بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم عدالت کے فسخِ نکاح کے فیصلے کے بعد مسلم جج کی طرف سے شوہر کو بلائے بغیر نئے فسخ نکاح کے فیصلے کا حکم


سوال

 موجودہ فسخ نکاح کا فتوی غیرمسلم جج نے دیا ہے ،جوکہ شرعی اعتبار سے غیرمعتبر ہے، لہذا آپ حضرات سے معلوم کرنا ہے کہ اگر دوبارہ  تنسیخ نکاح کا مقدمہ مسلمان جج کو پیش کیا جائے تو کیا بغیر شوہر کو بلائے مسلم جج مذکورہ فیصلہ کو سامنے رکھ تنسیخ نکاح کا فیصلہ دوبارہ کردے تو کیا یہ شرعی طورپر معتبر ہوگا؟کیوں کہ اگر شوہر کو دوبارہ سماعت کے لئے  مسلم جج  بلائے تو دونوں فریقین میں جھگڑا ہونے کا قوی امکان ہے ۔

 

جواب

اگر کسی خاتون نے غیر مسلم عدالت میں تنسیخِ نکاح کا مقدمہ دائر کیا اور وہاں کے غیرمسلم  جج نے تنسیخِ نکاح کا فیصلہ صادر کیا تو ایسا فیصلہ شرعاً معتبر نہیں ہے؛اس لیے کہ غیر مسلم جج کو شریعتِ مطہرہ نے فسخِ نکاح کا اختیار نہیں دیا۔ لہٰذا وہ خاتون بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہی رہے گی۔

ایسی صورت میں میاں بیوی کے درمیان جو مسائل موجود ہیں، ان کے حل کے لیے سب سے پہلے دونوں خاندانوں کے سمجھ دار اور دیانت دار افراد کو بٹھا کر صلح و صفائی کی کوشش کی جائے، اگر اس کے باوجود بھی مصالحت کی کوئی صورت نہ نکلے، اور شوہر ظلم و تشدد کرتا ہو، نان و نفقہ نہ دیتا ہو، اور بیوی کے لیے عفت و پاکدامنی کے ساتھ زندگی گزارنا دشوار ہو جائے، تو عورت کو حق حاصل ہے کہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، شوہر پر لازم ہے کہ وہ معاملے کو لٹکانے کے بجائے عزت و احترام کے ساتھ طلاق دے کر عورت کو آزاد کردے، بیوی کو ایذاء پہنچانا اور بلاوجہ روک کر رکھنا شوہر کے لیے جائز نہیں، اگر شوہر طلاق نہ دے تو بیوی مہر کی معافی کے بدلے خلع پر آمادہ کرسکتی ہے۔

اور اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ ہی خلع پر راضی ہو، تو ایسی صورت میں مسلمان جج کی عدالت  سے شرعی ضوابط وہدایات  کےمطابق نکاح  فسخ  کرالیاجائے، فسخ نکاح کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ وہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں اپنے شوہر کے ظلم و ستم اور نان و نفقہ نہ دینے وغیرہ کی بنیاد پر فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر کرے، عدالت میں وہ پہلے شرعی گواہوں (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کے ذریعے نکاح کو ثابت کرے، پھر گواہی سے یہ بھی ثابت کرے کہ شوہر ظلم کرتا ہے، نان و نفقہ نہیں دیتاوغیرہ، اس کے بعد  مسلم عدالت شوہر کو طلب کرے گی ،اگر وہ آکر اصلاح پر آمادہ ہوجائے تو نکاح برقرار رہے گا، لیکن اگر وہ حاضر نہ ہو یا حاضر ہوکر بھی ظلم سے باز نہ آئے اور نان و نفقہ دینے پر تیار نہ ہو تو عدالت کو اختیار ہوگا کہ وہ نکاح فسخ کردے، اس صورت میں عدالتی فسخ کے بعد عورت عدت گزار کر دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔

مزید یہ بھی واضح رہے کہ اگر سابقہ فیصلے(غیرمسلم جج نے دیا ہے) کو سامنے رکھ کر کوئی مسلم جج  شوہر کو بلائے بغیر تنسیخِ نکاح کا فیصلہ کردے، تو وہ بھی شرعاً معتبر نہ ہوگا، کیونکہ فسخِ نکاح کے لیے قاضی کا شوہر کو عدالت میں بلانا اور اس کا مؤقف سنناایک ایسی شرط ہے، جس کے بغیر فسخِ نکاح کا فیصلہ غیر معتبر قرار پاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهٖ وَحَكَمًامِّنْ أَهْلِهَآ إِنْ يُّرِيْدَآ إِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ ٱللّٰهُ بَيْنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيْرًا ."(سورة النساء:35)

ترجمہ:"اور اگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہومرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہو عورت کے خاندان سے بھیجو ،اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بی بی کے درمیان اتفاق پیدا فرمادیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں "۔   (ازبیان القرآن)

دوسری جگہ ارشادِ  باری تعالیٰ ہے:

"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ ٱللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِ."(البقرة: 229)

ترجمہ: "سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ کرسکیں گے تو کوئی گناہ نہ ہوگااس(مال کے دینے)میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔"(ازبیان القرآن)

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"ولا تصح ولاية القاضي حتى يجتمع في المولى شرائط الشهادة كذا في الهداية من الإسلام، والتكليف، والحرية وكونه غير أعمى ولا محدودا في قذف ولا أصم ولا أخرس."

(كتاب أدب القاضي، ‌‌الباب الأول في تفسير معنى الأدب والقضاء وأقسامه وشرائطه، ج:3، ص:306، ط: رشيدية)

حیلۂ ناجزہ میں ہے:

"لیکن اگرکسی جگہ فیصلہ کنندہ حاکم غیر مسلم ہوتواس کافیصلہ بالکل غیر معتبر ہےاس کے حکم سے فسخ وغیرہ ہر گز نہیں ہوسکتا، (لأن الكافرليس بأهل للقضاء على المسلم كماهومصرح في جميع كتب الفقه.)حتٰی کہ اگررودادِ مقدمہ غیرمسلم مرتب کرےاورمسلمان حاکم فیصلہ کرے یابالعکس تب بھی فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔"

(ص: 31، ط: دار الاشاعت)

وفیہ ایضًا:

"وہ حکام جج وغیرہ جوگورنمنٹ کی طرف سے اس قسم کے معاملات میں فیصلہ کااختیار رکھتے ہیں اگر وہ مسلمان ہوں اور شرعی قاعدہ کے موافق فیصلہ کریں تو اُن کاحکم بھی قضائے قاضی کے  قائم مقام ہوجاتاہے اور اگر مسلمان نہ ہوں تواُن کا فیصلہ کالعدم ہےحتٰی کہ اگر کئی ججوں یاممبروں  کی کمیٹی فیصلہ کرے تو اُن سب کامسلمان ہوناشرط ہے اگر ایک جج یاممبر وغیرہ بھی غیرمسلم ہو توشرعًا فیصلہ معتبر نہیں۔

(ص: 171، ط: دارالاشاعت) 

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"غیر مسلم عدالت سے فسخ نکاح:

سوال [۱۳۸۵ ] : شوہر زوجہ کو نفقہ نہیں دیتا تھا، بیجا تنگ کرتا تھا ، اس مظلومہ نے اس بناء پر عدالت میں دعوئی دائر کر دیا اور فسخ نکاح کا مطالبہ کیا۔ عدالت کے غیر مسلم حج نے فسخ نکاح کا حکم سناد یا اور باقاعدہ فیصلہ کر دیا ۔ اب اگر ہم لوگ اس عورت کا عدت گزرنے پر دوسری جگہ نکاح کر دیں تو کوئی حرج تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلياً :

غیر مسلم جج کا فیصلہ فسخ نکاح میں شرعا کافی نہیں، یا تو شوہر سے طلاق حاصل کی جائے ، یا کسی مسلم حاکم سے با قاعدہ نکاح فسخ کرادیا جائے ، یا خلع کیا جائے۔ اس کے بعد عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح درست  ہوگا۔(1)

(1) گورنمنٹی علاقوں میں جہاں قاضی شرعی نہیں، ان میں وہ احکام جج مجسٹریٹ وغیرہ ۔ جو گورنمنٹ کی طرف سے اس قسم کے معاملات میں فیصلہ کا اختیار رکھتے ہیں۔ اگر وہ مسلمان ہوں اور شرعی قاعدہ کے موافق فیصلہ کریں تو ان کا حکم بھی قضائے قاضی کے قائم مقام ہو جاتا ہے مما فی الدر المختار :"ويجوز تقلد القضاء من السلطان العادل والجائر ولو كافراً، ذكره مسکین و غیره.لیکن اگر کسی جگہ فیصلہ کنندہ حاکم غیر مسلم ہو تو اس کا فیصلہ بالکل غیر معتبر ہے، اس کے حکم سے فسخ وغیرہ ہرگز نہیں ہو سکتا؛ لأن الكافر ليس بأهل القضاء على المسلم، كما هو مصرح في جميع كتب الفقه.

حتی کہ اگر رو داد مقدمہ غیر مسلم مرتب کرے اور مسلمان حاکم فیصلہ کرے یا بالعکس ، تب بھی فیصلہ نافذ نہ ہوگا ، اس طرح عنین وغیرہ کو مہلت تو مسلمان حاکم نے دی لیکن تفریق سے قبل دوسرا غیر مسلم حاکم آگیا اور اس نے تفریق کر دی یا بالعکس ، تو وہ تفریق صحیح نہ ہوگی، کیونکہ جس طرح فیصلہ کے لئے اہلیت قضاء شرط ہے اور نا اہل کا فیصلہ غیر معتبر ہے، اسی طرح نا اہل کے سامنے شہادت بھی نا کافی ہے۔"

(کتاب الطلاق، باب الفسخ والتفريق، ج:13، ص:173، ط:ادارۃالفاروق)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100948

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں