بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم سے مدد لینے کا شرعی حکم


سوال

ہمارا ایک فلاحی ادارہ کمیٹی کی سطح پر ہے جو حکومت سندھ کی طرف سے رجسٹرڈ ہے اور یہ  ایک فلاحی ادارہ ہے  اور اس کو قانونی حیثیت حاصل ہے ،اور ہمارا کام یہ ہے کہ  ہم عہدیدار اور مالدار لوگوں سے مل کر لوگوں کی مدد کرتے ہیں مثلا کسی کے علاج و معالجہ کی غرض سے اور کسی کی ملازمت کے حوالے سے اور کسی کا کوئی مقدمہ ہو تو اس حوالے سے بھی اس کی مدد کرتے ہیں ،ہمیں اس میں مختلف لوگوں سے ملنا ہوتا ،خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو کوئی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتاہو تو چونکہ وہ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو اس لیے ہمیں ان سے ملنا پڑتاہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم فلاحی ادارہ کے تحت لوگوں کی خدمت کےلیے اس طرح کے لوگوں سے مل کر معاونت لے سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں فلاحی ادارہ کے تحت  غیرمسلم سے معاونت  لینا جائز ہے ،البتہ غیر مسلم سے معاونت لینے میں اس بات کا خیال  رکھناضروری ہے کہ اس  میں اسلام یا مسلمانوں کی تذلیل و تحقیر نہ ہو ،اسی طرح دینی نقصان کا بھی اندیشہ نہ ہو ۔

  روح المعاني میں ہے:

"واستدل بها على أنه لا ينبغي ‌الاستعانة ‌بالكافر وهو في أمور الدين كجهاد الكفار وقتال أهل البغي مما ذهب إليه بعض الأئمة ولبعضهم في ذلك تفصيل، وأما الاستعانة بهم في أمور الدنيا فالذي يظهر أنه لا بأس بها سواء كانت في أمر ممتهن كنزح الكنائف أو في غيره كعمل المنابر والمحاريب والخياطة ونحوها، ولعل أفرض اليهودي أو الكلب قد مات في كلام الفاروق رضي الله تعالى عنه لعد ما استخدم فيه من الأمور الدينية أو هو مبني على اختيار تفصيل في الأمور الدنيوية أيضا."

  (سورة الکهف،ج:8،ص:281،ط:دار الكتب العلمية)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"تجوز الاستعانة في الجملة بغير المسلم، سواء أكان من أهل الكتاب أم من غيرهم في غير القربات، كتعليم الخط والحساب والشعر المباح، وبناء القناطر والمساكن والمساجد وغيرها فيما لا يمنع من مزاولته شرعا."

(حرف الألف،ألإستعانة،ج:4،ص:18،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج میں ہے:

"والحاصل من مجموع الأحاديث أن الأمر في الاستعانة بالمشركين موكول إلى مصلحة الإسلام والمسلمين فإن كان يؤمن عليهم من الفساد وكان في الاستعانة بهم مصلحة فلا بأس بذلك إن شاء الله تعالى إذا كان حكم الإسلام هو الظاهر ويكون الكفار تبعًا للمسلمين عنهم غنى أو كانوا هم القادة والمسلمون تبعًا لهم أو يخاف منهم الفساد فلا يجوز الاستعانة بهم."

 (کتاب الجهادوالسیر،باب عدد غزوات النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم... وكراهة الاستعانة بالكافر في الغزو،ج:19،ص:430،ط:دار المنهاج)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101136

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں