

(‌‌كتاب النفقات، باب خادم المرأة، 9/ 506، ط: دار المعرفة)

(كذا في عمدة القاري: كتاب النفقات، باب: خادم المرأة، 21/ 20، ط: دار الفكر)

شرح صحیح بخاری لابن بطال میں ہے:

" فلذلك ألزمنا الرجل كفاية التى لا تخدم نفسها مئونة الخدمة التى لا تصلح لها، وألزمناه مئونة خادم إذا كان فى سعة، وبنحو الذى قلنا نزل القرآن، وذلك قوله: (لينفق ذو سعة) [الطلاق: 7] الآية، وعليه علماء الأمة مجمعة... وحجة الجماعة قوله: (وعاشروهن بالمعروف) [النساء: 19] ، وإذا احتاجت إلى من يخدمها فلم يفعل لم يعاشرها بالمعروف."

(‌‌كتاب النفقات، ‌‌باب عمل المرأة في بيت زوجها، 7/ 539، ط: مكتبة الرشد)

وفي البخاري أيضاً:

"5224  ...عن ‌أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما قالت: «تزوجني الزبير وما له في الأرض من مال ولا مملوك ولا شيء، غير ناضح وغير فرسه، فكنت أعلف فرسه وأستقي الماء، وأخرز غربه وأعجن، ولم أكن أحسن أخبز، وكان يخبز جارات لي من الأنصار، وكن نسوة صدق، وكنت أنقل النوى من أرض الزبير التي أقطعه رسول الله صلى الله عليه وسلم على رأسي."

(‌‌‌‌كتاب النكاح، باب الغيرة، 7/ 36 ، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

قال الحافظ في الفتح:

"واستدل بهذه القصة على أن على المرأة القيام بجميع ما يحتاج إليه زوجها من الخدمة وإليه ذهب أبو ثور وحمله الباقون على أنها تطوعت بذلك ولم يكن لازما أشار إليه المهلب وغيره والذي يظهر أن هذه الواقعة وأمثالها كانت في حال ضرورة كما تقدم فلا يطرد الحكم في غيرها ممن لم يكن في مثل حالهم وقد تقدم أن فاطمة سيدة نساء العالمين شكت ما تلقى يداها من الرحى ... والذي يترجح حمل الأمر في ذلك على عوائد البلاد فإنها مختلفة في هذا الباب".

(‌‌كتاب النكاح، باب الغيرة، 9/ 324، ط: دار المعرفة)

وفي العمدة :

"واستدل قوم بهذه القصة، منهم أبو ثور، على أن على المرأة القيام بجميع ما يحتاج إليه زوجها من الخدمة والجمهور أجابوا عن هذا بأنها كانت متطوعة بذلك ولم يكن لازما."

(كتاب النكاح، باب الغيرة، 20/ 209، ط: دار الفكر)

الدر المختار میں ہے:

"(امتنعت المرأة) من الطحن والخبز (إن كانت ممن لا تخدم) أو كان بها علة (فعليه أن يأتيها بطعام مهيإ وإلا) بأن كانت ممن تخدم نفسها وتقدر على ذلك (لا) يجب عليه ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك لوجوبه عليها ديانة ولو شريفة؛ لأنه - عليه الصلاة والسلام - قسم الأعمال بين علي وفاطمة، فجعل أعمال الخارج على علي - رضي الله عنه - والداخل على فاطمة - رضي الله عنها - مع أنها سيدة نساء العالمين بحر."

وفي الرد:

"(قوله من الطحن والخبز) عبارة الهندية من الطبخ والخبز (قوله فعليه أن يأتيها بطعام مهيإ) أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز هندية (قوله لا يجب عليه) وفي بعض المواضع: تجبر على ذلك. قال السرخسي: لا تجبر، ولكن إذا لم تطبخ لا يعطيها الإدام وهو الصحيح، كذا في الفتح...

(قوله على ذلك) أي على الطحن والخبز (قوله لوجوبه عليها ديانة) فتفتى به، ولكنها لا تجبر عليه إن أبت بدائع (قوله ولو شريفة) كذا قاله في البحر أخذا من التعليل، وهو مخالف لما قبله من أنها إذا كانت ممن لا تخدم فعليه أن يأتيها بطعام وإلا لا، فلو وجب عليها ديانة لم يبق فرق بين الصورتين، اللهم إلا أن يقال: إن الشريفة قد تكون ممن تخدم نفسها وقد لا تكون. والذي يظهر اعتبار حالها في الغنى والفقر لا في الشرف وعدمه فإن الشريفة الفقيرة تخدم نفسها، وحاله - عليه الصلاة والسلام - وحال أهل بيته في غاية من التقلل من الدنيا فلا يقاس عليه حال أهل التوسع تأمل."

(‌‌كتاب النكاح، ‌‌باب النفقة، 3/ 579، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144606100500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں