بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیرمسلم معذور و بیمار افراد کی خدمت پر مامور مسلمان ملازم کا اُن کو شراب و حرام کھانا فراہم کرنا


سوال

اگر کسی شخص کی نوکری اس قسم کی ہو کہ اُس میں معذور لوگوں کی مدد و نصرت کرنے کا کام کرنا پڑتا ہو، مثلاً اُن کے گھر کی صفائی کرنا، جسم کی صفائی کرنا،گندگی پھینکنا، کپڑے پہنانا ، کھانابنانا، یا گرم کر کے دینا اور دوائی وغیرہ دیناجیسے امور ہوں، اور بساواقات کافر لوگ ہوں تو اُن کے لیے حرام کھانا  اور شراب وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتاہویا گندگی صاف کرتے ہوئے اُس میں شراب کی بوتلیں بھی کچرےمیں پھینکنی ہوں تو ایسی ملازمت کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

بصورت مسئولہ معذور و بیمار افراد کے جسم و گھر کی صفائی ستھرائی ، اور کھانا اور دوائی وغیرہ کے انتظامات کی ملازمت میں شرعاً کوئی خرابی نہیں ہے، بشرطیکہ اِس دوران کسی ناجائز کام میں معاونت کی نہ جائے، لہذا  دورانِ ملازمت کھانے کی تیاری میں اگر حرام کھانا تیار کرنے یا تیار شدہ حرام کھانا فراہم کرنے کی نوبت آرہی ہو یا شراب کا انتظام کرنے کی ذمہ داری ڈالی جائے تو یہ شرعاً ناجائز ہے، خواہ یہ انتظام کافر کے لیے ہی کیوں نہ ہو؛ کیوں کہ مسلمان کے لیے جن اشیاء کا استعمال ناجائز ہے، اُسی طرح کسی دوسرے کے لیے اُن حرام اشیاء کے استعمال میں معاون بننا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اور اِس حرام کام کے عوض جس قدر تنخواہ وصول ہو وہ بھی حرام ہوگی۔

لہذا ایسا ملازم اولاً متبادل مکمل حلال روزگار کی کوشش کرے، یا جس ادارے سےتعلق ہو اس کی انتظامیہ سے درخواست کرے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے اُس کے لیے شراب اور حرام کھانافراہم کرناممکن نہیں ہے، تاکہ وہ ایسے کام  کی ذمہ داری نہ ڈالیں، اور حرام اشیاء کی فراہمی پر حاصل ہونے والی رقم  اگر وصول کرلی گئی ہو تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردیا جائے، تاہم جو پیسے حلال امور کے عوض ملیں، ان کا استعمال جائز ہے۔

نیز مذکورہ شخص اگر شراب و حرام کھانا وغیرہ کا انتظام نہ کرے البتہ صفائی وغیرہ کے دوران شراب کی بوتلیں پھینکنے کی نوبت آئے تو شرعاً اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

" عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌في ‌الخمر ‌عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له."

(سنن الترمذي، أبواب البيوع، باب النهي عن أن يتخذ الخمر۔۔،2 / 580، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت) 

ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے شراب کے بارے میں ان دس افراد پر لعنت فرمائی ہے: شراب نچوڑنے والا، جس کے لیے شراب نچوڑی جائے، شراب پینے والا، اور شراب کو اٹھا کر لے جانے والا، اور جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی جائے، اور شراب پلانے والا، اور شراب بیچنے والا، اور اس کی قیمت وصول کر کے کھانے والا، اور اسے خریدنے والا اور جس کے لیے خریدی جائے‘‘۔

فتاویٰ شامی ميں ہے:

(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر) لا عصرها لقيام المعصية بعينه.

وفي الرد:"(قوله وحمل خمر ذمي)قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه - عليه الصلاة والسلام - «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.... (قوله لا عصرها لقيام المعصية بعينه) فيه منافاة ظاهرة لقوله سابقا لأن المعصية لا تقوم بعينه ط وهو مناف أيضا لما قدمناه عن الزيلعي من جواز استئجاره لعصر العنب أو قطعه، ولعل المراد هنا عصر العنب على قصد الخمرية فإن عين هذا الفعل معصية بهذا القصد، ولذا أعاد الضمير على الخمر مع أن العصر للعنب حقيقة فلا ينافي ما مر من جواز بيع العصير واستئجاره على عصر العنب هذا ما ظهر لي فتأمل۔"

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، جلد:6، صفحه:391 - 392، طبع: سعيد)

وفيه ايضا:

"وما كان سببا لمحظور فهو محظور."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:350، ط:سعيد)

بذل المجہود میں ہے :

 "ومتفق عليه أن كل اُجرة تكون علی فعل المعصية تكون حراما."

(کتاب الإجارة ، باب في كسب الحجام ، 129/11، مكتبه :دارالبشائر- بيروت) 

وفيه ايضاّ :

‌"وأما ‌إذا ‌كان ‌عند رجل مال خبيث، فإما إن ملكه بعقد فاسد، أو حصل له بغير عقد، ولا يمكنه أن يردّه إلى مالكه، ويريد أن يدفع مظلمته عن نفسه، فليس له حيلة إلَّا أن يدفعه إلى الفقراء. ولكن لا يريد بذلك الأجر والثواب، ولكن يريد دفع المعصية عن نفسه."

( كتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، 1/ 359-360، ط:مكتبة دارالبشائر- بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں