
ایک مسلمان شخص کے پاس انجیل کا ایک قدیم نسخہ موجود ہے، جو چمڑے پر سونے سے لکھا گیا ہے، یہ انجیل اس نے ایک دوسرے شخص سے خریدی تھی، جس کی ملکیتی زمین سے یہ انجیل برآمد ہوئی تھی۔ اب عیسائی لوگ اس شخص سے یہ انجیل خریدنا چاہتے ہیں اور اس کے بدلے میں نوے کروڑ روپے دینے کو تیار ہیں۔
سوال یہ ہے کہ:
(1) کیا اس شخص کے لیے مذکورہ انجیل عیسائیوں کو فروخت کرنا جائز ہے؟
(2) اگر عیسائیوں کو فروخت کرنا جائز نہیں، تو کیا کسی مسلمان کو یہ انجیل فروخت کی جا سکتی ہے؟
(3) اگر وہ شخص مالی طور پر کمزور اور غریب ہو، اور اسے پیسوں کی سخت ضرورت ہو، تو کیا ایسی صورت میں شرعاً کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟
واضح رہے کہ عیسائیوں یا دیگر غیر مسلموں کو انجیل یا ان کی کوئی اور مذہبی کتاب فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں ان کے باطل مذہب کی ترویج اور تقویت ہے، اور یہ ان کے باطل مذہب پر جمے رہنے کا سبب بنتا ہے، جس کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح عام مسلمانوں کو بھی غیر مسلموں کی مذہبی کتابیں(تورات یا انجیل وغیرہ) فروخت کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس سے ان کے فتنہ اور گمراہی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ البتہ اگر کوئی مسلمان محقق یا کوئی معتبر تحقیقی ادارہ خاص علمی اور تحقیقی مقصد کے تحت غیر مسلموں کی کوئی مذہبی کتاب خریدنا چاہے، اور اس کا مقصد محض تحقیق، تقابلِ ادیان یا ردِّ باطل ہو، تو ایسی صورت میں ایسے شخص یا ادارے کوغیر مسلموں کی مذہبی کتابیں فروخت کرنے کی شرعاً گنجائش ہوگی۔
(1) لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے لیے سونے سے لکھی گئی انجیل کا قدیم نسخہ عیسائیوں کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔
(2) اسی طرح عام مسلمانوں کو بھی مذکورہ انجیل فروخت کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی معتبر مسلمان محقق یا کوئی قابلِ اعتماد تحقیقی ادارہ خاص علمی اور تحقیقی مقصد کے لیے مذکورہ انجیل خریدنا چاہے، اور اس کے بارے میں یہ اندیشہ بھی نہ ہو کہ وہ اس انجیل کو آگے کسی غیر مسلم کو فروخت کرے گا، تو ایسی صورت میں ایسے شخص یا ادارے کو مذکورہ انجیل فروخت کرنے کی گنجائش ہوگی۔
(3) اگر وہ شخص واقعۃً شدید مالی تنگی میں مبتلا ہو، اور اس کے پاس کوئی اور جائز ذریعۂ آمدن موجود نہ ہو، تو بھی مذکورہ بالا حکم میں کوئی فرق نہیں آئے گا، کیوں کہ حرام یا ناجائز ذریعۂ آمدن محض فقر و غربت کی بنا پر حلال نہیں ہوتا۔ البتہ ایسی مجبوری کی حالت میں شرعاً یہ راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ:
(1) مذکورہ انجیل کسی معتبر تحقیقی ادارے یا کسی ایسے عالم کو فروخت کر دے، جو اسے خالص علمی اور تحقیقی مقصد کے لیے استعمال کرے۔
(2) یا وہ مذکورہ انجیل سے سونے کو کسی مناسب طریقے سے الگ کر لے، اور پھر اس سونے کو فروخت کر دے۔
شرح السیر الکبیر للإمام السرخسی میں ہے:
"وإذا أصاب المسلمون غنائم فكان فيها مصحف لا يدرى أن المكتوب فيه توراة أو إنجيل أو زبور أو كفر، فليس ينبغي للأمير أن يبيع ذلك من المشركين، مخافة أن يضلوا به فيكون هو المسبب لفتنتهم وإصرارهم على الكفر، وذلك لا رخصة فيه، وكذلك لا يبيع من مسلم.لأنه لا يأمن أن يبيع ذلك منهم أيضا فيضلوا بسببه. وكذلك لا يقسم بين الغانمين. لأنه لا يأمن على من وقع في سهمه أن يبيعه من المشركين فيضلوا بسببه...ولكنه ينظر في ذلك. فإن كان لورقه قيمة محي الكتاب وجعل الورق في الغنيمة...وإن أراد شراءه رجل ثقة من المسلمين يؤمن عليه أن لا يبيعه من المشركين، فلا بأس بأن يبيعه منه الإمام. لأنه مال متقوم. ولهذا لو باعه جاز بيعه، إلا أن كراهة بيعه لخوف الفتنة، وذلك ينعدم ها هنا. فهو نظير بيع العصير ممن يعلم أنه لا يتخذه خمرا...ولو وجدوا في الغنائم صليبا من ذهب أو فضة أو تماثيل، أو دراهم، أو دنانير فيها التماثيل، فإنه ينبغي للإمام أن يكسر ذلك كله فيجعله تبرا. لأنه لو قسمه أو باعه كذلك، ربما يبيعه من يقع في سهمه من بعض المشركين بأن يزيدوا له في ثمنه رغبة منهم في لباسه، أو في أن يعبدوه. فليتحرز عن ذلك بكسر الصليب والتماثيل."
(أبواب الأنفال، باب ما يحمل عليه الفيء إلخ، ج:3، ص:141، ط:دار الکتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"قال محمد رحمه الله إذا أصاب المسلمون غنائم، وكان فيما أصابوا مصحف فيه شيء من كتب اليهود والنصارى لا يدري أن فيه توراة أو زبورا أو إنجيلا أو كفرا، فإنه لا ينبغي للإمام أن يقسم ذلك في مغانم المسلمين، ولا ينبغي أن يحرق بالنار وإذا كره إحراقه ينظر بعد هذا إن كان لورقه قيمة، وينتفع به بعد المحو والغسل بأن كان مكتوبا على جلد مدبوغ أو ما أشبه ذلك، فإنه يمحى ويجعل الورق في الغنيمة، وإن لم تكن لورقه قيمة، ولا ينتفع به بعد المحو بأن كان مكتوبا على القرطاس يغسل وهل يدفن وهو على حاله إن كان موضعا لا يتوهم وصول يد الكفرة إليه؟ يدفن، وإن كان موضعا يتوهم وصول يد الكفرة إليه لا يدفن وإن أراد الإمام بيعه من رجل مسلم، فإن كان الذي يريد شراءه ممن يخاف عليه أن يبيعه من المشركين رغبة منه في المال يكره بيعه منه وإن كان موثوقا به، ويعلم أنه لا يبيعه من المشركين، فلا بأس ببيعه منه...قال: وإن وجدوا في الغنيمة قلائد ذهب أو فضة فيها الصليب والتماثيل، فإنه يستحب كسرها قبل القسمة، وإن أراد بيعها من رجل إن كان الذي يريد شراءها موثوقا به لا يخاف عليه بيعها من المشركين، فإنه لا بأس بالبيع منه وإن كان غير موثوق به، ويخاف عليه بيعها من المشركين، فإنه يكره بيعها منه."
(کتاب السير، الباب الرابع في الغنائم وقسمتها، الفصل الثاني في كيفية القسمة، ج:2، ص:215، ط:دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100449
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن