بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے مرنے کے بعد ورثاء نہ ہونے کی صورت میں اس کے قرض کی ادائیگی کا حکم


سوال

میں نے ایک پارسی مذھب کے شخص سے 80ہزار روپے قرض لیے تھے، اس کا انتقال ہوگیاہے، وہ غیرِ شادی شدہ تھا، میں اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتاہوں، وہ جہاں رھتا تھا، وہ جگہ ختم ہوگئی ہے وہاں اب خالی زمین ہے۔

میری راہ نمائی فرمائیں کہ میں قرضہ کس طرح ادا کروں، اور کس کو ادا کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل پر لازم ہے کہ وہ اس شخص کے خاندان کے بارے میں مکمل تحقیق کرے کہ وہ کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور اس خاندان کے لوگ کہاں رہتے ہیں۔ اگر خاندان کا پتہ چل جائے تو اس شخص کے باپ، دادا، پردادا وغیرہ کی اولاد میں جو قریب ترین رشتہ دار ہو، اسے یہ رقم ادا کردے۔ اور اگر خاندان کا پتہ نہ چل سکے تو یہ رقم بیت المال میں جمع کرا دے، اور بیت المال موجود نہ ہو تو غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دے ۔

امداد الاحکام میں ہے:

"غیر مسلم قرضدار لاوارث مر جائے تو اس کا قرضہ کیسے ادا کیا جائے؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرعن متین  اس مسئلہ  میں کہ ایک مسلمان نے تخمینًا ساٹھ ستر  برس ہوئے ایک ہندو  سےدست گردان بلا تحریر قرض لیا،  قرض دینے کے تخمینًا ایک سال کے اندر وہ ہندو قرض دینے والا کسی دوسرے مقام کو چلا گیا،   اور وہیں مر گیا،  اب اس کا کوئی وارث نہیں ہے۔  قرض لیتے وقت کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ ہم کتنے دن میں ادا کر دیں گے۔  قرضدار مسلمان اپنا قرضہ جس کی تعداد 80 روپے ہوتی ہے ادا کرنے کو تیار ہے،  لیکن کس کو ادا کرے؟ قرض دینے والا لاوارث مر گیا ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ مسلمان قرضدار کے لیے کوئی چارہ کار یا تدبیر شرعی ایسی ہے کہ جس سے وہ مسلمان بار قرض سے سبک دوش ہو سکے؟

الجواب:اول تفتیش کامل ضروری ہے کہ یہ ہندو کس خاندان کا تھا،  اور اس خاندان کے لوگ کہاں رہتے ہیں،  اگر اس خاندان کا پتہ چل جائے ، تو اس ہندو کے باپ،  دادا ، پردادا وغیرہ کی اولاد میں جو شخص اس کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو اس کو یہ رقم ادا کر دی جائے اگر اس کے خاندان کا پتہ معلوم نہ ہو سکے تو سوال دوبارہ کیا جائے اور یہ پرچہ بھی واپس کیا جائے۔

قال فی العالمگيریة: الكفار يتوارثون فيما بينهم...الخ."

(کتاب الربا والقمار، باب القرض والدین، ج:3، ص:501/502، ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الكفار يتوارثون فيما بينهم بالأسباب التي يتوارث بها أهل الإسلام فيما بينهم من النسب والسبب."

(كتاب الفرائض، الباب السادس في ميراث أهل الكفر، ج:6، 454، ط: رشيدية)

وفیہ ایضًا:

"رجل غريب مات في دار رجل وليس له وارث معروف وخلف ما يساوي خمسة دراهم وصاحب الدار فقير لم يكن له أن يتصدق بهذا المال على نفسه؛ لأنه ليس بمنزلة اللقطة."

(كتاب اللقطة، ج:2، ص:295، ط: رشيدية)

وفیہ ایضًا:

"وما أخذ من تركة الميت الذي مات، ولم يترك وارثا أو ترك زوجا وزوجة، وهذا النوع يصرف إلى نفقة المرضى، وأدويتهم وهم فقراء، وإلى كفن الموتى الذين لا مال لهم، وإلى اللقيط وعقل جنايته، وإلى نفقة من هو عاجز عن الكسب."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، فصل ما يوضع في بيت المال من الزكاة، ج:1، ص:191، ط: رشيدية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101245

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں