
سوشل میڈیا پر کاروبار سے متعلق ایک پوسٹ پڑھی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
جتنی بھی سرمایہ کاری کروگے،مثلاً:ایک لاکھ تو تین ماہ کے اندر 15 سے 20 فیصد منافع متوقع ہے،کام کی نوعیت رئیل اسٹیٹ ہے۔
میں نے اس میں تقریباً سات لاکھ روپےلگائے،دو ماہ بعد میسیج آیا کہ کاروبار نقصان میں جارہا ہے،آپ تین آپشنز میں سے کوئی ایک اختیار کریں۔
1-چند ماہ بعد قیمتیں بڑھے گی،تو زمینیں وغیرہ بیچ کرکےطے شدہ فیصد (15 سے 20 فیصد غیر متعینہ )ملے گا۔
2-اگر آپ کو لگائی گئی رقم کی اشد ضرورت ہے،تو ہم ریٹ بڑھنے کے انتظار کیے بغیر پراپرٹی کو موجودہ قیمت پر فروخت کردیں گے،نفع و نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
3-فروخت کی جانے والی فائلیں آپ خود اپنے نام پر کرائیں اور خرید لیں۔
تو میں نے پہلا آپشن اختیار کیا،کہ میں انتظار کرلوں گا،تو طے شدہ غیر متعینہ فیصد کے اعتبار سے نفع وصول کرلوں گا،سال گذر گیا ،لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
اس ایک سال کے عرصے کے بعد میں نے کہا کہ مجھے میری رقم (سات لاکھ) واپس دے دیں،انہوں نے ایک دو دفعہ اکاؤنٹ نمبر مانگا،غرض یہ ظاہر کیا کہ آپ کی رقم واپس دے دیں گے،لیکن دی نہیں ۔
میرا سوال یہ ہے:1-شرعاً یہ معاملہ درست تھا یا نہیں؟
2- ان تمام صورتِ حال میں میں اپنی لگائی گئی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہوں ؟
وضاحت:سائل کو اپنے علاوہ صرف ایک آدمی کے بارے میں معلوم ہے کہ اس کے بھی مذکورہ رئیل اسٹیٹ میں تقریباً 15 یا 16 لاکھ روپے لگے ہوئے ہیں،اور اس کو بھی پیسے واپس نہیں ملے ہیں۔
سائل کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس رئیل اسٹیٹ کے کام میں صرف اس کا سرمایہ لگا ہوا ہے،یا مذکورہ رئیل اسٹیٹ والوں کا بھی۔
1 -2.صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعتًا درست ہو تو سائل کا مذکورہ کاروبار میں سرمایہ لگانا شرعاً درست نہیں تھا، کیوں کہ اس معاملے میں منافع حقیقی نفع کے تناسب سے طے نہیں کیا گیا تھا بلکہ سرمایہ کے فیصد کے لحاظ سے متعین کیا گیا تھا، اور سرمایہ یا نفع کی ضمانت دینا شرعاً ناجائز اور مضاربت کو فاسد کر دیتا ہے،لہٰذا یہ کاروبار شرعاً ناجائز اور فاسد مضاربت کے حکم میں ہے۔
البتہ چوں کہ مضاربت فاسد ہونے کی صورت میں مضارب (کاروبار کرنے والا شخص) اصل سرمایہ کا ضامن ہوتا ہے، لہٰذا سائل شرعاً اپنی لگائی ہوئی رقم (سات لاکھ روپے) کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
البحرالرائق میں ہے:
"قال : (ولاتصح إلا أن یکون الربح بینهما مشاعاً، فإن شرط لأحدهما دراهم مسماةً فسدت)؛ لما مر في الشرکة، وکذا کل شرط یوجب الجهالة في الربح یفسدها لاختلال المقصود."
(كتاب الشركة، ما تبطل به شركة العنان، ج:5، ص:191، ط:دارالکتب العلمیة)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"المادة (1427) إذا تلف مقدار من مال المضاربة فيحسب في بادئ الأمر من الربح ولا يسري إلى رأس المال ، وإذا تجاوز مقدار الربح وسرى إلى رأس المال فلا يضمنه المضارب سواء كانت المضاربة صحيحة أو فاسدة."
(الکتاب العاشر الشرکات، الباب السابع في حق المضاربة، الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة، ص275، ط:دار الجیل)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 1428) - (يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط). يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط. انظر المادة (83) أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة (الدرر) ؛ لأن هذا الشرط زائد فلا يوجب الجهالة في الربح أو قطع الشركة فلا تفسد المضاربة به حيث إن الشروط الفاسدة لا تفسد المضاربة (مجمع الأنهر)."
(الکتاب العاشر الشرکات، الباب السابع في حق المضاربة، الفصل الثالث في بيان أحكام المضاربة، ج3، ص459، ط:دار الجیل)
فتاو یٰ شامی میں ہے:
"(وركنها الإيجاب والقبول وحكمها) أنواع؛ لأنها (إيداع ابتداء) ۔۔۔ (وتوكيل مع العمل) لتصرفه بأمره (وشركة إن ربح وغصب إن خالف وإن أجاز) رب المال (بعده) لصيرورته غاصبا بالمخالفة (وإجارة فاسدة إن فسدت فلا ربح) للمضارب (حينئذ بل له أجر) مثل (عمله مطلقا) ربح أو لا (بلا زيادة على المشروط) خلافا لمحمد والثلاثة‘.
وفي الرد:’’ (قوله: مطلقا) هو ظاهر الرواية قهستاني (قوله ربح أو لا) وعن أبي يوسف إذا لم يربح لا أجر له وهو الصحيح لئلا تربو الفاسدة على الصحيحة سائحاني ومثله في حاشية ط عن العيني (قوله على المشروط) قال في الملتقى: ولا يزاد على ما شرط له كذا في الهامش أي فيما إذا ربح وإلا فلا تتحقق الزيادة فلم يكن الفساد بسبب تسمية دراهم معينة للعامل تأمل (قوله خلافا لمحمد) فيه إشعار بأن الخلاف فيما إذا ربح، وأما إذا لم يربح فأجر المثل بالغا ما بلغ؛ لأنه لا يمكن تقدير بنصف الربح المعدوم كما في الفصولين لكن في الواقعات ما قاله أبو يوسف مخصوص بما إذا ربح وما قاله محمد إن له أجر المثل بالغا ما بلغ فيما هو أعم قهستاني (قوله: والثلاثة) فعنده له أجر مثل عمله بالغا ما بلغ إذا ربح در منتقى كذا في الهامش."
(كتاب المضاربة، ج:5، ص:646، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100678
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن