
ہمارے والد صاحب کے ترکہ میں ایک گھر ہے جس کو ہم بیچ رہے ہیں، خرید و فروخت کا سارا معاملہ ہمارے بھائی کی بیگم نے نمٹایا ،اب جب خریدنے والی پارٹی کے ساتھ بات مکمل ہو گئی اور پارٹی ہمیں ایڈوانس پیسے دینے پر راضی ہو گئی تو اب بھائی کی بیگم کہہ رہی ہیں کہ میں بروکری (کمیشن) لوں گی، کیوں کہ گھر کو میں نے فروخت کیا اور ساری بات پارٹی کے ساتھ میں نے کی ہے، حالاں کہ شروع میں جب وہ پارٹی کے ساتھ گھر بیچنے کی بات کر رہی تھی تو اس وقت انہوں نے یہ شرط نہیں لگائی تھی کہ میں بروکری (کمیشن) لوں گی، اب جب پارٹی ہمیں ایڈوانس دے رہی ہے تو بھائی کی بیگم نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بھائی کی بیگم کو بروکری کمیشن کے مطالبے کا حق ہے یا نہیں حالاں کہ پہلے سے اس نے اس شرط پر یہ کام نہیں کیا تھا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بھائی کی اہلیہ یعنی آپ کی بھابھی نے آپ کے وراثتی گھر بیچنے کے لیے پارٹی ڈھونڈ کر اس سے بھاؤ تاؤ کیا ہے تو گویا وہ آپ لوگوں کی طرف سے وکیل بالبیع (چیز بیچنے کی وکیل) ہیں اور وکالت جس طرح اجرت کے بدلے ہوتی ہے اسی طرح بطورِ تبرع بھی ہوتی ہے، اور بطورِ وکیل کوئی کام کرنے پر وکیل کو اجرت لینے کا حق اس وقت ہوتا ہے جب وکالت کے وقت صراحۃً اجرت کی شرط لگالی گئی ہو یا پھر یہ دوسرا آدمی (وکیل) معروف اجرت کے بدلے ہی کام کرنے میں مشہور ہو یعنی اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ وہ اجرت کے بدلہ کام کر کے دیتا ہو، لیکن اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی جائے تو پھر وکیل کو مؤکل سے اجرت/کمیشن لینے کا حق نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ لوگوں اور آپ کی بھابھی کے درمیان گھر کی خریدار پارٹی ڈھونڈ کر دینے سے پہلے ہی کمیشن (اجرت) کے لین دین کا معاہدہ ہوا ہو یا آپ کی بھابھی کمیشن کے عوض گھر کی خرید و فروخت کے امور پہلے سے سرانجام دیتی چلی آرہی ہوں تو انہیں کمیشن (بروکری) کے مطالبے کا حق حاصل ہوگا، لیکن اگر گھر کی خریدار پارٹی ڈھونڈ کر دینے سے پہلے ہی کمیشن (اجرت) کے لین دین کا معاہدہ نہ ہوا ہو اور آپ کی بھابھی اس طرح کے معاملات کرتی ہوں تو ایسی صورت میں انہیں کمیشن (بروکری) کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
تاہم باہمی نزاع کے حل کے لیے اگر تمام ورثاء باہمی رضامندی سے انہیں کچھ دے دیں تو اس کی اجازت ہوگی۔
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة."
(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث، الفصل االأول، ج3، ص:573، ط:دارالجیل)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير، فصل في التعزير، ج:2، ص:167، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101181
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن