
میرے گھر میں چھ لوگ ہیں اور میں گھر کا سربراہ ہوں، کیا میں تین یا چار لوگوں کا فطرہ جو سے اور باقی کا فطرہ گندم سے دے سکتا ہوں؟ اور کیا فطرہ دو تین لوگوں میں تقسیم کرسکتا ہوں؟
واضح رہے صدقہ فطر میں چار اجناس (گندم،جو،کھجور،کشمش)میں سے کسی ایک جنس کا دینا یا اس کی قیمت کادینا ضروری ہوتاہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اپنے گھر کے بعض افراد کی طرف سے جو کے حساب سے اور بعض کی طرف سے گندم کے حساب سے صدقہ فطر دیناچاہتاہےتو یہ شرعاًجائز ہے۔
اسی طرح ایک شخص کا صدقہ فطر دو یا دو سے زائد افراد/مساکین میں تقسیم کرنا جائز ہے، اسی طرح اگر مختلف لوگوں کی صدقہ فطر کی رقم جمع ہو تو اس کو بھی متعدد افراد میں تقسیم کرنا جائز ہے۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."
(کتاب الزکاة،الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:دارالفكر بيروت)
الدرالمختارمیں ہے:
"(وجاز دفع كل شخص فطرته إلى) مسكين أو (مساكين على) ما عليه الأكثر، وبه جزم في الولوالجية والخانية والبدائع والمحيط، وتبعهم الزيلعي في الظهار من غير ذكر خلاف، وصححه في البرهان، فكان هو (المذهب) كتفريق الزكاة، والأمر في حديث "أغنوهم" للندب؛ فيفيد الأولوية، ولذا قال في الظهيرية: لايكره التأخير أي تحريمًا (كما جاز دفع صدقة جماعة إلى مسكين واحد بلا خلاف)."
(کتاب الزكاة،باب صدقة الفطر،ص:139،ط:دارالكتب العلمية بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100410
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن