بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیررہائشی دینی ادارے کا زکوٰۃ وصول کرنا


سوال

ہمارایک مدرسہ ہےجس میں غیررہائشی طلباءزیرِدرس ہیں ،کچھ مخیرحضرات تعاون بھی کرتےہیں ،اورہم طلباءسےماہانہ متوسط فیس بھی لیتےہیں ،اورجوطلباءماہانہ فیس ادانہیں کرسکتےہم تعاون کےمدمیں آنےوالی رقم  اس طرح بچوں کی فیس کی مدمیں خرچ کرتےہیں کہ بالغ طلباءکےہاتھ میں  رقم دےدیتےہیں کہ وہ اس سےاپنی فیس اداکریں،اورجونابالغ ہیں تو ان سےداخلہ فارم میں ہم اجازت لیتےہیں کہ مدرسہ ان کےلیےزکات لےگااوران پرفیس کی مدمیں خرچ کرےگا۔

اب سوال یہ ہےکہ غیررہائشی یتیم اورمستحق زکوٰۃ طلباءکےلیےمدرسہ زکوٰۃ وصول کرسکتاہے؟

اورکیا سوال میں ذکرکردہ طریقہ کے مطابق مدرسہ مستحق بچوں کی  فیس کی  مد میں زکوۃ کی رقم  خرچ کرسکتا ہے؟

جواب

2۔1۔صورتِ مسئولہ میں جو بچے مستحقِ زکوٰۃ ہوں اور مدرسہ کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں، تو مدرسہ انتظامیہ کا اُن بچوں کی فیس کے لیے زکوٰۃ وصول کرنا درست ہے۔البتہ فیس کی مد میں زکوٰۃ خرچ کرنے کا جو طریقہ سوال میں مذکور ہےکہ  بالغ بچوں کے ہاتھ میں  زکوٰۃ کی رقم  دی جاتی ہےجس سےوہ خوداپنی فیس اداکرتےہیں یہ تو درست ہے، لیکن نابالغ بچوں  پرزکوٰۃ کی رقم ان سےداخلہ فارم پراجازت لےکران کی فیس کی مدمیں ازخودخرچ کردینایہ طریقہ  درست نہیں ہے۔

نابالغ بچوں میں سے جو سمجھ دار ہوں، اُن کے ہاتھ میں زکوٰۃرقم دی جائے پھر فیس کی مد میں وہی رقم وصول کر لی جائے۔ اور جو بچے سمجھ دار نہ ہوں، اُن کے سرپرست کے ہاتھ میں رقم دی جائے، پھر وہ سرپرست اُس رقم سے بچے کی فیس ادا کرے،یہ طریقہ درست ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكاً) لا إباحةً، كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).

وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما، ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ، كما في المحيط قهستاني."

(کتاب الزكاة، ج: 2، ص: 344، ط:  سعید)

وفیه أیضا:

(قوله: إذا وكله الفقراء)؛ لأنه كلما قبض شيئًا ملكوه وصار خالطًا مالهم بعضه ببعض، ووقع زكاة عن الدافع". 

(کتاب الزكاة، ج: 2، ص: 269، ط:  سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں