بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر شرعی وصیت پر عمل کرنے کا حکم


سوال

1-اگر کسی شخص نے اپنے مال کے بارے میں کوئی وصیت نہ کی ہو تو کیا اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء تقسیم سے پہلے تیس فیصد مال خیراتی کاموں کے لیے نکال سکتے ہیں؟

2-اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد بیٹوں اور بیٹیوں کا حصہ برابر ہوگا، یعنی بیٹوں کو دو حصے اور بیٹیوں کو ایک حصہ نہیں دیا جائے گا، تو کیا اس وصیت پر عمل کیا جاسکتا ہے، اگر بیٹے راضی ہوں؟

3-کیا کوئی شخص اپنی وصیت میں یہ لکھ سکتا ہے کہ اس کے انتقال کے بعد جب تک اس کی بیوی زندہ رہے، اس وقت تک میراث تقسیم نہ کی جائے؟

جواب

1-2: صورتِ مسئولہ میں اگر تمام ورثاء عاقل اور بالغ ہوں، اور وہ اپنی رضامندی سے مرحوم کی میراث میں سے تقسیم سے پہلے تیس فیصد صدقہ کرنا چاہیں تو یہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے وصیت کی ہو کہ میرے مرنے کے بعد بیٹوں اور بیٹیوں کا حصہ برابر ہو، تو اگر بیٹے عاقل و بالغ ہوں اور اس وصیت پر رضامند ہوں تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔

3: اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے کہ میرے مرنے کے بعد جب تک میری بیوی زندہ رہے، اس وقت تک میراث تقسیم نہ کی جائے، تو ایسی وصیت درست نہیں۔ یہ وصیت غیر شرعی ہے، لہٰذا اس پر عمل نہیں کیا جائےگا،البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں،سب اس وصیت کو نافذ کرنے پر راضی ہوں تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".

  (باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:1،ص:266، ط: قدیمی)

ترجمہ:”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔“

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.......ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها، ج: 6، ص: 90، ط:دار الفكر بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وشركة الأملاك نوعان: نوع يثبت بفعل الشريكين، ونوع يثبت بغير فعلهما.

(أما) الذي يثبت بفعلهما فنحو أن يشتريا شيئا، أو يوهب لهما، أو يوصى لهما، أو يتصدق عليهما، فيقبلا فيصير المشترى والموهوب والموصى به والمتصدق به مشتركا بينهما شركة ملك.

(وأما) الذي يثبت بغير فعلهما فالميراث بأن ورثا شيئا فيكون الموروث مشتركا بينهما شركة ملك."

(کتاب الشرکة، ج:6، ص:56، ط:دار الکتب العلمیة)

دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ:96، ج:1، ص:96، ط:دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں