
میں نے آپ کا وہ فتویٰ پڑھا ہے جس میں غیر اسلامی ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنے، اور غیر مسلم ممالک میں مستقل طور پر بسنے، وہاں مستقل نوکری کرنے اور خاندان کو ہمیشہ کے لیے منتقل کرنے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اس نیت سے چند سال (مثلاً 4 سے 5 سال) کے لیے بیرونِ ملک جائے کہ وہاں محنت کرکے کچھ سرمایہ جمع کرے، پھر واپس اپنے اسلامی ملک آ کر اپنے معاشی مسائل حل کرے، مشترکہ خاندانی نظام سے نجات حاصل کرے، اپنا الگ گھر اور نظامِ زندگی قائم کرے، اور اپنی آئندہ زندگی یہی گزارے، اور دوران سفر وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرتا رہے، اپنے دینی فرائض (نماز، روزہ وغیرہ) کی پابندی بھی کرتا رہے، تو کیا ایسی نیت کے ساتھ بیرونِ ملک جانا اور کام کرنا جائز ہے؟
غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا فی نفسہ ناجائز نہیں ہے، جامعہ سے جاری شدہ فتاویٰ میں اسے علی الاطلاق ناجائز نہیں لکھا گیا، بلکہ دیگر عوارض و احوال کے پیشِ نظر حکم کی مختلف نوعیتیں لکھی گئی ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں آپ نے جن احوال و کیفیات کے ساتھ رہائش کا ذکر کیا ہے، ان کے مطابق آپ کے لیے وہاں رہائش اختیار کرنا جائز ہے۔ فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101572
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن