بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مقفل کمرے میں میاں بیوی کی ملاقات، خلوت صحیحہ کا حکم


سوال

میرا سوال خلوتِ صحیحہ سے متعلق ہے۔ اگر ایک نکاح شدہ جوڑا (جس میں ابھی رخصتی یا ہم‌بستری نہیں ہوئی) لڑکی کے گھر کے گیسٹ روم میں ملے، اور لڑکی کی والدہ کو علم بھی ہو کہ جوڑا مل رہا ہے اور وہی اپنی اجازت سے انہیں ملواتی ہوں۔ دروازے بند ہوں مگر لاک نہ ہوں، اس لیے ہر وقت کسی کے اندر آ جانے کا خوف رہے۔ والدہ وقفے وقفے سے (دستک دے کر اور اجازت کا انتظار کیے بغیر) کمرے میں داخل ہوتی رہیں، تاکہ جوڑے کو یاد دہانی ہو کہ کسی بھی وقت گھر کے دوسرے افراد بھی آ سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جوڑے کو ہر وقت اس بات کا ڈر ہو کہ والدہ  اندر آ سکتی ہیں، اور لڑکے کو بھی ہر وقت یہ خوف رہتا تھا کہ کوئی اندر نہ آ جائے، کیونکہ لڑکی کی والدہ وقفے وقفے سے اندر آیا کرتی تھیں۔ تو کیا ایسی صورت کو خلوتِ صحیحہ شمار کیا جائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ خلوۃِ صحیحہ کے ثبوت کے لیے یہ ضروری ہے کہ مرد و عورت ایسی محفوظ جگہ تنہا جمع ہوں جہاں ازدواجی تعلق قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی مانع موجود نہ ہو۔ اگر یہ ملاقات کسی کمرے میں ہو تو دروازے کی کنڈی یا لاک وغیرہ کا بند ہونا ضروری ہے۔

صورتِ مسئولہ میں نکاح کے بعد میاں بیوی کا لڑکی کے گھر کے گیسٹ روم میں ایسے  ملاقات کرنا جس میں دروازہ (کنڈی یا لاک) اندر سےمقفل نہ ہو، اور لڑکی کی والدہ وقفے وقفے سے بلااجازت یا معمولی دستک کے بعد کمرے میں آتی رہی ہوں،  تو ایسی ملاقات سے شرعاً خلوتِ صحیحہ ثابت نہیں ہوگی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي: كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل، ذكره ابن الكمال وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل.
وبقي منه عدم صلاحية المكان كمسجد وطريق وحمام وصحراء وسطح وبيت بابه مفتوح، وما إذا لم يعرفها..
(قوله: وحمام) أي بابه مفتوح، أما لو كان مقفولا عليهما وحدهما فلا مانع من صحتها كما لا يخفى فافهم. ... (قوله: وبيت بابه مفتوح) أي بحيث لو نظر إنسان رآهما، وفيه خلاف.
ففي مجموع النوازل: إن كان لا يدخل عليهما أحد إلا بإذن فهي خلوة. واختار في الذخيرة أنه مانع وهو الظاهر بحر. ووجهه أن إمكان النظر مانع بلا توقف على الدخول، فلا فائدة في الإذن وعدمه."

(کتاب النکاح، باب المھر، مطلب فی حط المھر والبراء منه، ج:3، ص:116-114، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والخلوة الصحیحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أوشرعا اوطبعا، كذا فی فتاوى قاضي خان...والمكان الذي تصح فيه الخلوة أن يكونا آمنين من اطلاع الغير عليهما بغير إذنهما كالدار والبيت كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان...وفي البيوتات الثلاثة أو الأربعة واحد بعد واحد إذا خلا بامرأته في البيت القصوى إن كانت الأبواب مفتوحة من أراد أن يدخل عليهما من غير استئذان لا تصح الخلوة وكذا لو خلا بها في بيت من دار وللبيت باب مفتوح في الدار إذا أراد أن يدخل عليهما غيرهما من المحارم أو الأجانب يدخل؛ لا تصح الخلوة، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب النکاح، الباب السابع فی المهر، الفصل الثانی فیما یتاکدبه المهر، ج:1، ص:304-306، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101770

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں