
میرے گاؤں کی مسلمان لڑکیوں میں دن بدن دین و اسلام سے دوری کی وجہ سے مسلمان لڑکیوں میں فتنہ ارتداد بڑھتا جارہاہے، تقریباً(4)لڑکیاں غیروں کے ساتھ فرار ہوگئی ہیں، گاؤں کی سنگین صورت حال کے پیش نظر بہت غور وفکر کے بعد بعض احباب کے مشورہ سے احقر ہر جمعہ بعد نماز ایمان کی اہمیت پر بیان کرہاہے اور اس ارتداد کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، لیکن بعض احباب کی جانب سے رکاوٹیں آرہی ہیں کہ خواتین میں غیر شادی شدہ عالمِ دین کا بیان کرنا درست نہیں ہے۔
میری رہبری فرمائیں کہ کیا میں بستی بستی میں وہاں کی خواتین سے پردہ کی آڑ میں بیان کرسکتا ہوں؟ اس لیے کہ گھروں میں بھی دین دار مرد نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں تعلیم کا نظام بھی مستحکم نہیں ہے، کوئی ان کو سمجھانے والا نہیں ہے، تو کیا میں پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے شرعی قانون کی پابندی کے ساتھ بے پردہ گی سے بچتے ہوئے ایمان کی اہمیت پر بعض مردوں کی موجودگی میں بیان کرسکتا ہوں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کسی گھر میں جاکر دیگر مردوں کی موجودگی میں پردہ کی رعایت کے ساتھ عورتوں کے مجمع کے لیے ایمان کی اہمیت پر بیان کریں تو شرعا ایسا کرنا جائز بلکہ مستحسن ہے بشرطیکہ اس میں کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ خواتین کو وعظ و نصیحت کرنے کے لیے عالمِ دین کا شادی شدہ ہونا شرط نہیں، البتہ شادی شدہ عالمِ دین کا وعظ کہنا غیر شادی شدہ کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ اس لیے ہے کیوں کہ شادی شدہ شخص کے خواتین کو وعظ کہنے میں عام طور پر فتنے کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے، البتہ صورتِ مسئولہ میں بہتر یہی ہے کہ بیان کے وقت آپ کے ساتھ دو، چار دیگر مرد بھی موجود ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ خواتین میں وعظ و بیان کے جواز کا اصل مدار شادی شدہ ہونے پر نہیں ہے، بلکہ فتنے کا اندیشہ نہ ہونے پر ہے۔ چناں چہ اگر کسی جگہ واعظ کے شادی شدہ ہونے کے باوجود فتنے کا اندیشہ ہو تو اُس کے لیے وعظ کہنا جائز نہیں ہوگا اور جس جگہ غیر شادی شدہ کے وعظ کہنے میں فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو اس کے لیے وعظ کہنا جائز ہوگا۔
صحیح البخاری میں ہے :
"عن أبي سعيد الخدري: قال النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن: (ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها، إلا كان لها حجابا من النار). فقالت امرأة: واثنين؟ فقال: (واثنين)."
(كتاب العلم، باب: هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، ج:1، ص:50، ط: دار ابن كثير)
ترجمہ:"ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے (وعظ کے) لیے (بھی) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور (مناسب) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے (اپنے) تین (لڑکے) آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو (بچے بھیج دے) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں! اور دو (کا بھی یہ حکم ہے) ۔"
عمدة القاري میں ہے:
"بيان استنباط الأحكام: قال النووي: فيه استحباب وعظ النساء و تذكيرهن الآخرة و أحكام الإسلام و حثهن علی الصدقة، و هذا إذا لم يترتب علی ذلك مفسدة أو خوف فتنة علی الواعظ أو الموعوظ و نحو ذلك. الثاني: في قوله: (فظن أنه لم يسمع النساء) دليل على أن على الإمام افتقاد رعيته وتعليمهم ووعظهم."
(كتاب العلم،باب عظة الإمام النساء وتعليمهن، 124/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"عورتوں کو پردہ میں رکھ کر حیض ونفاس کے مسائل بتانا:
سوال 1056: اگر کوئی شخص اپنے محلہ کی غیر محرم عورتوں کو پردہ میں رکھ کر حیض و نفاس کا مسئلہ، نماز روزہ پاکی ناپاکی کے بارے میں وعظ و نصیحت سنائے اور بتلائے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت ثابت ہے، لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو احتیاط کرنا چاہیے۔ "
(کتاب العلم ،ج:3،ص:387،ط:ادارہ الفاروق)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144612100148
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن