
میں نے ایک آدمی سے 60,00,000 (ساٹھ لاکھ) روپے پاکستانی میں ایک گھر خریدا۔ اس نے گھر میرے نام پٹواری کے کھاتے میں منتقل کر دیا، میں نے تمام رقم کی ادائیگی بھی کر دی، ہمارے آپس میں قریبی تعلقات ہیں، اس لیے انہوں نے کہا کہ ہم دوسرا گھر بنا رہے ہیں، جیسے ہی وہ بن جائے گا ہم آپ کو یہ گھر خالی کرکے قبضہ اور چابیاں دے دیں گے، ہم نے کہا: "ٹھیک ہے۔"ابھی تک نہ ہمیں گھر کا قبضہ دیا گیا ہے اور نہ ہی گھر خالی کیا گیا ہے، اس دوران، 20 جون 2026 بروز ہفتہ، مالکِ مکان نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر اپنی بہو کو غیرت کے نام پر بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
اب نہ میرے بچے اس گھر میں جانے کے لیے تیار ہیں اور کہتے ہیں: "بابا! ہم اس گھر میں کس طرح رہیں گے؟" اور نہ میں، نہ میرے والدین، اور نہ ہی میرے بھائی اس گھر میں قدم رکھنے کے لیے تیار ہیں، ہم نے پوچھنا یہ ہے کہ کیا شرعاً ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ چوں کہ ابھی تک نہ ہمیں قبضہ دیا گیا ہے اور نہ ہی گھر خالی کیا گیا ہے، بلکہ صرف پٹواری کے کھاتے میں ہمارے نام انتقال کیا گیا ہے، اس لیے ہم یہ گھر واپس کر دیں اور اپنی پوری رقم کی واپسی کا مطالبہ کریں؟جب کہ اب اس گھر کی قیمت میں بہت زیادہ کمی آچکی ہے، حتی کہ کوئی آدمی خریدنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، نہ ہی کوئی آدمی اس گھر میں جانا پسند کرتا ہے۔
ہم پہلے یہ معاملہ جرگے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے، خدا نہ کرے اگر وہ نہ مانیں تو پھر عدالت سے رجوع کریں گے۔
شریعت مطہرہ کا واضح حکم بیان فرما دیں۔
واضح رہے کہ غیرت کے نام پر قتل کرنا ناجائز و حرام ہے، نیزاگر کسی وجہ سے بیچی جانے والی چیز کی قیمت میں تاجروں کے عرف میں کمی آجائے تو وہ چیز عیب دار شمار کی جاتی ہے، اور اگر بیچنے والے کے پاس قبضہ اور حوالگی سے پہلے اس چیز میں عیب پیدا ہو جائے، تو خریدار کے لیے اس عیب کی وجہ سے اختیارحاصل ہوتا ہے، اب وہ چاہے تو کل قیمت پر وہ چیز لے لے اور چاہے تو اس معاملہ کو ختم کر دے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ گھر کے مالک نے اس گھر میں اپنی بہو کو غیرت کے نام پر قتل کر دیاہے اور اس کی وجہ سے گھر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے، اور سائل خریدو فروخت کے معاملے کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ اخیتار ہے، معاملہ ختم کرنے کی صورت میں بیچنے والے پر لازم ہے کہ وہ مکمل رقم سائل کو واپس کرے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) تفسير العيب الذي يوجب الخيار، وتفصيل المفسر، فكل ما يوجب نقصان الثمن في عادة التجار نقصانا فاحشا أو يسيرا، فهو عيب يوجب الخيار."
(خيار الشرط، ج:5، ص:274، ط: دار الكتب العلمية )
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"فمنها ثبوت العيب عند البيع أو بعده قبل التسليم حتى لو حدث بعد ذلك لا يثبت الخيار."
(الفصل الأول في ثبوت الخيار وحكمه وشرائطه ومعرفة العيب وتفصيله، ج:3، ص:66، ط:دارالفکر)
وفیہ ایضاً:
"اشترى أرضا فظهر أنها مشئومة ينبغي أن يتمكن من الرد كذا في القنية."
(الفصل الثاني في معرفة عيوب الدواب وغيرها، ج:3، ص:73، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100949
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن