
ہمارے یہاں پودوں (نرسری) کا کاروبار ہوتا ہے، پاکستان میں پودے باہر سے امپورٹ کرنے پر پابندی ہے، لیکن کچھ نرسری والے ایئرپورٹ کے ذریعے بیگز میں بیرونِ ملک سے غیر قانونی طور پر پودے لاتے ہیں، عام طور پر ایسے کاموں میں رشوت وغیرہ بھی دی جاتی ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں ایسے نرسری والوں کے ساتھ کمیشن پر کام کر سکتا ہوں؟
میں ان کے پودے ان کی طرف سے فروخت کرنا چاہتا ہوں مثلاً: میں ان کے پیج سے ویڈیوز بنا کر اشتہار چلاؤں گا (اشتہار کا خرچ وہ دیں گے)۔
میں کسٹمرز سے ڈیل کروں گا، اور آرڈر پیک کر کے بھیجوں گا، اور پیکنگ کا خرچ بھی وہی برداشت کریں گے ۔
اس کے بدلے میں مجھے کل سیلز پر 10% کمیشن ملے گا ۔
مزید یہ کہ میں بعض پودے ان کو بتاکران کی بتائی ہوئی قیمت سے زیادہ پر بھی فروخت کرتا ہوں، تو اس اضافی منافع کا کیا حکم ہے؟نیز اگر میں ان کو نہ بتاؤ تو کیا میں کمیشن کے ساتھ وہ اضافی رقم بھی رکھ سکتا ہوں؟
اس طرح وہ نرسری والے آپس کے مقابلے اور لاگت بازی کی وجہ سے کم قیمت پر (مناسب منافع رکھ کر) پودے بیچتے ہیں ،تو کیا یہ عمل درست ہے؟
کیا میں نرسری والوں کو یہ مشورہ دے سکتا ہوں کہ یہ پودے زیادہ فروخت ہو رہے ہیں، اس لیے انہیں مزید باہر سے منگوا لیں، جبکہ ان کا بیرونِ ملک سے لانا غیر قانونی طریقے سے ہوتا ہے؟
میں کسٹمرز سے ڈیلیوری چارجز بھی لیتا ہوں، لیکن وہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے،مثلاً 1500 روپے کے پودے پر میں 300 روپے ڈیلیوری لیتا ہوں، جبکہ ممکن ہے اصل خرچ 250 روپے ہو، اور بعض اوقات مجھے خود بائیک پر جا کر پودا کوریئر آفس (مثلاً TCS) میں جمع بھی کروانا پڑتا ہے۔ اس صورت میں اضافی رقم لینے کا کیا حکم ہے؟ اور مجھے کسٹمر کو کس حد تک واضح بتانا چاہیے، جبکہ ہر بار ایک جیسا خرچ بتانا ممکن نہیں ہوتا؟
واضح رہے کہ حکومتِ وقت کا قانون اگر شریعت سے متصادم نہ ہو اور عوام کے مفاد میں ہو تو اس کی پاپندی سب شہریوں پر لازم ہے،کیونکہ کسی بھی ملک کا رہنے والا در حقیقیت اس ملک کے قانون کی پاپندی کا معاہدہ کرتا ہے،اور معاہدہ کو پورا کرنا دیانۃً ضروری ہوتاہے۔
غیر قانونی طریقے سے اشیاء در آمد کرنے میں چونکہ اس معاہدے کی خلاف ورزی،اپنی عزت و آبرو کو خطرہ میں ڈالنا،رشوت دینا لازم آتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں دوسرے ممالک سے غیر قانونی طور اشیاء در آمد کرنا جائز نہیں ،البتہ اس سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی۔
آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
کمیشن پر کام کرنا فی نفسہ جائز ہےلیکن اگر قانونا اس غیر قانونی درآمد شدہ اشیاء میں کمیشن پر کام کرنا ممنوع ہو،عزت و آبرو کو بھی خطرہ ہو یا رشوت دینی پڑتی ہو تو اس سے بھی اجتناب کیا جائے،البتہ اس سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی۔
باقی نرسری والوں کا باہمی مقابلے کی وجہ سے کم منافع رکھ کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا جائز ہے۔
نرسری والوں کو مزید پودے منگوانے کا مشورہ دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
کسٹمر سے ڈلیوری چارجز لینا جائز ہے،البتہ دھوکہ دہی اور جھوٹ کے ذریعہ اصل رقم سے زائد رقم لینا ناجائز ہوگا،بہتر یہ ہے کہ یا تو حقیقی لاگت وصول کی جائے یا پھر اس اصل قیمت میں مناسب ڈلیوری چارجز شامل کرکے فری ہوم ڈلیوری کی ترتیب اپنائی جائے۔
یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ سائل اگر ان پودوں کی ویڈیوز بناکر اشتہار چلاتا ہے،تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ویڈیوز میں جاندار کی تصویر نہ ہوں۔
بخاری شریف میں ہے:
"عن سعيد بن أبي الحسن قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما: إذ أتاه رجل فقال: يا ابن عباس، إني إنسان، إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا. فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح۔"
(كتاب البيوع،باب بيع التصاوير التي ليس فيھا روح و ما يكره من ذلك،ج: 1،ص: 612،ط:بشرى)
ترجمہ:حضرت سعید ابن ابو الحسن تابعی کہتے ہیں کہ ایک دن میں ابن عباس رضی اللہ عنہماکی خدمت میں حاضر تھا کہ ناگہاں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا ابن عباس رضی اللہ عنہما میری معاشی زندگی کا انحصار میرے ہاتھوں کی محنت مزدوری پر ہے جن کے ذریعہ میں یہ تصویریں بناتا ہوں (اب سوال یہ ہے کہ میں کیا کروں کیونکہ شریعت نے اس پیشہ کو حرام قرار دیا ہے اور کوئی دوسرا پیشہ مجھے آتا نہیں کہ جس کے ذریعہ اپنی روزی کا انتظام کروں تو کیا اس مجبوری کے تحت میرے لئے یہ پیشہ جائز ہے یا نہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے جب یہ دیکھا کہ تصویر کشی کے کام سے اس شخص کا تعلق سخت نوعیت کا ہے اور شاید میرے منع کرنے سے باز نہ آئے( تو انہوں نے اس کے سامنے آنحضرت ﷺ کی حدیث بیان کی، چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے اس بات کے علاوہ اور کوئی بات بیان نہیں کروں گا جس کو میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے تو تم توجہ سے سنو کہ) میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تصویر سازی کرے گا اللہ تعالی اس کو عذاب میں مبتلاء رکھے گا یہاں تک کہ وہ اس تصویر میں روح پھونک دے، در آنحالیکہ وہ اس تصویر میں ہر گز روح نہیں پھونک سکے گا۔ اس شخص نے یہ وعید سن کر بڑا گہرا سانس لیا اور اس کا چہرہ خوف کی وجہ سے پیلا پڑ گیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے (اس کی یہ حالت دیکھی تو) فرمایا کہ تم پر افسوس ہے اگر تم اس تصویر کشی کے پیشہ کے علاوہ دوسرے پیشوں ( کو قبول کرنے سے) انکار کرتے ہو کیونکہ تم کوئی اور پیشہ جانتے ہی نہیں تو ایسا کرو کہ ان درختوں کی اور ان چیزوں کی تصویریں بنانے لگو جو بے جان ہیں۔(مظاہر حق)
مشکوۃ شریف میں ہے:
"عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه. قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق.رواه الترمذي وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب."
(كتاب الدعوات،باب جامع الدعاء،الفصل الثالث،ج: 2،ص: 771،ط: المكتب الإسلامي)
ترجمه:حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :مؤمن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرے، صحابہ نے عرض کیا کہ :اپنے آپ کو ذلیل و خوار کس طرح کرتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا : ایسی بلا ئیں اپنے سر لے لے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا(مظاہر حق)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب."
(كتاب القضاء،فصل في الحبس،مطلب طاعة الإمام واجبة،ج: 5،ص: 422،ط: سعيد )
وفیہ ایضا:
"وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."
(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،مطلب في أجرة الدلال،ج: 6،ص: 63،ط: سعيد )
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
" ما يباع محمولا على الحيوان كالحطب والفحم تكون أجرة نقله وإيصاله إلى بيت المشتري جارية على حسب عرف البلدة وعادتها."
(الكتاب الأول في البيوع،الباب الخامس،الفصل الرابع،المادة 291،ص: 58،ط: نور محمد)
وفيه ايضاً:
"كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال."
(الكتاب العاشر،الباب الثالث،الفصل الأول،المادة 1192،ص: 230،ط: نور محمد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101127
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن