بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 محرم 1448ھ 09 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

غیرت کے نام پر قتل کرنے کی مختلف صورتوں کے احکام


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں، یعنی غیرت کے نام پر قتل کا مسئلہ۔ وہ صورتیں جو معاشرے میں عام ہیں، ان کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت درکار ہے۔

الف۔اگر کوئی لڑکی موبائل پر غیر محرم لڑکے سے بات کرے یا ملاقات کرے، اور بھائی کو اس بات کا علم ہو جائے، تو آیا مزید تحقیق کرنا ضروری ہے یا قتل کرنا؟ 

ب۔ اگر کسی گھر سے کوئی لڑکا اور لڑکی بھاگ جائیں، تو کیا اس صورت میں یہ لازم ہے کہ لڑکے والے اپنے لڑکے کو حوالہ کریں تاکہ وہ خود فیصلہ کریں، اور لڑکی والے اپنی لڑکی کو حوالہ کریں تاکہ وہ خود فیصلہ کریں؟ یا یہ معاملہ یوں ہے کہ جس خاندان نے قتل میں پہل کر دی وہی بہتر سمجھا جائے؟ یا دونوں کے قتل کا اختیار ایک ہی خاندان کے پاس ہے، یعنی جسے موقع ملے وہ قتل کر دے؟

ج۔ اگر لڑکے یا لڑکی کی برہنہ ویڈیو ظاہر ہوجائے، اور لڑکی والے اپنی لڑکی کو قتل کر دیں، اور لڑکے والے اپنے لڑکے کو گھر آنے سے روک دیں کہ ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں رہا، یا پھر دونوں میں سے کسی کو بھی کوئی خاندان والا قتل کر دے۔

د۔ اگر لڑکا اور لڑکی گھر سے بھاگ کر یہ اقرار کریں کہ ہم اپنی خوشی سے نکاح کر نے پر راضی  ہیں، اور یہ رشتہ خاندان کے لیے ناقابلِ قبول ہے، تو کیا خاندان والوں کے لیے ان دونوں یا کسی ایک کو قتل کرنے کا کوئی شرعی جواز ہے؟ یا پھر ان کا بھاگ کر شادی کرنا درست ہے؟

ھ۔ اگر کوئی شادی شدہ عورت کسی اجنبی کے ساتھ  بھاگ جائے، تو کیا اس صورت میں شوہر کے لیے اسے طلاق دینا ضروری ہے یا قتل کرنا؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام نے حیا اور پاک دامنی کا حکم دیا ہے اور بے حیائی کو ایمان و اخلاق کے منافی اور سماجی و خاندانی بربادی کا سبب قرار دیا ہے، اس لیے نہ صرف بے حیائی سے روکا، بلکہ اس کے قریب جانے تک سے منع فرمایا، اور  اس کے انسداد کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر اصلاحی اقدامات اور  اہم معاشرتی احکام وآداب واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ نگاہوں کی حفاظت، فکر کی پاکیزگی، ستر وحجاب کے احکام، نکاح کرنے اور اسے آسان بنانے کا حکم، حیا و اخلاقی اقدار کی تعلیم و تربیت ، بے حیائی کے تذکرے سے بھی اجتناب اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

اگر  گناہ سرزد ہوجانے کے بعد مسلمان اس پر اصرار نہ کرے اورصدقِ دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالی اسے معاف فرمادیتے ہیں،نیزنیکیوں کی برکت سے بھی گناہ دھل جاتے ہیں۔ شریعت نے مسلمان کی ستر پوشی کی ترغیب دی ہے، چناں چہ اگر کوئی شخص کسی کے گناہ پر مطلع ہوجائے تو  اسے لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرے، البتہ اگر کوئی شخص کھلی بے حیائی کرے اور اللہ کی حدود کو پامال کرے تو معاشرے کو بے حیائی اور فحاشی سے  پاک رکھنے کے لیے، شریعت نے ریاست و حکومت کو حدود و تعزیرات کا جامع مکمل نظام دیا ہے، حد یا تعزیر جاری کرنے کا یہ اختیار  عام آدمی، جرگہ یا پنچائیت  کو حاصل نہیں ہے، اسی طرح اگر مرد وعورت کو زنا کرتے ہوئے پایا گیا تو کسی کو انہیں  قتل کرنے کا اختیار نہیں ہے، حکومت کو بھی اس صورت میں حد جاری کرنے کا اختیار ہے جب شرعی طریقے کے مطابق زنا ثابت ہوجائے، بصورتِ دیگر حکومت کے لیے بھی حد جاری کرنا جائز نہیں ہے(1)۔

لہذا جب کوئی مکلف شخص جبر واکراہ کے بغیر کسی اجنبی مشتہاۃ خاتون سے اگلی شرمگاہ میں دخول کرے اور یہ دخول نکاح کے شبہے کے طور پر بھی نہ ہو  توشرائط کے پائے جانے کے بعد عدالت اس پر حد جاری کرے گی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر زانی کسی دباؤ کے بغیراز خود  اپنے زنا کااعتراف کرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ  چار علیٰحدہ علیٰحدہ مجلسوں میں عدالت کے روبرومخصوص کیفیت  و شرائط کے ساتھ زناکا اقرار کرے، اگر زناکا ثبوت گواہوں کے ذریعہ ہو تو  ضروری ہے کہ چار عادل مرد گواہ ایک ہی مجلس میں عدالت کے روبرو زنا کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے زنا کی گواہی دیں، نیز عدالت گواہوں سے زنا کے وقت،  اس کی جگہ، کیفیت اور جس مرد و عورت پر زنا کا الزام ہے ان کے بارے میں  معلوم کرے،اور گواہوں کے عادل ہونے کی ظاہری اور خفیہ طور پرتحقیق بھی کرے، پھر جب زنا ثابت ہوجائے تو اس صورت میں اگر غیر شادی شدہ ہے پھر بھی حکومت اس کو قتل نہیں کرے گی بلکہ 100 سَو کوڑے کا حد جاری کرے گی، البتہ اگر شادی شدہ زنا کرے اور شرعی طریقے کے مطابق ثابت بھی ہوجائے تب حکومت رجم (سنگساری) کا حد جاری کرے گی، تاہم یہ بھی واضح رہے کہ اگر گواہوں کی تعداد مکمل نہ ہو، یا گواہوں کے بیان میں فرق ہو یا واقعہ کو طویل مدت گزر چکی ہو تو تمام گواہوں پر عدالت حدِ قذف جاری کرے گی، اور ان کی گواہی ہمیشہ کے لیے ناقابلِ قبول ہوگی(2)۔

 لہذا جب عین زنا کی حالت میں پاکر قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے تو  بعد میں  زنا کی تہمت کی وجہ سے قتل کرناتو  بالکل جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شخص عین زنا کی حالت میں پایا گیا تو اسے اس برائی سے دور کرنے کی ہر ممکن جائز کوشش کی جائے گی، آواز لگاکر، یا چیخ کر،  یا کوئی بھی عمل کرکے دونوں کو گناہ سے دور کیا جائے گا، فقہاءِ کرام نے ایسے مرحلہ میں بھی قتل کرنے کی  اجازت نہیں دی ہے،  ورنہ قصاص لازم ہوگا، نیز شریعت کی نگاہ میں دواعی جماع قابلِ حد  جرم نہیں ، بلکہ زنا قابلِ حد جرم ہے۔

اب مذکورہ بالا تمہیدات کی روشنی میں سوال میں ذکر کردہ صورتوں  میں سے کسی بھی صورت میں غیرت کے نام پر قتل کا جو رواج پایا جاتا ہے، باتفاقِ ائمہ اربعہ اس کی شریعت میں ہرگز کوئی اجازت نہیں، اگر کسی نے قتل کردیا تو وہ قانوناً وشرعًا قتل کا مجرم ہوگا، بزورِ بازو  امر بالمعروف و نہی عن المنکر، صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کرسکتے ہیں تو  ہر کس و ناکس کو قتل کی گنجائش دینا خود  فساد فی الارض کا موجب ہوگا؛  لہٰذا از خود قتل کرنے کے  بجائے یہ معاملہ متعلقہ قانونی اداروں کے حوالے کیا جائے۔

مذکورہ سوالات کے مختصر جوابات درج ذیل ہیں:

الف ۔ اجنبی مرد و عورت  کا ایک دوسرے سے بلاضرورت تعلقات قائم کرنا، بات کرنایا میسج کرنا گناہ تو ہے، لیکن یہ  گناہ موجبِ قتل نہیں ہے، البتہ گھر والوں کو چاہیے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے آئندہ بچے اس طرح کی حرکات میں ملوث نہ ہوں۔

ب۔ کسی بھی لڑکے یا لڑکی کا نامحرم یا اجنبی کے ساتھ بھاگ جانا انتہائی بے حیائی اور نہایت قابلِ مذمت فعل ہے۔ بہرحال، اگر بھاگ جانے کے بعد انہیں تلاش کر لیا جائے تو اگر گھر والے سمجھیں کہ نرمی اور محبت سے سمجھانے سے وہ باز آ جائیں گے تو نرمی سے سمجھایا جائے۔ اور اگر گھر والے سمجھیں کہ مناسب سختی ضروری ہے تو شریعت کی حدود میں رہ کر سختی بھی کی جا سکتی ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے کسی اقدام کی جرأت نہ ہو۔ لیکن لڑکے یا لڑکی کو قتل کرنے کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں، اگر لڑکی غیر شادی شدہ ہو تو خاندان والے اگر مناسب سمجھیں تو بہتر ہے کہ اس کا نکاح اسی لڑکے سے کروادیں۔

ج۔ ویڈیو کے ذریعہ اجنبی مرد و عورت کے ناجائز تعلقات  ظاہر  ہوتے ہوں تب بھی اس ویڈیو کی بنیاد پر قتل کرنا جائز نہیں، کیوں کہ ویڈیو کسی بھی معاملے کے ثبوت کے لیے شرعی دلیل نہیں بن سکتی، جب کہ یہ معاملہ تو "حدود" کا ہے، اور حدود کے نفاذ کے لیے شریعت میں کڑی شرائط  ہیں۔ البتہ اگر لڑکا بالغ ہو اور بارہا سمجھانے کے باوجود ان غلط حرکات سے باز نہ آئے تو والدین اسے گھر سے بیدخل کر سکتے ہیں اور اس کے قول و فعل سے براءت ظاہر کر سکتے ہیں۔

د۔ نکاح کے معاملے میں شریعت نے والدین کی رضا کے ساتھ ساتھ اولاد سے اجازت لینے کا بھی حکم دیا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ والدین کو اولاد کی پسند اور ان کی رضامندی کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے، لیکن گھر سے بھاگ کر اور والدین کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً نامناسب ہے، اگرچہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا، البتہ  اگر لڑکا   یا لڑ کی نابالغ ہوں تو نکاح ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا،اور اگر عاقلہ بالغہ لڑکی کفو میں نکاح کرے تو نکاح منعقد ہو جائے گا، لیکن اگر غیر کفو میں کرے تو اس صورت میں  اگر لڑکا دین، دیانت، مال و نسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑکی کا ہم پلہ نہ ہو، بلکہ اس سے کم ہو، تو نکاح اگرچہ منعقد ہوجائے گا، لیکن اگر لڑکی کا ولی اس نکاح پر راضی نہ ہو، تو اس صورت میں حمل ہونے سے پہلے پہلے ولی عدالت سے رجوع کرکے دونوں کا نکاح فسخ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، تاہم گھر سے بھاگ کر والدین کی مرضی کے بغیر پسند کی شادی کرنے کی وجہ سے کسی کو بھی ان کو قتل کرنا جائز نہیں، یہ قتل ناحق ہے اور شرعا و قانونا جرم ہے(3)۔

 ھ۔ شادی شدہ عورت کا کسی بھی مرد کے ساتھ گھر سے بھاگ جانا شریعت کی رو سے ناجائز، حرام، نہایت قابلِ مذمت اور انتہائی بے حیائی کا عمل ہے۔ تاہم اس کے اس فعل سے اپنے شوہر کے ساتھ نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ نکاح بدستور برقرار رہتا ہے۔ شوہر پر طلاق دینا واجب نہیں ہے، لیکن اگر چاہے تو طلاق دے سکتا ہے۔ البتہ شوہر یا گھر والوں کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے(4)۔

(1) قرآن کریم میں ہے:

﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (4) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (5)... وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ (10)﴾

ترجمہ:"اور جو لوگ (زنا کی) تہمت لگائیں پاک دامن عورتوں کو اور پھر چار گواہ (اپنے دعوے پر) نہ لائیں تو ایسے لوگوں کو اسی درے لگاؤ اور ان کی گواہی قبول مت کرو (یہ تو دنیا میں ان کی سزا ہوئی) اور یہ لوگ (آخرت میں بھی) مستحقِ سزا ہیں اس وجہ سے کہ فاسق ہیں لیکن جو لوگ اس (تہمت لگانے) کے بعد (خدا کے سامنے) توبہ کر لیں اور اپنی (حالت کی) اصلاح کر لیں سو (اس حالت میں) اللہ ضرور مغفرت کرنے والا رحمت کرنے والا ہے... (اور اے مرد اور عورتو) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم پر اللہ کا فضل اور اس کا کرم ہے (کہ ایسے ایسے احکام مقرر کیے ہیں) اور یہ کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا (اور) حکمت والا ہے تو بڑی مضرتوں میں پڑتے"۔

(بیان القرآن از حکیم الاامت اشرف علی تھانوی، ج:2، ص:562، سورت:النور، آیت:10/5/4، ط:رحمانیہ)

صحیح بخاری میں ہے:

"عن عبد الله قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: ‌النفس ‌بالنفس، والثيب الزاني، والمفارق لدينه التارك للجماعة)".

ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان کا خون، جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں، سوائے تین صورتوں میں: شادی شدہ زنا کرنے والا، جان کے بدلے جان (قصاص) اور وہ شخص جو اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جائے"۔

(كتاب الديات، ج : 6، ص : 2521، الرقم : 6484، ط : دار ابن كثير)

و فيه أيضا:

"عن المغيرة قال: قال سعد بن عبادة: لو رأيت رجلا مع امرأتي لضربته بالسيف غير مصفح، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: (تعجبون من غيرة سعد، والله لأنا أغير منه، والله أغير مني، ومن أجل غيرة الله حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن... إلخ".

 ترجمہ:"حضرت  سعد بن عبادہ -رضی اللہ عنہ- نے کہا : اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھوں تو سیدھی تلوار (تلوار کی دھار) سے اس کی گردن مار دوں گا، پھر یہ بات رسول اللہ -صلی اللہ علیہ و سلم- تک پہنچی، تو ارشاد فرمایا: کیا تمہیں سعد  کی غیرت پر حیرت ہے (تم تعجب کرتے ہو)؟ و اللہ میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہیں، اور اللہ تعالی نے غیرت ہی کی وجہ سے فواحش کو حرام کیا ہے، خواہ بے حیائی علانیہ ہو یا چھپ کر...الخ"۔

(كتاب التوحيد، ج:6، ص:2698، الرقم:6980، ط: دار ابن كثير)

عمدۃ القاری میں ہے:

"اختلف العلماء فيمن قتل رجلا وزعم أنه وجده قد زنا بامرأته، فقال جمهورهم: لا يقتل بل يلزمه القصاص إلا أن تقوم بذلك بينة أو تعترف به ‌ورثة ‌القتيل، والبينة أربعة من عدول الرجال يشهدون على نفس الزنا ويكون القتيل محصنا، وأما فيما بينه وبين الله تعالى فإن كان صادقا فلا شيء عليه".

(كتاب التفسير،  سورة النور، ج:19، ص:75، ط: دار إحياء التراث العربي)

العنایہ فی شرح الہدایہ میں ہے:

"قال (والشهادة في الحدود يخير فيها الشاهد بين الستر والإظهار إلخ) الشاهد في الحدود يخير بين أن يستر وأن يظهر؛ لأنه مخير بين أن يشهد حسبة لله فيقام عليه الحد، وبين أن يتوقى عن هتك المسلم حسبة لله، والستر أفضل نقلا وعقلا، أما الأول «فقوله: صلى الله عليه وسلم للذي شهد عنده وهو رجل يقال له هزال الأسلمي لو سترته بثوبك وفي رواية بردائك لكان خيرا لك» وقوله: صلى الله عليه وسلم «من ستر على مسلم ستر الله عليه في الدنيا والآخرة» وما روي من تلقين الدرء عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه رضي الله عنهم فإن فيها دلالة ظاهرة على أفضلية الستر".

( كتاب الشهادات، ج:7، ص:367، ط: دار الفكر)

(2)فتاوی شامی میں ہے:

(ويثبت بشهادة أربعة) رجال (في مجلس واحد) فلو جاءوا متفرقين حدوا (ب) لفظ (الزنا لا) مجرد لفظ (الوطء والجماع) ... (ولو) كان (الزوج أحدهم إذا لم يكن) الزوج (قذفها) ... (فيسألهم الإمام عنه ما هو) أي عن ذاته وهو الإيلاج عيني (وكيف هو وأين هو ومتى زنى وبمن زنى) لجواز كونه مكرها أو بدار الحرب أو في صباه أو بأمة ابنه، فيستقصي القاضي احتيالا للدرء (فإن بينوه وقالوا رأيناه وطئها في فرجها كالميل في المكحلة) هو زيادة بيان احتيالا للدرء (وعدلوا سرا وعلنا) إذا لم يعلم بحالهم (حكم به) وجوبا، وترك الشهادة به أولى ما لم يكن متهتكا فالشهادة أولى نهر. (ويثبت) أيضا (بإقراره) صريحا صاحيا، ولم يكذبه الآخر... (وغير المحصن يجلد مائة إن حرا)".

(كتاب الحدود، ج:4، ص:7-14، ط:دار الفكر)

(3) جواہر الفتاوی میں ہے:

"بندہ راقم الحروف کی رائے میں اکثر مشائخ نے تبدلِ زمانہ کی بناء پر جن وجوہ کو سامنے رکھ کر نادر الروایہ کو اختیار کیا تھا اور ظاہر الروایہ کے خلاف فتویٰ دیا تھا، اب موجودہ زمانے میں وہ وجوہ باقی نہیں رہیں...

رہا یہ کہ فسخِ نکاح کے لئے عدالت جانا ولی کے لئے مستقل ایک ضرر ہے تو نکاح کو باطل قرار دینے میں اس سے زیادہ ضرر ہیں۔

مثلاً غیر کفو میں جو عاقلہ و بالغہ عورتیں بدونِ اجازتِ ولی نکاح کرتی ہیں اکثر و بیشتر ان کے اپنے شوہروں سے خفیہ تعلقات قائم ہو جاتے ہیں ازدواجی تعلق ہو جاتا ہے، اگر نکاح کو باطل قرار دیا جائے تو اس کے نتیجے میں ان کے تعلقات کو ناجائز اور زنا کے تعلقات کہنا پڑے گا، اس میں زیادہ ضرر ہے اس سے کہ نکاح کو منعقد قرار دیا جائے... لہذا ولی کے ضرر کو اخف الضررین (کم درجے کا ضرر) قرار دے کر نکاح کو منعقد تسلیم کنا پڑے گا اور اسی پر فتوی دینے کو انسب و اسلم قول مانا جائے گا...

البتہ لڑکا اگر مذکورہ امور یعنی نسب، دین و اخلاق، پیشہ اور مال میں کم درجہ کا ہے اور اس صورت میں ولی کو وہ نکاح نامنظور ہے تو بذریعہ عدالت لڑکے کے غیر کفو ہونے کو ثابت کرکے فسخ نکاح کا اختیار ہوگا"۔

(ظاہر روایت پر ہمارے برصغیر کے اکابر، ج:3، ص:326-327، ط:اسلامی کتب خانہ)

(4) فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال صلى الله عليه وسلم لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها» اهـ ط".

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج : 6، ص : 427، ط : دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں