
صورت مسئولہ میں سائل نے جس گھر کی بکنگ کرائی ہے،جب تک وہ گھر تعمیر نہیں ہوتا،اس وقت تک مذکورہ معاملہ کی حیثیت وعدۂ بیع کی ہے،اور تب تک سائل کی دی ہوئی رقم فروخت کنندہ کے پاس امانت کے طور پر رہے گی، اور چوں کہ وہ رقم سائل ہی کی ملکیت ہے، لہذا اگر وہ رقم تنہا یا دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچتی ہے، تو سال گزرنے کی صورت میں سائل پر اس کی ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا، ورنہ نہیں۔ اور جب وہ گھر مکمل یا کم از کم اس کا ڈھانچہ تیار ہوجائے، تو سائل اس گھر کا مالک بن جائے گا، ایسی صورت میں اگر سائل نے وہ گھر تجارت کی نیت سے نہیں خریدا ، تب تو سائل پر اس گھر کی زکاۃ لازم نہیں ہوگی اور اگراس گھر کو تجارت کی نیت سے خریدا ہو، تو ایسی صورت میں اگر مذکورہ گھر کی مالیت تنہا یا دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچتی ہو، تو سالانہ ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا، ورنہ نہیں۔
ملتقی الأبحر میں ہے:
"و شرط وجوبها العقل و البلوغ و الإسلام و الحرية و ملك نصاب حولي فارغ عن الدين و حاجته الأصلية نام و لو تقديرا ملكا تاما."
(کتاب الزکاۃ، ص:285، ط:دار الکتب العلمیة بیروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابًا من الورق و الذهب، كذا في الهداية."
( کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، الفصل الثالث في زکاۃ العروض، ج:1، ص:179، ط:المكتبة الرشیدية كوئته)
فتح القدیر میں ہے:
"(و من كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه) و قال الشافعي: تجب لتحقق السبب و هو ملك نصاب تام. و لنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدومًا كالماء المستحق بالعطش و ثياب البذلة و المهنة (و إن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابًا) لفراغه عن الحاجة الأصلية و المراد به دين له مطالب من جهة العباد."
(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 160، ط: دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن