بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کی رہائش اور ان سے صلہ رحمی کا شرعی حکم


سوال

اس وقت جو پاکستانی مسلمان امریکہ میں مستقل رہائشی ہیں،اور امریکن شہری کہلاتے ہیں ،نماز،روزہ،حج،زکوٰۃکی ادائیگی کا بھی اہتمام کرتے ہیں ،ان کے بچے قرآن پڑھتے ہیں ،اور حفظ بھی کرتے ہیں،لیکن امریکہ اور اس کے صدرکی کھلی شیطانیت اور بدمعاشی اور مسلمانوں کا خون چوسنے کے باوجود اس کی تعریف کرتے ہیں ،کہ امریکہ کا صدر اپنے ملک کے لوگوں کے لئے بہت اچھا ہے اور خود اس ملک کے لوگ یعنی شہری ہیں ۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ

1:امریکہ میں ان کا رہنا جائز ہے ؟جب کہ وہ آسانی سے واپس آسکتے ہیں۔

2:کیا پاکستان میں ان کے رشتے داروں کا ان سے تعلق رکھنا ٹھیک  ہے؟

3:کیا ان کے پاکستان میں چند دن کے لیے آنے پر ان سے ملنا جلنا جائز ہے؟

جواب

1: جو لوگ  غیر مسلم ممالک میں اپنے دین و ایمان اور اسلامی اخلاق و اقدار کی حفاظت کرتے ہوئے رہتے ہوں، ان کے  لیے وہاں رہناجائز ہے۔

2، 3:  خاندان والوں کا ان سے تعلق رکھنا جائز ہے،محض مذکورہ وجہ کی بنا  پر ان سے قطع تعلق  جائز  نہیں ہے ۔

صحيح مسلم  میں ہے:

"حدثنا قتيبة بن سعيد بن جميل بن طريف بن عبد الله الثقفي ومحمد بن عباد قالا: حدثنا حاتم (وهو ابن إسماعيل )، عن معاوية (وهو ابن أبي مزرد مولى بني هاشم ) حدثني عمي أبو الحباب سعيد بن يسار ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن الله خلق الخلق حتى إذا فرغ منهم ‌قامت ‌الرحم، فقالت: هذا مقام العائذ من القطيعة قال: نعم أما ترضين أن أصل من وصلك، وأقطع من قطعك قالت: بلى قال: فذاك لك. ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرؤوا إن شئتم {فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم * أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم * أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها ."

(كتاب البر والصلة والآداب.،باب صلة الرحم، وتحريم قطيعتها،ج:8،ص: 7،رقم:2554،ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)

ترجمہ:"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:کہ اللہ تعالیٰ نے جب تمام مخلوق کو پیدا کر لیا، تو رحم (یعنی رشتہ داری) کھڑی ہو گئی اور عرض کیا:'یہ اس کا مقام ہے جو قطعِ تعلق سے بچنے کے لیے پناہ مانگتا ہے۔'اللہ تعالیٰ نے فرمایا:'کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ جو تم سے تعلق جوڑے، میں بھی اس سے تعلق جوڑوں، اور جو تم سے تعلق توڑے، میں بھی اس سے اپنا تعلق توڑ دوں؟'رحم(رشتہ داری) نے کہا: 'پروردگار! بے شک میں اس پر راضی ہوں، پرووردگار نے فرمایا: اچھا تو وعدہ تیرے لیے  ثابت وبرقرار ہے“۔'پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اگر تم چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو"فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم أولئك الذين لعنهم الله فأصمهم وأعمى أبصارهم  أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها ۔"

مشکاۃ المصا بیح میں ہے:

"وعن جبير بن مطعم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يدخل الجنة قاطع . متفق عليه"

ترجمہ :"اور حضرت جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قطع رحم کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔" (بخاری ومسلم )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101601

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں